دہشت گردی کے اقدامات کو مسخرہ پن کہنے والے نوجوان پر جرم ثابت، 9 اپریل کو سزا سنائی جائے گی – Kashmir Link London

دہشت گردی کے اقدامات کو مسخرہ پن کہنے والے نوجوان پر جرم ثابت، 9 اپریل کو سزا سنائی جائے گی

لندن (عمران راجہ) لندن کی ایک عدالت نے تلوار سے دہشت پھیلانے والے نوجوان شیاب ابو کو جرم وار قرار دے دیا ہے۔ ستائس سالہ بیروزگار جنونی جہادی شیاب ابو کو دو پھل والی تلوار، ایک پوشیدہ ہیٹ اور جسمانی زردہ بکتر کے دہشت گردی کے حملے کیلئے تیار ہونے کا تاثر دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ملزم کو 9جولائی کو ایک خفیہ پولیس افسر کے ساتھ اسلحہ کے حوالے سے تبادلہ خیال کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

لندن کی اولڈ بیلی کی عدالت نے 21گھنٹے 32 منٹ تک مقدمے کی سماعت کے بعد ملزم کو الزامات کا مرتکب قرار دیا گیا۔ جیوری کے11ارکان نے ملزم کو دہشت گردی کی تیاری کرنے کا قصور وار اور ایک نے بے قصور قرار دیا۔
ملزم کے 32 سالہ بڑے بھائی محمد ابو کو حکام کو اس سازش سے آگاہ نہ کرنے کے الزام سے بری کردیا گیا، جس پر محمد ابو روپڑا اور اس نے روتے ہوئے کہا کہ اسکا بھائی مسخرہ ہے۔
فیصلہ سننے کے بعد کمانڈر رچرڈ اسمتھ نے کہا کہ ملزم شیاب ابو خود کو مسخرہ ظاہر کرتا ہے لیکن وہ انتہائی خطرناک شخص ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ شیاب آن لائن دکھائے جانے والے اسلحہ سے قتل وغارتگری کرنا چاہتا تھا اور اپنے بھائی سمیت دوسروں سے خیالات کا تبادلہ کر رہا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اس کے بعض رشتہ دار بھی ماضی میں انتہاپسندی میں ملوث تھے۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ شیاب برادران کو فیملی میں آن لائن یا جیل میں انتہا پسند بنایا گیا۔ اسمتھ نے کہا کہ کوئی بھی فرد نفرت اور عدم برداشت کے جذبے کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔
دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کے سوتیلے بھائی ویل اور سلیمان 2015 میں شام گئے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وہیں ہلاک ہوگئے۔ 2 سال بعد ملزم اپنے بڑے بھائی احمد اویس کے ساتھ ایسٹ لندن میں پوپی کے پوسٹر لگاتے پکڑے گئے تھے، اس پوسٹر میں لکھا تھا کہ برطانوی ٹیکس دہندگان کی رقم مسلمانوں کو قتل کرنے پر خرچ کی جارہی ہے۔
شیاب سائوتھ لندن میں چوری کے الزام میں سزا کاٹنے کے دوران معروف دہشت گردوں کے ساتھ شامل ہوگیا تھا، ان میں حسنین راشد بھی تھا، جسے 2018 میں کم از کم 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ شیاب کو گزشتہ سال 20 مارچ کو رہا کیا گیا تھا اور وہ جیل سے لاک ڈائون میں چلا گیا تھا۔ جیوری کو بتایا گیا کہ اس نے 3 ماہ تک انٹرنیٹ کو داعش کے پراپیگنڈے کیلئے استعمال کیا، جس میں جنگجوئوں کی تلواروں کے ساتھ تصاویر بھی دکھائی جاتی تھیں۔

ملزم نے بینیفٹ کی مد میں ملنے والے 400 پونڈ ماہانہ کو تلواروں، زردہ بکتر اور دیگر اسلحہ خریدنے پر خرچ کیا، جس میں 18 انچ کی ایک تلوار بھی شامل تھی جبکہ اس پر دھار تیز کرنے پر اضافی رقم خرچ کی۔ اس نے اپنے اس اسلحہ کے ساتھ گھرپر بنائی گئی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ کیمرے کے ساتھ یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ آپ مجھ سے کیا بات کرتے ہو، وہ اپنی کلھاڑی لہراتے ہوئے کہتا ہے کہ اپنا کام کرو اور کہا کہ وہ صرف جسمانی زرہ کا انتظار کر رہا ہے۔
ملزم نے لندن کے میئر صادق خان کو بکائو مال قرار دیا اور لی رگبی کے قتل کے حوالے سے بھی بات کی تھی اور کہا تھا کہ میں بہت سے لی رگبیوں کے سر سڑک پر لڑھکتے دیکھ رہا ہوں۔
اس نے آن لائن انتہاپسندانہ کمنٹس بھی لکھے، جس سے وہ داعش کے حامی گروپ کے چیٹ گروپ کے ذریعے خفیہ پولیس کے افسر کو اس طرف توجہ مبذول کیا۔ پولیس نے جب اس کی تلاشی لی تو اس کے گھر سے داعش کا ایک پرچم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزم شیاب نے تلوار اور دیگر سامان دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کے الزام کی تردید کی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ داعش کے ٹیلی گرام گروپ میں خواتین کی توجہ حاصل کرنے کیلئے شامل ہوا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ داعش سے نفرت کرتا ہے اور داعش سے اس کے رابطے کا مقصد اپنے سوتیلے بھائیوں کے بارے میں اطلاعات اور معلومات حاصل کرنا تھا۔
جرم ثابت ہونے کے بعد ابو شیاب کو اب 9 اپریل کو سزا سنائی جائے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes