معروف براڈ کاسٹر یاور مہدی کی یاد میں آن لائن ریفرنس کا انعقاد، خدمات کو خراج عقیدت – Kashmir Link London

معروف براڈ کاسٹر یاور مہدی کی یاد میں آن لائن ریفرنس کا انعقاد، خدمات کو خراج عقیدت

لندن (کشمیر لنک نیوز) پاکستان کے معروف براڈکاسٹر یاور مہدی کی یاد میں ایک پروگرام بیادِ یاور مہدی کا انعقاد کیا گیا جس میں بین الااقوامی معروف شخصیات نے شرکت کی اور معروف براڈ کاسٹر اور سوشل ورکر سید یاور مہدی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آن لائن منعقد ہونے والی اس تقریب میں ڈاکٹرپروفیسرشارب ردولوی انڈیا،عارف نقوی برلن جرمنی، افتخارعارف پاکستان، رضاعلی عابدی بی بی سی انگلینڈ، خوش بخت شجاعت پاکستان، عقیل عباس جعفری پاکستان، اویس ادیب انصاری پاکستان،زیڈ ایچ خرم پاکستان،عون عباس جعفری پاکستان اور یاور مہدی کے صاحبزادے سید حیدر مہدی نے خصوصی شرکت کی۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف نقاد اور شاعر پروفیسر شارب ردولوی نے یاور مہدی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یاور مہدی میرے پرانے دوستوں اور قریب ترین ساتھیوں میں سے تھے۔ لکھنو یونیورسٹی میں یاور مہدی اور ہم نے چکبسٹ سوسائٹی قائم کی۔ یاور مہدی کے خاموش طبع اورمنکسر المزاج شخصیت کے مالک تھے۔ یاور مہدی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی سب سے آگے تھے۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے معروف مصنف شاعر اور ڈرامہ نویس عارف نقوی نے یاور مہدی سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لکھنو یونیورسٹی کے ہمار ے بہت سے ساتھی ساتھ چھوڑ گئے یاور بھائی بھی ان میں سے ایک ہیں جس کا نہایت دکھ ہے۔ ذہانت، دوست نوازی، سب کا خیال رکھنا اور لوگوں کے کام آنا یہ یاور مہدی کی وہ خصوصیات تھیں جو ہمیشہ لوگوں کے ذہنوں پر نقش رہیں گی۔

برطانیہ میں مقیم معروف براڈ کاسٹر رضا علی عابدی نے یاور مہدی کی شخصیت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ، اس قیامت خیز لہر میں کتنے ہی جواہر بہہ گئے اور کتنے دکھ دیتے گئے، سب کے جانے کا افسوس ہے۔ جانے والوں میں کچھ قریب تھے اور کچھ دور،لیکن جو جو بھی گیا اس کا شدید دکھ ہوا۔ یاور مہدی کا جانا ایسا لگا کہ جیسے اپنے خاندان کا کوئی فرد چلا گیا ہو۔یہ مراسم کی نوعیت نہیں تھی بلکہ یاور مہدی کی شخصیت کا کمال تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یاور مہدی نہایت ملنسار اور کمال کے انسان تھے۔ریڈیو پاکستان کے براڈ کاسٹنگ کے معاملات کو جس انداز میں یاور مہدی آگے لے کر چلے اُس کی مثال نہیں ملتی، لوگ جانتے ہوں گے کہ آرٹس کونسل کو موت آگئی تھی، وہاں سب ختم ہو گیا تھا، تاہم اس کے نصیب تب جاگے جب یاور مہدی اس کی انتظامیہ میں شامل ہوئے۔

پاکستان کے معروف ادیب افتخار عارف کا کہنا تھا کہ میری زندگی کو بنانے میں بنیادی کردار یاورمہدی کاہی ہے، کبھی اسلامیہ کالج میں کبھی نیشنل کالج، ہرجگہ یاورصاحب مجھے لیکرجاتے تھے اوراس طرح انہوں نے مجھے پورے شہرمیں متعارف کرایا۔، انکا کہنا تھا کہ ناصرف مجھے بلکہ آج کی دنیا کے بہت سے نامی گرامی ادیبوں شاعروں کے سر پو انکی شفقت کا سایہ رہا جسکی وجہ سے وہ کھل کر سامنے آسکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes