بریگزٹ تکمیل کے پیش نظر برطانیہ کا دنیا بھر کے ہنر مند افراد کیلئے نئی امیگریشن پالیسی کا اجرا – Kashmir Link London

بریگزٹ تکمیل کے پیش نظر برطانیہ کا دنیا بھر کے ہنر مند افراد کیلئے نئی امیگریشن پالیسی کا اجرا

لندن (مبین چوہدری) برطانیہ نے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد دوباری سکلڈ امیگریشن کا اجرا کردیا ہے۔ جسکا اطلاق آئیندہ سال جنوری سے ہوگا تاہم خواہشمند افراد آج ہی سے آن لائین درخواست کا عمل شروع کرسکتے ہیں، نئے امیگریشن قوانین کے تحت دنیا بھر سے ویزے کے خواہش مند افراد خصوصی پوائنٹس سسٹم کے تحت ویزا حاصل کر سکیں گے۔

نئے امیگریشن سسٹم بارے برطانوی وزرا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ’’سادہ اور لچکدار‘‘ ہے، نئے امیگریشن قوانین کے تحت ویزے کے اجرا کیلئے نیا پوائنٹس سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔
اس سال کے آخر پر بریگزٹ کا عمل مکمل ہونے پر یکم جنوری کے بعد برطانیہ میں کام کرنے کی خواہشمند یورپی یونین اور دوسرے ممالک کے باشندوں کو آن لائن ویزا کیلئے رجوع کرنا ہوگا۔ اسکلڈ ویزا حاصل کرنے کی درخواست دینے والوں کیلئے جاب آفر انگریزی پر عبور اور کم از کم تنخواہ 25 ہزار 600 پائونڈز کی پیشکش کی شرائط رکھی گئی ہیں۔

وضع رہے نئے سال کے آغاز سے برطانیہ اور یورپ کے درمیان بغیر ویزا آمدورفت بند ہو جائے گی۔ جبکہ برطانیہ میں موجود یورپی افراد مستقل رہائشی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نئے امیگریشن قوانین کے تحت ویزوں کے لیے یورپ سمیت دنیا بھر سے ہنرمند افراد کو ترجیح دی جائے گی۔
آسٹریلوی طرز پر بنائے گئے نئے امیگریشن سسٹم کے تحت اسکلڈ ورکرز ویزا کی درخواست کا فیصلہ جاب آفر، متعلقہ شعبہ میں تعلیمی قابلیت اور کم از کم تنخواہ کی شرط پر پورا اترنے کے بعد ہوسکے گا۔
درخواست کا فیصلہ تین ہفتوں میں سنا دیا جائے گا۔ جبکہ آن لائین درخواست پر چھ سو دس پائونڈز سے لیکو چودہ سو آٹھ پائونڈز تک خرچہ آسکتا ہے۔

یورپی یونین کے ایسے شہری جو پہلے ہی برطانیہ میں مقیم ہیں انہیں 31 دسمبر کے بعد دوبارہ نئے سسٹم سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ البتہ وہ 30 جون 2021 تک ای یو سیٹلمنٹ اسکیم کے تحت رجوع کرسکیں گے۔ اگر ان کی درخواست دینی ہے تو وہ برطانوی شہریوں کی طرح بے روزگار ہونے کی صورت میں بینفیٹس کلیم کرسکیں گے۔
یورپی یونین کے ممالک اور دیگر ممالک سے آنے والوں پر مختلف قوانین کا اطلاق ختم ہوجائے گا۔ اگر کسی شخص کے پاس مستقل قیام کی اجازت نہیں ہوگی تو اسے جاب ختم ہونے کی صورت میں اپنے آبائی ملک واپس جانا ہوگا۔


نئے متعارف ہونے والے امیگریشن سسٹم کے تحت گلوبل ٹیلنٹ، اینووئیر اور اسٹارٹ اپ ویزے ایسے افراد کو دیئے جائیں گے جو کہ انجینئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی اور ثقافت میں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہونگے۔
پاکستانی امیگریشن ماہرین کا خیال ہے کہ نئی پالیسی سے پاکستانیوں کیلئے برطانیہ آنےکے متعدد مواقع پیدا ہوں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes