مقامی کونسلوں کے انتخابات میں ایک ہفتہ باقی، دیگر علاقوں کی طرح اولڈہم میں بھی سخت مقابلہ متوقع – Kashmir Link London

مقامی کونسلوں کے انتخابات میں ایک ہفتہ باقی، دیگر علاقوں کی طرح اولڈہم میں بھی سخت مقابلہ متوقع

اولڈہم (محمد فیاض بشیر) گریٹر مانچسٹر کے نواحی قصبہ اولڈہم پاکستانی و کشمیری نژاد برطانوی شہریوں کے اعتبار سے یہاں بڑی تعداد میں آباد ہے۔ اولڈہم کونسل 20 وارڈوں پر مشتمل ہے ہر وارڈ سے تین کونسلرز منتخب ہوتے ہیں۔ہر 20 سال کے بعد یکمشت تین کونسلروں کا انتخاب ہوتا ہے اسکے بعد ہر سال ایک کونسلر کا انتخاب ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارتی ہیں کونسل کے لیے ساٹھ کونسلر منتخب ہو کر مقامی ابادی کے فلاح و بہبود کے منصوبوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔

گذشتہ دو دہائیوں سے پاکستانی و کشمیری اور بنگلہ دیشی نژاد متحد کونسلرز مئیرشپ کے عہدے پر فرائض منصبی انجام دے چکے ہیں جو کسی بھی اعزاز سے کم نہیں ہے۔اس وقت کونسل کی ڈپٹی لیڈر پاکستانی نژاد برطانوی شہری کونسلر عروج شاہ ہے اور ایک درجن سے زائد کونسلر ہیں۔

6 مئی کو ہونے والے انتخابات میں لیبر جماعت کی جانب سے امیدواروں میں کونسلر ڈاکٹر زاہد حسین چوہان، سابق مئیر کونسلرعتیق الرحمن، جابر عبداللہ ،باسط شاہ ،یوسف عمران، فداحسین، معروف علی،ہیں،اور کنزرویٹو جماعت کے امیدوار میں سے سحر عابد،سجاد، رحمان محمود اور آزاد امیدوار آفتاب حسین اور دیگر کے درمیان مقابلہ ہو گا۔

اولڈہم میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ برادری اور ہم خیال گروپ کے حوالے سے ووٹر بڑی اہمیت کا حامل ہوتے ہیں، جس میں پاکستان کی طرح اولڈھم میں بھی برادری ازم اور ذاتی تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے، اور امیدوار اپنے اثر رسوخ استعمال کرتے ہیں اور جیتنے کے لئے ہر حربے استعمال کئے جاتے ہیں،برطانیہ میں قانون سخت ہونے کے سبب امیدواروں کو جماعت کی پالیسی پر عمل کرنا ھوتا ہیں اورغیر قانونی کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

50% LikesVS
50% Dislikes