خواتین اور ماں بچے کے حقوق کیلئے سرگرم اسٹیلا کریسی کو شیر خوار بچہ پارلیمنٹ میں لانے پر تنبیہ – Kashmir Link London

خواتین اور ماں بچے کے حقوق کیلئے سرگرم اسٹیلا کریسی کو شیر خوار بچہ پارلیمنٹ میں لانے پر تنبیہ

لندن (عمران راجہ) برطانوی دارالحکومت لندن کے شمال مشرق میں واقع پاکستانی و کشمیری اکثریتی حصے والتھم اسٹو سے منتخب ہونے والے ممبر پارلیمنٹ اسٹیلا کریسی کو بالآخر اپنا شیر خوار بچہ پارلیمنٹ میں لانے سے منع کردیا گیا۔ برطانیہ میں ماں اور بچے کے مزید حقوق کی جنگ لڑتی اسٹیلا کریسی کا ماننا ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے بہت سی ٹیلنٹڈ مائیں کچھ نہیں کرپاتیں اسلیئے انہیں مزید مراعات ملنی چاہئیں۔

گزشتہ روز برطانوی پارلیمنٹ کے ایک اہلکار نے خاتون رکن سٹیلا کریسی کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ اپنے ساتھ شیر خوار کو اسمبلی سیشن میں نہ لائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھنے برطانوی رکن پارلیمنٹ سٹیلا کریسی کو تین ماہ کے بچے کو اسمبلی سیشن میں لانے پر باقاعدہ تنبیہ کی گئی ہے۔ یاد رہے یہ وہی رکن پارلیمنٹ ہیں جنھوں نے اس سے قبل زچگی کے دوران خاتون رکن پارلیمنٹ کو تعطیلات دینے کی مہم بھی چلائی تھی اور وہ خواتین کے حقوق کی کافی سرگرم کارکن بھی ہیں۔

ساتھی رکان اسمبلی نے پارلیمنٹ اہلکار کی بچے کو اسمبلی میں نہ لانے کی ہدایت والی ای میل کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ انتظامیہ کو وضاحت دینا چاہیئے کیوں کہ اس سے قبل رکن اسمبلی کو اپنے شیر خوار بچے لانے کی اجازت تھی۔ایک اور رکن اسمبلی نے ٹوئٹ کیا کہ میں نے یہ جاننے کے لیے ای میل کی ہے کہ خاتون اراکین اپنے شیر خوار بچوں کو اسمبلی لاسکتی ہیں یا نہیں کیوں کہ اس سے پہلے مجھے کہا گیا تھا کہ اس کی اجازت ہے۔

یک اور رکن پارلیمنٹ ایلکس ڈیوس جونز نے ٹویٹ کیا کہ جب وہ 2019 میں منتخب ہوئیں تو وہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھیں اور ہاؤس آف کامنز کی اسپیکر لنڈسے ہوئل نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اپنے بچے کو ویسٹ منسٹر ہال کے مرکزی چیمبر میں دودھ پلا سکیں گی۔برطانوی حکومت نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ سینئر وزراء کے لیے زچگی کی 6 ماہ کی چھٹیاں متعارف کرائیں گے تاہم ارکان نے صرف وزرا کو سہولت دینے پر بل منظور کرانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes