پولیس کو مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مزید اختیار دینے کے مجوزہ قانون کے خلاف پرتشدد مظاہرے – Kashmir Link London

پولیس کو مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مزید اختیار دینے کے مجوزہ قانون کے خلاف پرتشدد مظاہرے

لندن (عمران راجہ) برطانیہ میں عوام کو کورونا پابندیوں کے دوران احتجاجی مظاہروں کی اجازت دینے اور عوام سے نبٹنے کے بل پر نئے ہنگامے پھوٹ پڑنے سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ برسٹل میں ہونے والے ایک مظاہرے میں دو پولیس افسران بھی زخمی ہوئے۔

پولیس کو مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مزید اختیار دینے کے مجوزہ قانون کے خلاف ہزاروں افراد کورونا کے باعث عائد پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے شہر کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئے اور احتجاج کیا۔ مقامی فورس، ایون اینڈ سمرسٹ پولیس نے بتایا کہ مظاہرین ابتدائی طور پر پُرامن تھے لیکن بعد ازاں ایک چھوٹے گروہ مشتعل ہو کر تشدد پر اتر آیا۔

اس موقع پر برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کا کہنا تھا کہ اقلیت کی جانب سے تشدد اور بدامنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے تحفظ کے لیے پولیس افسران نے خود تکلیف دہ حالات کا سامنا کیا۔ انہوں نے مشتعل مظاہرین کے حملے میں زخمی ہونے والے پولیس افسران سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

پُرتشدد مظاہرے کے دوران ایک پولیس وین کو آگ لگائی گئی جبکہ دو پولیس افسران کو زخمی ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے ایک کا بازو ٹوٹ گیا تھا جبکہ دوسرے کی پسلیوں میں چوٹ آئی ہے۔ مقامی پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے قریبی شہروں کی فورس سے مدد طلب کی۔

پولیس نے پُرتشدد مظاہرے کے بعد جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ تمام افراد جو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوئے ان کی شناخت کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
واضع رہے حکومت کی جانب سے تجویز کردہ بِل کے پارلیمان سے منظور ہونے کے بعد پولیس کو سڑکوں پر مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مزید اختیارات مل جائینگے۔

50% LikesVS
50% Dislikes