عید الاضحیٰ حج اور عید کی دوہری خوشیاں لیکر آتی اور سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کراتی ہے: پیر ابو مقصود – Kashmir Link London

عید الاضحیٰ حج اور عید کی دوہری خوشیاں لیکر آتی اور سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کراتی ہے: پیر ابو مقصود

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) عید الاضحیٰ کے بابرکت موقع پر قربانی کرنا سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرنا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب خداوند کریم نے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے رب العالمین کے فیصلے کو سرخم تسلیم کرتے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مقام قربان گاہ کی طرف لے گئے راستے میں شیطان نے بہکانے کی کوشش جاری رکھی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایمان پختہ تھا اور جب انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے چھری چلائ تو رب العالمین نے آسمان سے فرشتہ بھیج کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈا رکھ دیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری سے ذبح کر دیا یوں امت مسلمہ کے لیے حلال جانور کی قربانی تاقیامت واجب ہو گئ۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے سینکڑوں جانوروں کی قربانیاں دیں ۔آپ ﷺ نے شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو تاکید کی کہ تامرگ ہرعید الاضحیٰ پر دو جانوروں کی قربانی کرنا ایک میرے نام سے اور ایک اپنے سے۔ ان تاریخی حقائق کو ادارہ نور السلام فیصل آباد یورپ اور برطانیہ کے سرپرست اعلیٰ پیر ابو احمد محمد مقصود مدنی نے عید الاضحیٰ کے بابرکت موقع پر خصوصی خطبہ عید میں کیا۔ انکا مذید کہنا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو صاحب استعداد ہے اور جان بوجھ کر قربانی نہیں کرتا اسے مسجد یا پھر عیدگاہ میں عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے ہرگز نہیں آنا چاہیے کیونکہ وہ قربانی جیسے عظیم فرض سے جان بوجھ کر غفلت برتتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے ایسی راہنمائی چھوڑ گئے ہیں اگر ہم اس پر عمل پیرا ہوں تو مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ امت مسلمہ اور دنیا بھر کی انسانیت زندگی گزارنے کے بنیادی اصولوں سے روگردانی کر رہی ہے جسکی وجہ آج دنیا بھر میں انسان ظلم و ستم کا شکار ہیں اور حاکم وقت مفادات کی خاطر انسانیت کے ساتھ جانورں سے بھی بدتر سلوک کرنے سے گریز نہیں کر رہے ۔ انکا کہنا تھا کہ اگر دنیا امن کا گہوارہ بنانے کے لیے عالمی طاقتیں سنجیدہ ہیں تو پھر قرآن مجیدو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر کے ہی ایسا ممکن ہے اسکے لیے سنت ابراہیمی جیسی قربانی کی یاد کو تازہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔دعائے رب العالمین ہے کہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے جہاں انسانیت رنگ و نسل مذہب سے بالاتر ہو کر اتحاد و اتفاق سے زندگی بسر کر سکے اور زندگی گزارنے کے لیے قرآن وسنت پر عمل لازم یے۔

50% LikesVS
50% Dislikes