اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے پر پاکستان ہائی کمیشن لندن میں تقریب، صحافیوں کو تفصیلات سے آگاہی – Kashmir Link London

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے پر پاکستان ہائی کمیشن لندن میں تقریب، صحافیوں کو تفصیلات سے آگاہی

لندن (کشمیر لنک نیوز) پاکستان کی پارلیمنٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا بل منظور کرلیا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات سمیت 29 بلز پیش کیے گئے جو کہ کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔ انتخابی اصلاحات میں آئندہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا بل شامل ہے۔حکومت کی جانب سے ان بلز کی منظوری کو تاریخی قرار دیا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان ہائی کمیشن لندن مین ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صحافیوں کو بطور خاص دعوت دی گئی۔ اس موقع پر پاکستان ہائی کمشنر معظم احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا بھر میں پھیلے قریب 96 لاکھ پاکستانیوں کو انکا رائے دہی کا حق حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے موجودہ حکومت کے دور میں دل کھول کر زرمبادلہ وطن عزیز بھیجا جو انکی وطن سے بے لوث محبت کا ثبوت ہے۔ پاکستان ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کی جو روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کا منصوبہ شروع کیا ہے زیادہ سے زیادہ تارکین وطب پاکستانیوں کو اس سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے۔

واضع رہے پاکستانی پارلیمنٹ میں اس منظوری کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پاکستان کے تاریخ کا اہم دن ہے۔دوسری جانب اپوزیشن نے اہم قانون سازی عجلت میں کرنے اور اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لینے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک آوٹ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارے ماتھے کا جھومر اور سر کا تاج ہیں۔ ان کی محنت اور ایمانداری سے پاکستان کا نام روشن ہوا اور ہم چاہتے ہیں کہ اس پارلیمان میں انہیں نمائندگی ملے تاہم جس طرح موجودہ حکومت طریقہ کار اپنا رہی ہے وہ فراڈ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بیرون ملک اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے طریقہ کار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو نمائندگی ضرور دینی چاہیے اور اس کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا طریقہ کار بھی اپنایا جاسکتا ہے لیکن اس طرح ووٹ کا حق نہیں دینا چاہیے کہ کیلی فورنیا سے دیا گیا ووٹ سکھر سے نکلے۔

واضح رہے کہ عالمی کنسلٹنسی فرم نے نادرا کی جانب سے تیار کیے گئے آئی ووٹنگ سسٹم کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے ہیکنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ اس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نادرا کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے طریقہ کار کو محفوظ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انتخابی اصلاحات کے بل کے مطابق پاکستان میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام وضع کرے گا جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی سمندر پار رہتے ہوئے انتخابات میں اپنا حق رائے دہئی استعمال کر سکیں گے۔ وہ سمندر پار پاکستانی جن کے پاس نادرا کا شناختی کارڈ موجود ہے اور وہ مستقل یا عارضی طور پر بیرون ملک مقیم ہوئے 6 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہو۔

خیال رہے کہ سنہ 2017 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کو انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے ملک میں 35 حلقوں کے ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دینے کا کہا گیا تھا، جس کے تحت الیکشن کمیشن نے نادرا کی مدد سے انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کے انتظامات کیے۔ الیکشن کمیشن نے اس پائلٹ پروجیکٹ کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹنگ میں حصہ لینے کے حوالے سے اپنی جائزہ رپورٹ میں بتایا کہ 35 حلقوں سے تعلق رکھنے والے چھ لاکھ 31 ہزار سے زائد ووٹرز میں سے صرف 7364 ووٹرز نے خود کو ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹر کیا جبکہ 6233 نے ووٹ کاسٹ کیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes