برطانیہ میں کورونا وبا کے دوران پناہ گزینوں سے مناسب طریقے سے نبٹا نہیں جاسکا، رپورٹ میں انکشاف – Kashmir Link London

برطانیہ میں کورونا وبا کے دوران پناہ گزینوں سے مناسب طریقے سے نبٹا نہیں جاسکا، رپورٹ میں انکشاف

لندن (اکرم عابد) کورونا وبا کے دوران جہاں اور بہت سے شعبوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کے تحت غیرمعمولی اقدامات کئے گئے وہیں برطانیہ میں پناہ گزینوں کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہ ہوسکے جسکی وجہ سے انکی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔


برطانوی پارلیمنٹیرینز نے بھی اس حقیقت کا ادراک کیا ہے کہ وبا کے دوران اسائلم سیکرز سے نمٹنے کا عمل ناقابل قبول ناکامی ہے۔ ہزاروں اسائلم سیکرز کو وبا کے دوران تیزی سے ملک بھر کے ہوٹلوں میں منتقل ہونے کے بعد ہوم آفس پر مکمل طور پر ناقابل قبول ناکامی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔


پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں کونسلوں، ہیلتھ سروسز اور ارکان پارلیمنٹ کو منصوبوں سے آگاہ کرنے میں ناکامی پر حکومت کے اہم ڈپارٹمنٹ پر سخت تنقید کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی رہنمائوں سے مشاورت کی کمی اور محدود معلومات کی فراہمی اس صورت حال کی وجہ ہے۔

پی اے سی کی چیئرپرسن میگ ہیلیئرکا کہنا تھا کہ سادہ الفاظ میں ہوم آفس لوکل اتھارٹیز اور ہیلتھ سروسز سے رابطوں میں مکمل طور پر ناقابل قبول حد تک ناکام رہا جبکہ انہوں نے سینکڑوں اسائلم سیکرز کو ہوٹلوں کی رہائش گاہوں میں منتقل کردیا۔
بعض کیسز میں کوویڈ19 سے متاثر ہونے والے افراد کو اتھارٹیز کو آگاہ کئے بغیر کسی اور بارو کونسلز میں منتقل کر دیا گیا اور رابطوں کی اس کمی پر کوئی معذرت بھی نہیں کی جاسکی۔


کمیٹی کو جن واقعات کی مثالیں پیش کی گئیں ان میں اگست میں کونسل کو آگاہ کئے بغیر کورونا وائرس کے ٹیسٹس مثبت آنے والے اسائلم سیکرز کو برمنگھم سے باہر لے جا کر ہیمر سمتھ، ویسٹ لندن کے ایک ہوٹل میں منتقل کئے جانے کا فیصلہ شامل ہے۔


رپورٹ کے مطابق وبا کے دوران تقریباً 9500 اسائلم سیکرز کو برطانیہ کے کم ازکم 90 ہوٹلوں پر منتقل کیا گیا۔ ستمبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ایک ہزار ایک سو چونسٹھ افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا جبکہ دوسو چھیاسٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes