یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اکرام خان کی سوانح عمری ’’کیف جہد‘‘ کی تقریب رونمائی – Kashmir Link London

یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اکرام خان کی سوانح عمری ’’کیف جہد‘‘ کی تقریب رونمائی

لندن (اکرم عابد) اوورسیز پاکستانی اپنے قریبی عزیزواقارب کا بھی خیال رکھیں کیونکہ پاکستان میں ایسے حالات ہیں کہ بہت کم لوگ کسی مدد کے بغیر بہتر انداز میں زندگی گزار سکتے ہیں جب کہ اوورسیز پاکستانی اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ انہیں یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں آنے کا موقع ملا اور وہ ان ملکوں میں خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار برطانیہ کی ممتاز کاروباری شخصیت، یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس اور پاکستان کلچرل فائونڈیشن کے سابق چیئرمین اکرام خان نے سرے کے علاقے فاربری کے ایک چرچ میں اپنی سوانح عمری ’’کیف جہد‘‘ کی تقریب رونمائی کے دوران کیا۔

اس تقریب کا اہتمام تھرڈ ورلڈ سالیڈیرٹی کے چیئرمین ایلڈر مین مشتاق لاشاری او بی ای نے کیا تھا جب کہ ان کی معاونت محمد اعظم، شاہد ندیم اور تمکین ریاض نے کی۔ اکرام خان نے اپنی سوانح عمری میں1947ء میں انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آمد، 1961ء میں برطانیہ میں رہائش اختیار کرنے سمیت کئی ممالک میں اپنے سفر کی روداد بیان کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے2005ء میں آنے والے زلزلے اور قدرتی آفات کے دوران پاکستانیوں کے لیے اپنی خدمات کی مختصر انداز میں روداد بھی بیان کی ۔’ ’کیف جہد‘‘ میں انہوں نے یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس اور پاکستان کلچرل فائونڈیشن کے آغاز کے حوالے سے بھی اپنے خیالات قلمبند کیے ہیں۔ اس کے علاوہ برٹش پاکستانیوں کے ساتھ اپنی وابستگی، بیرسٹر صبغت اللہ قادری کیوسی مرحوم سمیت بعض دوستوں کے ساتھ اپنی دوستی کے سفر کو بھی مختصر انداز میں بیان کیا ہے۔ لندن میں کورونا وبا کی پابندیاں اٹھنے کے بعد بجاطور پر یہ ایک بڑی تقریب تھی جس میں قدآور ادبی، سیاسی ، ثقافتی شخصیات نے شرکت کی اور اکرام خان کی پاکستان اور تارکین وطن کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

اس تقریب میں ان کے قریبی دوست پروفیسر امین مغل، ناہید رندھاوا، بیرسٹر نسیم باجوہ، مظہر ترمذی، تنویر زمان خان، حبیب جان، ڈاکٹر جاویدشیخ، ڈاکٹر فرخ، اکرم قائم خانی، اکرام خان کی صاحبزادی نسیم خان، ایوب اولیا، سلیم زاہد، ڈاکٹر ہارون، قیوم خان اور دیگر شریک تھے جب کہ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں کرائیڈن کی سابق میئر مسز خان اور کیف جہد کی مولفہ سائرہ الطاف بھی شامل تھیں۔ اکرام خان نے کہا کہ وہ جب برطانیہ میں بطور طالب علم آئے تو انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس وقت برطانیہ میں ایشیائی لوگوں کی کمی تھی، اس لیے کھانے، پینے اور رہائش و ملازمت کے بہت سے مسائل تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کمیونٹی کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کی تاکہ آنے والوں کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں آنے والی پاکستانیوں کی پہلی اور دوسری نسل نے آنے والی نسلوں کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج اس ملک میں حلال فوڈ دستیاب ہے اور ہر شہر میں مساجد بھی ہیں اور پاکستانی کمیونٹی سینٹرز بھی ہیں ۔ اکرام خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رہنے والوں کو وہ مواقع دستیاب نہیں جو برطانیہ میں رہنے والوں کو حاصل ہیں۔ اس لیے برٹش اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کے عوام خصوصاً اپنے قریبی عزیزواقارب کی مدد کرنی چاہئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ اکرام خان نے اپنی ساری زندگی نہ صرف برٹش پاکستانیوں بلکہ پاکستان کے اندر رہنے والوں کے لیے بھی موقف کیے رکھی۔ انہوں نے2005ء کے زلزلے کے دوران خود پاکستان جاکر متاثرین کو نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ مالی معاونت بھی کی۔ انہوں نے سیلاب اور دوسری قدرتی آفات کے دوران بھی فنڈز اکٹھے کرکے پاکستان بھیجے، مقررین کا کہنا تھا کہ اکرام خان نے برطانیہ میں پاکستانیوں کی نئی نسل کو اپنے کلچر سے آگاہ کرنے کے لیے پاکستان کلچرل فائونڈیشن بنائی، اس کے علاوہ وہ فیض کلچرل فائونڈیشن کے بانیوں میں سے بھی ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں پاکستانی کلچر، ادب اور تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے کے لیے نمایاں طور پر کام کیا۔مقررین نے کہا کہ اکرام خان نے ہمیشہ پاکستان سے آنے والوں کی رہنمائی اور مدد کی۔ اس موقع پر اکرام خان نے اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنی سوانح عمری مختلف شخصیات کو پیش کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes