لاک ڈائون میں اوورسیز پاکستانیوں کی سفری مشکلات میں کمی کی جائے؛ او پی ڈبلیو سی کا پاکستانی حکام کو خط – Kashmir Link London

لاک ڈائون میں اوورسیز پاکستانیوں کی سفری مشکلات میں کمی کی جائے؛ او پی ڈبلیو سی کا پاکستانی حکام کو خط

لندن (اکرم عابد) اوورسیز پاکستانیز ویلفئیر کونسل برطانیہ کیجانب سے وفاقی وزیر و چئیرمین نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر اسلام آباد ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ، سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان اور متعلقہ دیگر اداروں کو بذریعہ خط درخواست کی گئی ہے کہ برطانیہ سے ایمر جنسی سفر کرنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو کرونا وائرس وباء اور لاک ڈاؤن دورانیہ میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ترجمان او پی ڈبلیو سی کیمطابق ایسے تمام پاکستانی جو وزٹ ویزہ ، سٹوڈنٹ ویزہ اور ورک ویزہ ہولڈرز ہیں انہیں پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کی سہولت لاک ڈاؤن کے آغاز سے ہی میسر ہے۔

دوسرے مرحلہ میں برطانیہ میں قیام پذیر وہ تمام تارکین وطن جن کے پاس برٹش پاسپورٹ اود درست نائیکوپ کارڈ موجود ہے انکو این سی او سی اور سول ایوی ایشن کیجانب سے سفر کی باقاعدہ اجازت ہے۔
جبکہ برٹش پاسپورٹ پر پاکستانی ویزہ ہولڈرز کو سفری اجازت نہ ہے. اسی تسلسل میں ایسے تمام برٹش پاکستانی جن کے پاس نائیکوپ کارڈ تو موجود ہے مگر ایکسپائر ہے اور وہ کسی مجبوری ، بیماری ، بالخصوص فوتگی کی صورت میں میت کے ساتھ سفر کرنے کے خواہشمند ہیں وہ جیری کے ذریعے پاکستان ہائی کمیشن،قونصلیٹس یا آن لائن پاکستانی ویزہ حاصل کرنے کے باوجود سفر نہیں کرسکتے۔ لہذا ایسے افراد کیلئے جو دوہری نیشنیلٹی کے حامل ہیں انکے پاس ایکسپائر پاکستانی نادرا( نائیکوپ) موجود ہے انکے پاس کرونا ٹیسٹ کی نیگیٹیو رپورٹ بھی موجود ہے انہیں ایمرجنسی میں سفر کی جلد از جلد اجازت دی جائے۔

او پی ڈبلیو سی تنظیم نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر , فارن منسٹری اور سول ایوی ایشن سے ٹریول ایڈوائزری کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے تاکہ اورسیز کمیونٹی کیلئے بصورت ایمرجنسی سفری مشکلات میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ ترجمان او پی ڈبلیو سی کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے دو ہفتوں میں مانچسٹر اور لندن سمیت برطانیہ کے دیگر ائرپورٹس سے سینکڑوں ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے کئی ایسے مسافروں کو سفر نہ کرنے دیا گیا اور ائرپورٹس سے واپس بھیجا گیا جن کے چند افراد کے پاس نائیکوپ ویلڈ تھا مگر اسی خاندان کے باقی افراد کے پاس برٹش پاسپورٹ پر پاکستانی ویزہ تو موجود تھا مگر نادرا ( نائیکوپ) ایکسپائرڈ تھا۔مثلاً لندن سے ایک جوڑے کو جن کے پاس نائیکوپ تو موجود تھا مگر انکے چھ ماہ کے بچےکے پاس نائیکوپ کی بجائے برٹش پاسپورٹ پر پاکستانی ویزہ تھا مگر بچے کا نائیکوپ نہ ہونے کیوجہ سے وہ ایمر جنسی کے باوجود سفر نہ کرسکے۔ ان کیسز کی زیادہ تر تعداد میتوں کے ساتھ جانیوالے لواحقین کی ہے۔

ترجمان اوورسیز پاکستانیز ویلفئیر کونسل نے اوورسیز کمیونٹی کے مسائل کے حوالے سے کرونا وباء لاک ڈاؤن کے دورانیہ میں سہولیات بہم پہچانے اور کمیونٹی کیلئے آسانیاں پیدا کرنے پر سفیر پاکستان ہائی کمیشن لندن معظم احمد خان ، چاروں قونصلیٹس کے سی جیز ،پی آئی اے ،سول ایوی ایشن اتھارٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعلی افسران کی انتھک کاوشوں کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ بالا ادارے اور انکے اعلی افسران کرونا وباء کے اس کٹھن دورانیہ میں کمیونٹی کی مدد کر کے دُعائیں سمیٹ رہے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes