حالات بہتر ہونے پر دنیا بھر سے سیاحوں کی توجہ کیلئے پاکستان میں فیسٹول منعقد کرائے جائینگے: طارق وزیر – Kashmir Link London

حالات بہتر ہونے پر دنیا بھر سے سیاحوں کی توجہ کیلئے پاکستان میں فیسٹول منعقد کرائے جائینگے: طارق وزیر

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر کے زیر اہتمام آن لائن کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل طارق وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے ملک کا روشن امیج اجاگر ہونا بہت ضروری ہے، کورونا لاک ڈائون کے بعد بیرون ممالک سے سیاحوں کو پاکستان کی طرف مائل کرنے کیلئے متعدد فیسٹیول منعقد کئے جائینگے۔
اس آن لائن کھلی کچہری کمرشل اتاشی محمداختر‘ سردار غلام مصطفیٰ‘ نادرہ انچارچ عمران حیدر شاہ اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشی فرحت حیدر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے کمیونٹی ممبران اور صحافیوں نے شرکت کی اور سوالات پوچھے۔

ایک سوال کے جواب میں قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ فلسطین کے ایشو کیساتھ انکی بھی وہی وابستگی ہے جو انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے کسی بھی انسان کی ہو سکتی ہے تاہم بحیثیت ڈپلومنیٹ وہ فلسطین کے معاملے میں ایک حد سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے- ہمیں جس حد تک حکومت پاکستان کے قوانین اجازت دیتے ہیں ہم اتنا ہی کام کر سکتے ہیں- دراصل اس مسئلہ پر لوگوں کو زیادہ تر آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس مسئلے کے طرف ان کی توجہ مبذول کروانا ضروری ہے تاہم یہ کام سیاستدانوں کے کرنے کا ہے اور میں اس بات پر فخر محسوس کرتا ہوں کہ جس طرح ہمارے سیاستدانوں اور میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔
جی ایس پی پلس کے حوالے سے یورپی یونین کی تشویش پر ایک سوال کے جواب میں کمرشل اتاشی اختر حسین نے واضح کیا کہ پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس معاہدے کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور معاہدہ 2023ء تک جاری رہے گا – جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کو 2014ء میں دیا گیا – اس میں یورپی یونین کے پاکستان نژاد ارکان نے بہت کوششیں کی تھیں – اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہوا ہے – ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو 8بلین ڈالرز کا فائدہ پہنچاتاہم برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے پر برطانیہ نے اس کا نام اب تبدیل کر دیا ہے -ہم ان کے ساتھ دسمبر 2022ء تک تجارت جاری رکھ سکیں گے جس کے بعد ہمیں اس معاہدے کو جاری رکھنے کیلئے نئے اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک کے پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے یورپین یونین تشویش کا شکار ہوئی ہے تاہم ہماری کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں – ہم نے اس معاملے میں برسلز میں پاکستان سفارت خانہ کو یہ ذمہ داری دے رکھی ہے جو اس مسئلہ کو اچھے طریقے سے ہینڈل کر رہی ہے۔ پاکستان میں تارکین وطن کی جائدادوں پر قبضے کے مسائل کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ جس شخص کی پراپرٹی پر پاکستان میں قبضہ ہوا ہے وہ ہمارے ساتھ رابطہ قائم کرے ہم اس کی مدد کریں گے – انہوں نے اعتراف کیا کہ یقینا پاکستان میں اس طرح کے مسائل موجود ہیں مگرمیں یہاں بیورو کریسی کا دفاع نہیں کروں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کمیشن نے اب ایک کام کیا ہے کہ ایک افسر کی ہائی کمیشن میں خصوصی ڈیوٹی تفویض کی ہے جو پراپرٹی کا ایشو حل کروائیں گے۔
قائمقام کمیونٹی ویلفئیر اتاشی فرحت حیدر نے واضح کیا کہ وہ ہر کسی کے لئے موجود ہیں – تاہم کوویڈ کی وجہ سے ریگولر میٹنگز نہیں کر سکتے۔

ایک سوال کے جواب میں طارق وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان دنیا بھر کے نوجوانوں کو پاکستان کی خوبصورتی سے آگاہ کرنے کیلئے کورونا سے چھٹکارے کے بعد متعدد فیسٹیول کرانے کا ارادہ رکھتی ہے ہم انہیں وہ پاکستان دکھائیں گے جو حقیقت میں پاکستانی ہے – نوجوانوں کو بلا کر انہیں بتائیں گے کہ حقیقی پاکستان کیا ہے ہم ان کی رائے لیں گے – میری اس سلسلے میں سیاسی قیادت سے بھی بات ہوئی ہے – ہم نے ان کووہ کلچر دکھانا ہے کہ جس کی وہ امید رکھتے ہیں -اگر میں نے دو سو یا تین سو نوجوانوں کو اس طرف راغب بھی کرلوں تو میرے لئے یہ خوشی کا باعث ہوگا۔
سردار غلام مصطفیٰ نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن میں بھی ہم نے جانوں کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کوسروسز فراہم کیں اور ایمرجنسی میں لوگوں کوسہولتیں دی ہیں – ہم نے ویزے جاری کئے – ہم پر حکومت برطانیہ کی پابندیاں بھی تھیں کہ اتنے افراد سے زیادہ لوگوں کو اکٹھا نہ ہونے دیں -تاہم ہم نے کام کیا – اب ہم نے قونصلیٹ آفس کو پھر سے پبلک کے لئے کھول دیا ہے۔
نادرا کے مینجر عمران حیدر نے بتایا کہ ہم نے کورونا کا مشکل وقت گزارا ہے تاہم اب پابندیاں نرم ہونے کے بعد ہم نے ہال کو پھر سے کھول دیا ہے اور ہم 75 افراد تک کو سروسز فراہم کر سکتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes