برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر ایشو پر بحث مکمل، ممبران پارلیمنٹ کا مسئلہ حل کرانے کی ضرورت پر زور – Kashmir Link London

برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر ایشو پر بحث مکمل، ممبران پارلیمنٹ کا مسئلہ حل کرانے کی ضرورت پر زور

لندن (عمران راجہ) برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پرتفصیلی بحث مکمل، لوٹن نارتھ سے ممبر برطانوی پارلیمنٹ ایم پی سارہ اوون نے کشمیر کی تازہ صورتحال پر بحث کے لئے تحریک پیش کی تھی جس میں برٹش ممبران پارلیمنٹ نے بھرپور حصہ لیا، ایم پی سارہ اوون کا دیگر دس ممبران نے بھرپور حمایت کر کے کشمیریوں کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔

برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کے موقع پر حکومت کی جانب سے خارجہ امور کے وزیر نائجل آدم نے کی جبکہ اپوزیشن کی طرف سے لیبر پارٹی کے شیڈو وزیر سٹفین کنک نے نمائندگی کی۔ ایم پی سٹیفن کنک نے گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کشمیریوں کے ساتھ مل کر اس مسئلہ کو حق و انصاف کے مطابق حل کریں ۔ برطانوی وزرات خارجہ کے وزیر ایم پی نائجل آدم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت بھارتی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حالات بہتر کرنے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک بھارت اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کریں، حکمران جماعت کنزویٹو پارٹی کے 6 ممبران پارلیمنٹ نے بھی گذشتہ سال کے آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کے دورہ آزاد کشمیر، ایل او سی اور مہاجرین سے ملاقاتوں کا تفصیلی ذکر کر کے کشمیریوں کی حالت زار پر سخت تشویش کا اظہار بھی کیا۔ بحث میں حصہ لینے والے تمام ممبران پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر برطانوی حکومت فوری مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ ممبران پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے برطانیہ کی حکوکت کو خصوصی کردار ادا کرتے ہوئے برٹش کشمیریوں کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر حل کرانے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے۔

ایم پی سارہ اوون نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ملین سے زائد برٹش کشمیریوں اور دو کروڑ سے زائد ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کی آزادی اور حقوق اور بھارت اور پاکستان کے درمیان مستقل امن کے لئے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے کلیدی کردار ادا کرے۔ بحث میں ایم پی جیمز ڈیلی کنزرویٹو پارٹی، ایم پی بیری گارڈنر لیبر پارٹی، ایم پی کریسٹن ویکفورڈ کنزرویٹو پارٹی ، ایم پی جان سپیلر لیبر پارٹی ، ایم پی سارہ برٹکلف کنزرویٹو پارٹی ، ایم پی ناز شاہ لیبر پارٹی ، ایم پی رابی مور کنزرویٹو پارٹی ، ایم پی پال برسٹو کنزرویٹو پارٹی ، ایم پی جیم شینن ، ایم پی سٹیفن کنک لیبر پارٹی اور دیگر ممبران پارلیمنٹ نے بحث میں حصہ لیا اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تقاریر کیں اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق مسئلے کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا۔


بریڈفورڈ سے منتخب برٹش کشمیری ممبر پارلیمنٹ ناز شاہ نے بڑے دبنگ لہجے میں اس بحث میں حصہ لیا ان کا کہنا تھا کہ 2019 میں بھارت نے خصوصی اقدامات کرکے کشمیریوں کے بنیادی حقوق تک سلب کرلیئے اور افسوس کی ہم مذمت کے سوا کچھ نہ کرسکے۔ نازشاہ نے کہا 2015 سے 2020 کے دوران برطانیہ نے 50 ارب پائونڈ مالیت کا اسلحہ بھارت کو بیچا، یہی اسلحہ کشمیریوں کا خون بہانے میں استعمال ہوسکتا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ میں کشمیر کی ایک بیٹی ہونے کی حیثیت سے پوچھتی ہوں کہ وزیراعظم بورس جونسن نے بھارت کا دورہ تو ملتوی کیا ہے، کیا وہ اسلحہ بیچنا بھی بند کریں گے؟
ناز شاہ کا کہنا تھا کہ عالمی اداروںِ حکومتوں اور لیڈرز کو ہندوستان کو کشمیروں کی نسل کشی سے روکنا ہو گا، یہ امن کا وقت ہے ، کچھ نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

برطانوی پارلیمنٹ میں اس بحث سے قبل برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم نے برطانوی وزیر اعظم کو تین صفحے کا خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر دبائو بڑھائیں تا کہ مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقہ سے حل کرنے ، 5اگست کے بعد جو اقدامات اٹھائے گئے انہیں واپس لینے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری کے ذریعے حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ڈیبی ابراھم نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھائیں ۔ کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہندئووں کو آباد کر کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے جو کہ قابل مذمت اقدام ہے ، انہوں نے بھارتی و کشمیری جیلوں میں قید کشمیریوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ۔ آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کے سینئر وائس چیئرمین ایم پی عمران حسین نے بھی تجارت کے موضوع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنے ویڈیو خطاب کے ذریعے کہا کہ برطانیہ بھارت کے ساتھ مستقبل کے معاہدوں کو کشمیر میں انسانی حقوق کے ساتھ مشروط کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کرانے کے لئے تجارتی سطح پر بھی بات کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ چائنا اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر برھم ہوتا ہے تو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی برطانوی حکومت کو آواز بلند کرنی چاہئے ۔ اس موقع پر ایم ناز شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچوں پر مظالم کی تفصیلات مہیاء کیں اور برطانوی حکومت سے مطالبہ یا کہ وہ بھارت کو اسلحے کی سپلائی بند کرے جو کشمیریوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔

مسئلہ کشمیر پر بحث کی صدارت بریڈ فورڈ سے کنزرویٹو ممبر پارلیمنٹ ایم پی فلپ ڈیوس نے کی جبکہ کیتھلے سے ممبر پارلیمنٹ ایم پی رابی مور نے بھی اپنے حلقہ کے کشمیریوں کی بھرپور نمائندگی کی ۔ کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے دونوں شریک چیئرمین ایم پی جیمز ڈیلی اور ایم پی پال بریسٹو نے بھی اپنے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کی کھل کر حمایت کی۔ برمنگھم سے ایم پی جان سپیلر نے بھی اپنے مخصوص انداز میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور کشمیری عوام پر ظلم و تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔ دریں اثناء برطانوی پارلیمنٹ میں اس بحث کے انعقاد پر جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے عہدیداران نے تمام برٹش کشمیریوں ، کشمیری عوام کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر چیئرمین تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل راجہ نجابت حسین ، برطانیہ کی چیئرپرسن کونسلر یاسمین ڈار ، سردار عبدالرحمن خان ، محمد اعظم ، راجہ غضنفر خالق ،امجد حسین مغل ، ذیشان عارف ، ہیری بوٹا ، نائلہ شریف ، کونسلر صبیحہ خان ، آسیہ حسین ، شاہدہ جرال اور دیگر نے بحث کے لئے تحریک پیش کرنے والی ایم پی سارہ اوون اور بحث میں حصہ لینے والے ممبران پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes