جگہ کی کمی یا کچھ اور، جاپان میں مسلمانوں کی لاشوں کو دفنانے کی بجائے جلانے کے واقعات بڑھنے لگے – Kashmir Link London

جگہ کی کمی یا کچھ اور، جاپان میں مسلمانوں کی لاشوں کو دفنانے کی بجائے جلانے کے واقعات بڑھنے لگے

لندن (اکرم عابد) اسے مرحوم کی بدقسمتی کہیں، پاکستان مشن کی بے حسی یا بیرون ممالک بسنے والوں کی آنکھیں کھولنے کی ایک مثال کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک شخص کو جاپان میں آخری رسومات کی بھی مہلے نہ ملی اور اسکی لاش کو روائیتی طریقے سے جلادیا گیا۔ مرحوم کی جاپانی بیوی نے اسکے کسی پاکستانی دوست کو مطلع کرنا بھی گوارا نہ کیا اور اپنوں سے پہلے ہی دور بدقسمت آخری وقت بھی کوئی دعا نہ لے سکا۔

تفصیلات کے مطابق راشد محمود نامی اس شخص کا تعلق پاکستان لاہور سے تھا جو کے جاپان میں شادی شدہ تھا جبکہ اس کی جاپانی بیوی کا کسی پاکستانی تنظیم یا مسلم کمیونٹی سے کوئی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ان کے قریبی دوست ملک نور اعوان اور جمیل بلال نے اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا جس پر انہیں پتہ چلا کہ ان کے انتقال کے بعد آخری رسومات جاپانی روایات کے مطابق ادا کی گئیں یعنی لاش کو جلا دیا (نذر آتش)گیا تھا۔

اس سانحے کا علم ہونے کے بعد سینئر پاکستانی شہریوں نور اعوان، عابد حسین، ملک یونس اور چوہدری انصار سمیت بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو جاپانی حکومت کے سامنے اُٹھائے تا کہ آئندہ کسی پاکستانی کی لاش کو جلایا نہ جائے۔ ایک اطلاع کے مطابق سفارتخانہ پاکستان تاحال جاپانی حکومت کو اس بات پر قائل نہیں کر سکا کہ کسی بھی پاکستانی شہری کی موت کی صورت میں جاپانی حکام پاکستانی سفارتخانے کو آ گاہ کریں۔

واضح رہے کہ جاپان میں مقیم پاکستانی کے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تقریباََ چھ ماہ قبل ایک اور پاکستانی شہری کی لاش کو مقامی انتظامیہ نے جلا دیا تھا جس کے بعد پاکستانی سفارتخانے نے کمیونٹی کو یقین دلایا تھا کہ وہ جاپانی حکومت سے بات کریں گے۔ جبکہ اپان میں بسنے والی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو حکومتی سطح پر اُٹھایا جائے بصورت دیگر پاکستانی سفارتخانے سے ہمیں کوئی امید نہیں ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes