اوورسیز پاکستانی ترقی یافتہ ممالک کا دس فیصد ہنر بھی پاکستان منتقل کردیں تو انقلاب آسکتا ہے؛ آن لائن ویبنار – Kashmir Link London

اوورسیز پاکستانی ترقی یافتہ ممالک کا دس فیصد ہنر بھی پاکستان منتقل کردیں تو انقلاب آسکتا ہے؛ آن لائن ویبنار

لندن (عدیل خان) سندھ بلوچستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے زیراہتمام ایک ویبنار کا اہتمام کیا گیا جس میں میں لندن سے حبیب جان، سویڈن سے زبیر حسین، پاکستان سے زبیدہ صمد اور ولی اللہ خان نے شرکت کی، شرکا کا کہنا تھا کہ فورم کا مقصد سندھ اور بلوچستان کے لئے ایسے پروجیکٹس متعارف کروانا ہے جو کہ مجموعی طور پر طویل مدتی اور دونوں صوبوں کے عام آدمی کے مفاد میں ہوں۔
شرکا کا کہنا تھا کہ ملکی ترقی میں اوورسیز پاکستانیوں کو کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ہمیں فقط چیریٹی نہیں بلکہ ایسے پراجیکٹس کی ضرورت ہے جن سے پاکستانی عوام کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروکار لاکر پاکستان کو ترقی کی راہ کی جانب گامزن کیا جاسکے۔
سوشل ورکر زبیدہ صمد کا ادارہ سوشل ڈیولپمنٹ اینڈ پاورٹی رڈکشن پہلے سے ہی صوبہ سندھ میں خدمات سر انجام دے رہا ہے، زبیدہ صمد کا کہنا تھا کہ ہم فلاحی کام جیسے فری میڈیکل کیمپ، راشن کی تقسیم وغیرہ سے باہر نکل کر کچھ اس طرح سوچیں جو غریب عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے، اسی سوچ کے تحت ہم نے سندھ بلوچستان انٹرنیشنل بزنس فارم کے ساتھ کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے کہ فقط چئیرٹی اور فلاحی کام نہیں بلکہ غریب عوام کو مختلف شعبوں میں ٹریننگ دے کر معاشرے کا فعال انسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
لندن کے سیاسی و سماجی رہنما حبیب جان کا کہنا تھا کہ اس پلیٹ فارم پر ہماری مجموعی کوشش یہ ہوگی کہ ہماری گلیاں، محلے بالکل اسی طرح ترقی کریں جس طرح پاکستان کے دیگر صوبوں میں ترقیاتی کاوشیں جاری ہیں، سندھ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم سندھ پر توجہ دیں گے تو یہاں پاکستان کا معاشی حب کراچی ترقی کرسکے گا اور اس کا براہ راست فائدہ پورے پاکستان کو ہوگا کیونکہ جب کراچی میں معیشت کا پہیہ چلتا ہے تو پاکستان کا ہر شہر، محلہ اور گلی چمکتا دمکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ کے معاشی تجربات سے اگر ہم فقط دو فیصد فائدہ بھی اٹھا سکے تو ہمارے لوگوں کی زندگی بدل جائے گی، ہماری کوشش ہے کہ کراچی کو ایکسپورٹ سٹی کا نام اور درجہ ملنا چاہئے، حبیب جان نے مزید کہا کہ انہوں نے سندھ بلوچستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے رہنما حلیم خان ترین کو جلد گوادر میں بلوچستان کے بیروزگار نوجوانوں میں کاروباری جستجو پیدا کرنے کیلئے لندن میں سیمینار منعقد کرنے کیلئے درخواست کی ہے۔
ایس ایم ای فاونڈیشن کے سربراہ ولی اللہ خان کا کہنا تھا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہم بیروزگار نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور ساتھ ہی چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت بلاسود قرض اور ایسے سازگار حالات مہیا کرے جس سے چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کو ملک میں کام کرنے میں آسانی میسر آسکے تو یقینی طور پر پاکستانی برآمدات کا حجم اور پیداواری قوت بڑھائی جاسکتی ہے، اگر مراعاتوں میں اضافہ کیا جائے تو ہماری مصنوعات دنیا بھر کی منڈیوں میں کم قیمت پر دستیاب ہوسکتی ہیں۔
پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ کے روح رواں زبیرحسین کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جسے ہم دیار غیر میں مقیم پاکستانی کاروباری حلقوں اور پاکستان میں موجود کاروباری کمیونٹی کے درمیان برج کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایسا شاید پہلی بار ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے سندھ اور بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے کوئی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، ان کا مزید ہم جو ترقی یا فتہ ممالک میں سیکھ رہے ہیں اس کا فقط دس فیصد بھی ہم اگر پاکستان منتقل کرسکیں تو پاکستان کی ترقی میں مزید بہتری لاسکتے ہیں، تعلیم اور صحت و صفائی سے لے کر اینرجی اور ویسٹ مینجمنٹ کے مختلف پراجیکٹس کے حوالے سے سندھ اور بلوچستان میں بہت جلد نئے پراجیکٹس لائے جائیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes