مشرقی لندن میں مسلمان نوجوان ڈکیتی میں مذاحمت پر قتل، دیکھتے ہی دیکھتے ماں کے ہاتھوں میں دم توڑ گیا – Kashmir Link London

مشرقی لندن میں مسلمان نوجوان ڈکیتی میں مذاحمت پر قتل، دیکھتے ہی دیکھتے ماں کے ہاتھوں میں دم توڑ گیا

لندن (عدیل خان) برطانوی دارالحکومت لندن کے مشرقی حصے میں مسلم اکثریتی علاقے والتھم اسٹو میں ایک مسلمان نوجوان حسین چوہدری کے قتل پر پورا علاقہ سوگوار ہے اور اس بہیمانہ قتل پر سخت غم اور غصے کا شکار ہے۔

حسین چوہدری ایک ڈکیتی کے دوران اپنی والدہ کو بچاتے ہوئے دو سیاہ فام حملہ آوروں کے حملے کا نشانہ بنے اور گلے پر تیز دھار آلے کے وار کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی اپنی والدہ کے ہاتھوں میں دم توڑ گئے تھے۔

قانون کے پہلے سال کے طالب علم حسین چوہدری بدھ کے روز اس وقت حملے کا نشانہ بنے جب دو چاقو برداروں نے گھر کے سامنے ان کی والدہ سے سامان چھیننے کی کوشش کی۔ مقتول ماں کو بچانے کیلئے آگے بڑھے تو ان کی گردن پر وار کیا گیا جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ان کی والدہ اور بھائی بھی زخمی ہوئے تھے۔

مقتوب حسین چوہدری کی بہن عافیہ احمد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا میرا چھوٹا بھائی اسی طرح سے دنیا چھوڑ گیا جیسے دنیا میں آیا تھا، وہ میری ماں کی بانہوں کے جھولے میں تھا، وہ اپنے خاندان والوں کو بچاتے ہوئے دنیا سے گیا۔

مقتول حسین چوہدری کی یاد میں ان کے نام پر کئی فنڈریزنگ مہمیں شروع ہو چکی ہیں جن میں اسلامک سوسائٹی اور لندن سکول آف اورینٹل اینڈ افریقین سٹڈیز بھی شامل ہیں جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
ایک فنڈریزنگ مہم میں فیملی کے لیے ابھی تک 11000 پاؤنڈز سے زائد جمع ہو چکے ہیں۔ جن کو مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے مسجد کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

لندن میٹروپولٹن پولیس کے ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر پیری بنٹن نے علاقے کے مکینوں اور حملے کے وقت ہاں سے گزرنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈیش بورڈ اور دروازوں کے کیمروں کی ویڈیوز چیک کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک نوجوان نے افسوس ناک واقعے میں جان کھو دی ہے اور میں اس مشکل وقت میں ان کی فیملی کے غم میں شریک ہوں۔

50% LikesVS
50% Dislikes