اویغور مسلمانوں پر چین کے مظالم ناقابل تردید ہیں؛ برطانوی وکلا کی رپورٹ میں انکشاف – Kashmir Link London

اویغور مسلمانوں پر چین کے مظالم ناقابل تردید ہیں؛ برطانوی وکلا کی رپورٹ میں انکشاف

لندن (مبین چوہدری) برطانوی دارالحکومت لندن کے ایسکس کورٹ چیمبرز نے پہلی بار حقائق پر مبنی ایک ایسی رپورٹ شائع کی ہے جس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے شواہد کی روشنی میں واضع کیا گیا ہے کہ چین کے اویغور مسلمان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انکی نسل کشی کی جارہی ہے۔

ایسکس کورٹ چیمبرز کی دستاویز میں یں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق معقول دلیل موجود ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ ذاتی طور پر اس کارروائی کے ذمہ دار ہیں، جس کے تحت 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو حراستی مراکز کے ایک وسیع نیٹ ورک میں قید میں رکھا گیا ہے۔ قید میں رکھے جانے والوں میں اویغور اور دوسرے زیادہ تر مسلمان نسلی گروپوں کے لوگ شامل ہیں۔

اویغور ہیومن رائٹس پراجیکٹ، گلوبل لیگل ایکشن نیٹ ورک اور ورلڈ اویغور کانگریس کی مشترکہ کاوشوں سے سامنے آنے والی قانونی رائے کو سب سے پہلے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے رپورٹ کیا۔
اس قانونی رائے میں بتایا گیا کہ اقلیتی گروپوں کو کس طرح ‘غلامی، تشدد، ریپ، بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے جبری محرومی اور اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد کو طویل عرصے تک دباؤ میں رکھا جاتا ہے، انہیں مارا پیٹا جاتا ہے اور کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں دیا جاتا، انہیں زنجیریں پہنا کر آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے۔
قانونی ٹیم کے مطابق خواتین کو جبری طور پربانجھ بنانے کے وافر اور قابل بھروسہ شواہد موجود ہیں۔ خواتین کا حمل زبردستی ضائع کیا گیا۔ ٹیم کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات واضح طور پر نسل کشی کی کارروائی کی ایک شکل ہیں۔

رائے میں کہا گیا کہ ریاستی پالیسی کی مجموعی سمت صدر شی کے ہاتھوں میں ہے اور وہ اپنی کئی تقاریر میں اویغوروں کے ساتھ سزا پر مبنی سلوک کی حوصلہ افزائی کر چکے ہیں۔ چن اور زو نے بڑے پیمانے پر حراست اور نگرانی میں رکھنے سمیت مختلف طریقے وضع اور ان پر عمل درآمد کرکے مجموعی پالیسی پر عمل کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں ان تینوں افراد کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا معتبر کیس بنتا ہے۔ رائے پر مبنی اس رپورٹ کی تیاری میں چھ ماہ لگے، جس میں لمبے چوڑے شواہد کا جائزہ لیا گیا۔

مئی میں برطانیہ میں ایک ٹربیونل اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں نسل کشی کے مترادف ہیں یا نہیں۔ ٹربیونل کے لیے کام کرنے والے محققین عوامی سماعت شروع ہونے سے پہلے 1500 دستاویزات اور شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ عوامی سماعت سات مئی کو وسطیٰ لندن میں شروع ہو گی۔

دوسری جانب چین نے حسب معمول ایسے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حراستی مراکز دوبارہ تعلیم دینے کے لیے ہیں تاکہ علاقے میں معاشی و معاشرتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور شدت پسندی ختم کی جا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes