شہباز شریف کے بارے لکھے گئے الفاظ ہتک عزت کا باعث تھے، لندن میں ابتدائی سماعت کا فیصلہ – Kashmir Link London

شہباز شریف کے بارے لکھے گئے الفاظ ہتک عزت کا باعث تھے، لندن میں ابتدائی سماعت کا فیصلہ

لندن (مبین چوہدری) سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے برطانوی اخبار کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کی ابتدائی سماعت لندن ہائی کورٹ میں ہوئی جس میں ہتک عزت کی وضاحت پر فیصلہ سنادیا گیا جسکے مطابق اخبار کے مضمون میں لکھے گئے الفاظ شہباز شریف کی ہتک عزت کا باعث تھے۔

قبل ازیں ہتک عزت کی تعریف کو واضع کرنے لندن ہائی کورٹ نے ڈیلی میل اور میل آن سنڈے کے خلاف شہباز شریف اور انکے داماد عمران علی یوسف کی درخواستوں کی اکٹھی سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔
مدعی پارٹیوں نے اپنے الگ الگ کیسز میں الگ الگ وکلا کی جانب سے برطانوی اخبار کے خلاف دعوے دائر کررکھے تھے، عدلیہ کا ماننا تھا کہ کاروائی سے قبل ہتک عزت کی تشریح ضروری ہے، اس مقصد کیلئے گذشتہ سال پہلے بھی دو تاریخیں مقرر ہوچکی تھیں تاہم کام کے بوجھ اور کورونا وبا کی وجہ سے سماعت نہ ہوسکی۔

لندن ہائی کورٹ کے کوئین بنچ ڈویژن نے اب نئی تاریخ میں دونوں کیسز کی اکٹھی سماعت کا فیصلہ کیا، اس تشریح کی تکمیل کے بعد اب دونوں مدعی پارٹیاں فیصلہ کرسکیں گی کہ وہ اخبار کیساتھ اکٹھے کیس لڑنا چاہتی ہیں یا الگ الگ۔

لندن ہائی کورٹ کے جسٹس مکلین نے اس تشریح کا فیصلہ سنتاے ہوئے کہا کہ اخبار کے مضمون میں لکھے گئے الفاظ شہباز شریف کی ہتک عزت کا باعث تھے۔
ڈیلی میل کے وکلا کا کہنا تھا کہ کہ ڈیلی میل نے شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا براہ راست الزام نہیں لگایا، شہباز شریف پر تفصیلی شواہد کافی حد تک مفروضوں پر مبنی تھے لیکن ان کی بنیاد ان کا پرتعیش گھرہے۔
جبکہ شہباز شریف کے وکلا کا کہنا تھا کہ ڈیلی میل کا مضمون جھوٹ پر مبنی تھا، شہباز شریف نے ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی۔

شہباز شریف کے داماد علی عمران یوسف کے وکلا کا بھی کہنا تھا کہ انکے موکل نے کوئی کرپشن نہیں کی، ڈیلی میل نے بے بنیاد الزامات لگائے، عمران علی پر یہ الزامات، شہباز شریف کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے لگائے گئے۔

جسٹس میتھیو نکلین کا ماننا تھا کہ مضمون میں لگائےگئےمنی لانڈرنگ اورفراڈکےالزامات سنجیدہ نوعیت کےہیں۔ مضمون میں کہا گیا کہ منی لانڈرنگ ہوئی ہے، مضمون میں کہا گیا کہ متاثرین میں برطانوی ٹیکس دہندگان بھی شامل ہیں۔

اس ابتدائی سماعت کو سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنے رنگ میں رنگ رہا ہے جس پر برطانوی اخبار کے رپورٹر ڈیوڈ روز نے بھی ٹویٹ کرکے وضاحت کی کہ آج کے فیصلے کا تعلق کیس کے فیصلے سے نہیں ہے۔
جبکہ داخلہ کے پاکستانی مشیر شہزاد اکبر نے بھی حکومت کی طرف سے وضاحت کی کہ ہم کیس ہارے نہیں بلکہ یہ ابتدائی سماعت کچھ امور طے کرنے کیلئے کی گئی تھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes