برطانوی عدالت میں دبئی کے شیخ المکتوم اور شہزادی حیا کے درمیان جاری مقدمے میں ایک اہم موڑ – Kashmir Link London

برطانوی عدالت میں دبئی کے شیخ المکتوم اور شہزادی حیا کے درمیان جاری مقدمے میں ایک اہم موڑ

لندن (کشمیر لنک نیوز) برطانوی ہائی کورٹ میں بچوں کی تحویل کے حوالے سے د بئی کے شیخ المکتوم اور انکی اہلیہ شہزادی حیا کے درمیان جاری مقدمے میں ایک اہم موڑ سامنے آگیا ہے۔ برطانوی ہائی کورٹ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دبئی کے حکمران شیخ محمد المکتوم نے اپنی سابقہ اہلیہ اردن کی شہزادی حیا کا فون ہیک کرنے کا حکم دے کر برطانوی نظامِ انصاف میں مداخلت کی ہے۔اس کے علاوہ عدالت کے مطابق طلاق اور تحویل کے کیس میں اُن کے وکلا بیرونیس فیونا شیکلٹن اور نک مینرز کے فونز پر بھی حملے کیے گئے۔

شہزادی حیا کا کہنا ہے کہ اس انکشاف نے اُنھیں خوف اور ’شکار بننے‘کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے۔ شیخ محمد نے اس ہیکنگ کے بارے میں علم ہونے کی تردید کی ہے لیکن ہائی کورٹ کا فیصلہ شیخ محمد کے لیے دھچکا ہے اور اپنے خاندان کی خواتین سے اُن کے رویے کے متعلق ایک نیا انکشاف ہے۔

عدالتی فیصلے میں اس ہیکنگ کو برطانیہ کے ملکی فوجداری قانون کی سلسلہ وار خلاف ورزی، بنیادی عمومی قانون اور یورپی کنوشن برائے انسانی حقوق، عدالت کی کارروائی اور ماں کے حقِ انصاف تک رسائی میں مداخلت اور سربراہِ مملک کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال قرار دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے فیملی ڈویژن کے صدر کے مطابق ماں (شہزادی حیا)، اُن کے دو وکلا، اُن کے پرسنل اسسٹنٹ اور اُن کے سکیورٹی عملے کے دو اہلکاروں کو جاسوسی کے سافٹ ویئر کے ذریعے یا تو کامیاب ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا یا پھر اس کی کوشش کی گئی۔ یہ سافٹ ویئر پیگاسس کہلاتا ہے اور ایک اسرائیلی کمپنی دی این ایس او گروپ کا ہے۔

عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ جاسوسی والد شیخ محمد کے ملازمین یا ایجنٹس نے کی اور یہ جاسوسی والد کے واضح یا اشارتاً حکم کے تحت کی گئی۔شہزادی حیا کی قانونی ٹیم کو اپنے فونز ہیک ہونے کا تب پتا لگا جب برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ اور قانون دان شیری بلیئر نے بیرونیس شیکلٹن کو ہنگامی طور پر فون کیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes