یاسین ملک کوئی ذاتی لڑائی نہیں لڑ رہے بلکہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز بنے ہوئے ہیں؛ مظاہرین – Kashmir Link London

یاسین ملک کوئی ذاتی لڑائی نہیں لڑ رہے بلکہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز بنے ہوئے ہیں؛ مظاہرین

لندن (عمران راجہ) برطانوی کشمیریوں کی کمپین جسٹس فار جموں کشمیر کے زیر اہتمام ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں بھارت سے یاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یاسین ملک چیئرمین جے کے ایل ایف کی غیر قانونی عمر قید اور دیگر سیاسی اسیران سمیت سب کی غیر مشروط رہائی کا فوری اعلان کیا جائے کیونکہ یسین ملک جموں کشمیر کے لوگوں کی قومی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے. یہ لڑائی اس کی زاتی نہیں ہے۔


مظاہرے میں لندن سمیت دیگر شہروں سے آئے ہزاروں کشمیریوں کے علاوہ سکھ کمیونٹی نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے دن کو ایک بجے پارلیمنٹ اسکوائر پر جمع ہوئے جہاں مقررین نے مظاہرین سے خطاب کیا جس کے بعد وہ مارچ کرتے ہوئے ڈائوننگ اسٹریٹ کے سامنے رک کر آزادی کے حق میں زبردست نعرے لگاتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن پہنچے، اس موقع پر پولیس نے ٹریفک کو بند رکھنے کیلئے خصوصی انتظامات کررکھے تھے۔

مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے سفارتی شعبہ کے ہیڈ پروفیسر ظفر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا یاسین ملک دہشت گرد نہیں بلکہ وہ آزادی کے سمبل ہیں۔بھارت نے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر انہیں سزا سنائی ہے لیکن اس اقدام سے تحریک آزادی کمزور نہیں بلکہ مزید تیز ہوگی۔ انکا مزید کہناتھا کہ بھارت اگر یہ سمجھنا ہے کہ وہ یاسین ملک کو جیل میں رکھ کر تحریک آزادی کو دبائے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔

شرکا کا کہنا تھا کہ یاسین ملک کشمیریوں کی آزادی کااستعارہ اور مقبوضہ کشمیر کے صورتحال مہذہب دنیا کیلئے شرمناک ہے انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا ہر کرپٹ ہونے والی تباہ کاریوں کی بات تو کرتا ہے لیکن انہیں کئی دھائیوں سے جاری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم نظر نہیں آتے، سکھ رہنمائوں کا کہنا ہے بھارت کے موجودہ حالات تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور مودی حکومت یاسین ملک کو پھانسی دلانے کی کوشش اس لئے کررہا ہے کہ حالات پر پردہ ڈالا جاسکے، کیونکہ بھارت کااقتصادی حالات بہت بگڑ چکے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes