کشمیر پرغاصبانہ بھارتی قبضے کے 73 سال، پاکستان ہائی کمیشن میں تصویری نمائش، شہدا کو خراج عقیدت – Kashmir Link London

کشمیر پرغاصبانہ بھارتی قبضے کے 73 سال، پاکستان ہائی کمیشن میں تصویری نمائش، شہدا کو خراج عقیدت

لندن (اکرم عابد) 27 اکتوبر 1947 کو کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف پاکستان ہائی کمیشن لندن نے ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا جس میں مقبوضہ کشمیر میں جیتے جاگتے کشمیریوں پر ڈھائے گئے بھارتی مظالم کو اجاگر کیا گیا، نمائش کا افتتاح پاکستان ہائی کمشنر معظم خان نے کیا۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ آج سے تہتر برس قبل بھارتی افواج نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ جما کر کشمیریوں پر مظالم کا جو سلسلہ شروع کیا وہ آج تک جاری ہے، کتنے نوجوانوں کو شہید کردیا گیا، کتنی مائیں بیوہ ہوئیں اور لاکھوں بچے یتیم ہوگئے، یہ مسئلہ آج بھی اقوام متحدہ میں انصاف کا منتظر ہے۔


انہوں نے بتایا کہ 73 سال سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے حق خودارادیت کیلئے کوشاں ہیں اور انکا عزم ہے کہ انکی قربانیوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انہیں انکا حق نہیں مل جاتا۔
تصاویر میں بھارتی قابض افواج کے کشمیریوں پر ظلم و ستم کو اجاگر کیا گیا تھا۔
پاکستان ہائی کمیشنر کا کہنا تھا کہ اس نمائش کا مقصد دنیا کو بتانا ہے کہ کشمیری بھی جیتے جاگتے انسان ہیں پھر کیوں دنیا کو ان پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے۔

تقریب میں کورونا وبا کی وجہ سے سماجی فاصلوں کا خاص خیال رکھا گیا، اس موقع پر کشمیری شہدا سے اظہار عقیدت کیلئے انکی تصاویر کے سامنے پھول بچھائے گئے۔
یہ نمائش سارا دن جاری رہی اور لوگ وقفے وقفے سے آکر اسے دیکھتے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے رہے۔
دریں اثنا کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے بھی پیغامات جاری کیئے اور اقوام عالم سے کشمیریوں پر روا رکھے گئے سلوک پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ ان ممبران پارلیمنٹ میں 2017 سے 2020 تک یورپی پارلیمنٹ میں لیبر لیر کے فرائض ادا کرنے والے رچرڈ کوربٹ، باٹلے سے ممبر پارلیمنٹ ٹریسی برابین، مشرقی لیڈز سے ممبر پارلیمنٹ رچرڈ برگن اور لیڈز ہی سے ممبر پارلیمنٹ ایلکس سوبیل شامل تھے۔


برطانوی پارلیمنٹیرینز کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیئے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے ظلم گزشتہ سال شروع نہیں ہوئے بلکہ انکا آغاز 27 اکتوبر 1947 کو اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب بھارتی افواج نے ان کی مادر وطن پر قبضہ کیا تھا۔
رچرڈ کوربٹ جو یورپی پارلیمنٹ میں آل پارٹی کشمیر گرپ کے شریک چیئرمین بھی رہ چکے ہیں نے کہا کہ کہ کشمیریوں پر مظالم اسلئے ڈھائے جارہے ہیں کہ وہ اپنے حق خودارادیت کیلئے ہمیشہ سرگرم رہے حالانکہ یہ انکا پیدائشی حق ہے جسے اقوام متحدہ بھی تسلیم کرتا ہے۔ ہمیں انڈیا کو باور کرانے اور اس پر دبائو ڈالنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک جمہوری ملک ہوتے ہوئے کشمیریوں کے جمہوری حق کی پاسداری کرے۔ اور یہ انڈیا کے اپنے لیئے بھی بہتر ہوگا کہ وہ اپنی توانائیاں کشمیریوں کو دبانے کیلئے اپنے ملک کی بہتری کیلیئے استعمال کرے۔


ٹریسی برابین ایم پی کا کہنا تھا کہ ہمیں علم ہونا چاہیئے کہ کورونا نے عام لوگوں کی زندگی مشکل کی ہوئی ہے جبکہ کشمیریوں پر اس عالم میں بھی ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، اپنے حلقے کے کشمیری عوام سے مجھے مقبوضہ کشمیر میں انکے رشتہ داروں کے حالت زار بارے آگاہی ملتی رہتی، میں امید رکھتی ہوں کہ کشمیری اس حالت سے جلد از جلد چھٹکارہ حاصل کرلینگے۔
کشمیریوں کے اکثریتی علاقے لیڈز سے منتخب دونوں ممبران پارلیمنٹ رچرڈ برگن ایم پی اور ایلکس سوبیل ایم پی کا کہنا تھا کہ حلقے کے کشمیری عوام کے مقبوضہ کشمیر میں رہائش پذیر رشتہ دار بے کسی اور جبر کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں، بھارت ناصرف انکے حق خودارادیت سے انکاری ہے بلکہ انہیں انسانی حقوق تک دینے سے انکاری ہے، انکا کہنا تھا کہ علیحدگی کے تہتر سال مکمل ہونے پر ہم بھارت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ انکا حق خودارادیت جلد دے گا اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو روکے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes