شوق کا مول؛ امریکی شکاری نے پاکستانی مارخور کے شکار کیلئے ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر ادا کئے – Kashmir Link London

شوق کا مول؛ امریکی شکاری نے پاکستانی مارخور کے شکار کیلئے ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر ادا کئے

لندن (کشمیر لنک نیوز) شکار کے انتہائی شوقین ایک امریکی نے پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر چترال میں ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر کے عوض پاکستان کے قومی جانور مارخور کا شکار کیا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق لوئر چترال کی تھوشی مارخور کنزرونسی میں سال کے آخری دن امریکی شہری برائن کنسل ہارلن نے مارخور کا شکار کیا۔ محکمے کے مطابق یہ 2021 کا تیسرا شکار (ٹرافی ہنٹ) ہے۔ ان کے مطابق کشمیر مارخور کی عمر نو سال اور اس کے سینگوں کا سائز 45 انچ تھا۔ برائین اس سے قبل ٢٠١٩ میں بھی ایک لاکھ دس ہزار ڈالر کے عوض ایسا ہی شکار کرکے عالمی میڈیا کی نظروں میں آچکا ہے۔

واضع رہے خيبر پختونخوا کے علاقے چترال، کوہستان، گلگت بلتستان، پاکستان کے زيرِ انتظام کشمير اور صوبہ بلوچستان ميں مارخور کی کئی اقسام پائی جاتی ہيں۔ صوبے میں ریونیو اکٹھا کرنے کیلئے پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ سکیم کے تحت ہر سال مارخور کے شکار کے لیے 12 لائسنسز جاری کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال بھی چترال میں ایک امریکی شہری نے مارخور کا شکار کیا تھا۔ محکمہ تحفظ جنگلات کے مطابق یہ شکار 88 ہزار امریکی ڈالر کے عوض کیا گیا جبکہ 2020 میں بھی ایک شکاری نے نر مارخور کے شکار کے لیے ایک لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق شکار کے بعد محکمہ جنگلی حیات کے اہلکار شکار کیے گئے مارخور کے سینگ کی پیمائش کرتے ہیں جسے شکاری کے حوالے کیا جاتا ہے۔ شکاری سینگ کو بطور ٹرافی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ ان کے مطابق عموماً شکاریوں کی دلچسپی مارخور کے گوشت میں نہیں ہوتی۔ ٹرافی کی رقم کا 80 فیصد مقامی کمیونٹی پر خرچ کیا جاتا ہے۔ مقامی تنظیم کے ذریعے یہ رقم صحت، صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes