کیا نواز شریف کی ملک بدری ممکن ہے؟ برٹش پاکستانی کو حکومت سے اپنے سوال کا جواب مل گیا – Kashmir Link London

کیا نواز شریف کی ملک بدری ممکن ہے؟ برٹش پاکستانی کو حکومت سے اپنے سوال کا جواب مل گیا

لندن (مبین چوہدری) برطانوی وزیرلارڈ طارق نے حکومت کو موصولہ ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ برطانیہ میں موجود کسی بھی شخص کی ملک بدری اسکے کیس پر منحصر ہے، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ملک بدری ممکن ہے اور ایسا برطانوی قانون کے مطابق ہی ہوسکتا ہے۔

برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیا اوردولت مشترکہ لارڈ طارق احمد نے یہ بات لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اسٹیفن ٹمز کے ایک خط کے جواب میں کہی ہے۔
مشرقی لندن سے منتخب اسٹیفن ٹمز ایم پی نے اپنے حلقے کے ایک ووٹر کی ایما پر حکومت برطانیہ سے پوچھا تھا کہ کیا نواز شریف کو واپس بھیجنے کے انتظامات کئے گئے ہیں؟
لارڈ طارق احمد کے جواب جو انہوں نے ساتھی ایم پی اسٹیفن ٹمز کو بھیجا ہے میں لکھا ہے کہ گزشتہ سال 15دسمبر کو برطانیہ نے ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعےامیگریشن کی خلاف ورزی کرنے والے 18 افراد کو پاکستان واپس بھجوایا گیا تھا۔ خط میں مزید کہا گیا کہ وہ کسی مخصوص فرد بارے تبصرہ نہیں کرسکتے تاہم آپ کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ برطانیہ کی حکومت کسی کو پناہ نہیں دے رہی یا کسی کی مہمانداری نہیں کررہی اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو پاکستان واپس بھیجنے کے بارے میں درخواست ملک بدری کے عمومی طریقے سے ہوسکتی ہے۔

لارڈ طارق کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں ملزموں کے تبادلے کامعاہدہ نہ ہونے کے باوجود ملک بدری اب بھی ہوسکتی ہے اورہوئی ہے اگر مناسب ذریعے سے ملک بدری کی کوئی درخواست کی گئی تو اس پر برطانوی قانون کے مطابق غورکیاجائے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انکے آفس کی جانب سے آپ کے درخواست گذار کو الگ سے جواب بھجوادیا گیا ہے جس میں انکے استفسار پر انہیں بتادیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت پاکستان ہائی کمیشن لندن کی جانب سے بھیجے جانے والے ناقابل ضمانت وارنٹ کی بنیاد پر نواز شریف کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی۔
واضع رہے کہ اسٹیفن ٹمز نیوہیم کے جس حلقہ سے ممبر پارلیمنٹ ہیں وہاں پاکستانی، کسمیری اور بنگالی بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہ ایم پی انکی سنجیدہ درخواستیں بڑے اہتمام سے حکومت کو جواب دہی کیلئے بھجواتے رہتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes