پاکستان نے 29 ویں ورلڈ میموری چیمپین شپ جیت لی، ذہانت میں چار نئے ورلڈ ریکارڈ بھی بنا ڈالے – Kashmir Link London

پاکستان نے 29 ویں ورلڈ میموری چیمپین شپ جیت لی، ذہانت میں چار نئے ورلڈ ریکارڈ بھی بنا ڈالے

لندن (عمران راجہ) پاکستانی وطن عزیز میں ہوں یا اوورسیز میں انہیں جب بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے تو وہ ایسے ایسے ورلڈ ریکارڈ بنا جاتے ہیں کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔
ورلڈ میموری چیمپئن شپ بھی ایسا ہی ایک معرکہ ہے جسے سر کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں لیکن پاکستانی نوجوانوں کی ٹیم نے 2019 میں جب اس مقابلے میں پانچ گولڈ میڈل حاصل کئے تو ایک امید بندھ گئی کہ تھی بس تھوڑی محنت اور اور پھر عالنی چیمپئن شپ ہماری، اس خواب کو پاکستانی ٹیم نے 2020 کے مقابلے میں تعبیر دیکر ملک و قوم کا نام روشن کردیا۔

نئے سال میں قوم کو شاندار کارنامے کا تحفہ دینے والی پاکستانی ٹیم نے ورلڈ میموری چیمپئن شپ میں 13میڈلز کے ساتھ ورلڈ میموری چمپئین کا اعزاز جیت لیا اور 4 ورلڈ ریکارڈ بھی توڑدیئے۔
پاکستان کی ایک نوجوان لڑکی ایما عالم نے سب سے زیادہ پوائنٹس لے کر ورلڈ میموری چمپئین شپ جیت لی۔ مقابلے میں 16ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد شرکا نے سب وینیوز کے توسط سے حصہ لیا تھا ، 3 دن تک جاری رہنے والے مقابلے میں 10سے زائد شعبوں میں مقابلے ہوئے۔

اس چمپئین شپ میں حصہ لینے والے ممالک میں پاکستان ، چین ، کینیڈا ، برطانیہ ، جنوبی کوریا ، ویتنام ، ہندوستان ، ملائیشیا ، الجیریا ، امریکہ ، ہانگ کانگ (چین) ، مکاؤ (چین) ، تائیوان (چین) ، لیبیا ، قطر اور عراق شامل تھے۔

اس کی کامیابی میں ورلڈ میموری سپورٹس کونسل ، ایشیا پیسیفک میموری سپورٹس کونسل ، نیشنل میموری اسپورٹس کونسل آف پاکستان اورگلوبل چیف آربیٹرمسٹر لیسٹر ہی کی کاوشیں شامل ہیں۔لیسٹر ہی ، ورلڈ میموری چیمپیئن شپ 2020 نے آن لائن اور بہ یک وقت مقابلوں کا طریقہ اپنایا تھا ، جہاں عالمی میموری ایتھلیٹ کمیونٹی نے 16 ممالک اور خطوں میں ہم آہنگی کے ساتھ مقابلہ کیا۔بہترین ، تیزترین اور انتہائی ذہانت پر مبنی میموری کی مہارت رکھنے والے امیدواروں نے اپنی فکری طاقت کا مظاہرہ کیا اور انسانی یادداشت کے ذریعے حاصل ہونے والی حقیقی کامیابیوں کی نئی بلندیاں طے کرنے کے لئے مقابلہ کیا۔

شرکا کی عمدہ کارکردگی کے باعث بہت سے عالمی ریکارڈز ٹوٹے اور نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ مقابلے میں 16 ممالک سے تعلق رکھنے والے متاثر کن 300 حریف شامل تھے اور اس وسیع فیلڈ سے ، 29 ویں ورلڈ میموری چمپئن شپ کی عالمی فاتح ، پاکستان ٹیم کی طرف سے سامنے آئی جس کی ثانیہ عالم نے انتہائی شاندار اور مہارت سے تربیت کی۔

ورلڈ میموری سپورٹس کونسل کے صدر ریمنڈ کین نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ 29 ویں ورلڈ میموری چیمپین شپ ایک روشن استثنیٰ تھی انکا کہنا تھا 2020 میں وبا کے پھیلائو کے دوران پاکستان کے لئے کھیلوں کی ایک بہترین کامیابی حاصل کرنے والی ایک منفرد ہیروئن ، اور عظیم الشان عالمی یادداشت چمپئین ، ایما عالم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

چمپئین شپ جیتنے والی ایما عالم نے بتایا کہ میں جیت کر بہت خوش ہوں۔ میں نے اپنے کوچ اور انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ پچھلے دو سالوں سے روزانہ کافی مشقوں کی مدد سے ڈبلیو ایم سی 2020 میں اپنی کارکردگی پیش کی۔ایما عالم کا کہنا تھا کہ یہ مقابلہ اب بھی مجھے حیرت میں ڈالتا ہے کہ انسانی یادداشت کا طریقہ کار کتنا طاقتور ہے اور دماغ کا لامحدود انفارمیشن اسٹوریج سسٹم کتنی وسعت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اور بہتر کارکردگی کے ساتھ اگلے سال دوبارہ مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔

ٹیم پاکستان کی ایک اور رکن عبیرہ اطہر نے 2020 کی عالمی درجہ بندی میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ ایما عالم اور ٹیم پاکستان کو انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن میموری ڈویلپمنٹ انٹرنیشنل (آئی ایچ ایم ڈی) کے تحت تربیت دی گئی تھی۔ ورلڈ میموری اسپورٹس کونسل (ڈبلیو ایم ایس سی) دنیا بھر میں مائنڈ سپورٹ آف میمور ی کے لئے گورننگ باڈی ہے۔ورلڈ میموری چمپئین شپ دماغی کھیلوں کا ایک شاندار ٹورنامنٹ ہے ، جہاں جسمانی کھیلوں کے مقابلہ میں دانشورانہ صلاحیتوں کی مہارت کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔

واضع رہے ورلڈ میموری چیمپین شپ کی بنیاد 1991 میں عالمی شہرت یافتہ ٹونی بوزان اور ریمنڈ کینی نے رکھی تھی جس کا مقصد انسانی یادداشت کی ناقابل یقین طاقت پر عالمی سطح پر روشنی ڈالنا تھی۔فوربس میگزئین کے مطابق آنجہانی ٹونی بزان دنیا کے ٹاپ 5 مقررین میں سے ایک تھے ۔ وہ 80 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی تھے جبکہ انہوں نے ذہنی خواندگی کے نظریہ کو مقبول بنایا ۔

50% LikesVS
50% Dislikes