پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے پر برطانیہ میں مقیم کمیونٹی کا احتجاج جاری؛ 50 ایم پیز ہمنوا بن گئے – Kashmir Link London

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے پر برطانیہ میں مقیم کمیونٹی کا احتجاج جاری؛ 50 ایم پیز ہمنوا بن گئے

مانچسٹر( محمد فیاض بشیر) پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے پر برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کا ردعمل جاری، 50 سے زائد برٹش ممبران پارلیمنٹ کے برطانوی وزیراعظم، وزیر خارجہ، سیکرٹری صحت کو خطوط، پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے پر وضاحت طلب، پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی اپیل پر برٹش پارلیمنٹ کے ممبران کے برطانوی حکومت کو خطوط میں ریڈ لسٹ میں ڈالنے کی تفصیلات اور وجوہات طلب کرلی گئیں۔

برٹش ممبران پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت سے پاکستان کے علاوہ کورونا وائرس کی شدت کا شکار دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کم کیس ہونے کے باوجود ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے پر وزیراعظم بورس جانسن، وزیر خارجہ ڈومینیک راب اور سیکرٹری صحت میتھیو ہنکاک، سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل سے وضاحت طلب کرتے ہوئے پالیسی واضح کرنے کا مطالبہ کیا، برٹش ممبران پارلیمنٹ نے ریڈ لسٹ جانے کے بعد پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مشکلات کو دور کرنے اور سفری سہولیات کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کا مطالبہ کیا، پاکستان کو اچانک ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے پر برطانیہ میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، پاکستانی و کشمیری کمیونٹی ناصرف برطانیہ بلکہ پاکستان میں مقیم شہری بھی اس اعلان کے باعث شدید مشکل میں پھنس گئے ہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹیز گروپ برائے پاکستان کی چیئرپرسن ایم پی یاسمین قریشی، آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم، ایم پی جیمز ڈیلی، ایم پی اینڈریو گوون، ایم پی رحمان چشتی، ایم پی رشنارا علی، ایم پی لیام برینے، ایم پی ٹریسی برابن، ایم پی ریچن برگن اور دیگر نے خطوط لکھ کر اس فیصلے کے خلاف برطانوی حکومت سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

پارلیمنٹری گروپ برائے پاکستان کی چیئرپرسن ایم پی یاسمین قریشی کی طرف سے لکھے گئے خط پر 50 ممبران پارلیمنٹ نے دستخط کیے اور مطالبات کی حمایت کی۔ اس حوالے سے پاکستانی و کشمیری کمیونٹی رہنماؤں جن میں چیئرمین جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل راجہ نجابت حسین اور تحریک حق خودارادیت برطانیہ کے چیئرمین برطانوی کونسلر یاسمین ڈار نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان بھی اپنے شہریوں کی مشکلات پر خاموش تماشائی بن گئی ہے لیکن برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے کمیونٹی کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے، برطانوی حکومت کے اس فیصلے کے فوری بعد برطانوی حکومت اور ممبران پارلیمنٹ سے فوری رابطے کئے اور انہیں اس معاملے میں آواز اٹھانے کی اپیل کی تھی جس پر ممبران پارلیمنٹ نے بہترین کردار ادا کیا۔ انہوں نے برٹش ممبران پارلیمنٹ کے ارکان کو اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی جانب سے خراجِ تحسین پیش کیا ۔ راجہ نجابت حسین اور کونسلر یاسمین ڈار دیگر نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل خاموشی تشویش ناک ہے۔ حکومت پاکستان جاندار کردار ادا کر کے نا صرف اپنی کمیونٹی کو مشکلات سے نکالنے کے لئے اقدامات اٹھائے بلکہ برطانوی حکومت سے بھی اس معاملے کو جاندار انداز میں نبٹانے کی کوشش کرے۔

50% LikesVS
50% Dislikes