سیدہ فاطمة الزہرہ سلام اللہ علیہا کی ذات استقامت‘ قناعت‘ بردباری‘ ایثار و سخاوت کا منبع تھیں؛ علما کرام – Kashmir Link London

سیدہ فاطمة الزہرہ سلام اللہ علیہا کی ذات استقامت‘ قناعت‘ بردباری‘ ایثار و سخاوت کا منبع تھیں؛ علما کرام

اولڈھم (محمد فیاض بشیر) تحریک عظمت آل و اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برطانیہ و یورپ کے زیراہتمام اولڈھم میں پہلی ”سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا“ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سرپرست اعلیٰ پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے کی۔

کانفرنس کے آرگنائزر مفتی علامہ فضل قیوم سبحانی تھے جبکہ پیر سید عرفان شاہ مشہدی موسوی، علامہ برکات احمد چشتی‘ علامہ نذیر احمد قادری‘ علامہ نبیل افضل قادری‘ نیاز احمد صدیقی‘ سید سجاد احمد بخاری‘ سیدگلزار حسین شاہ بخاری، علامہ محمدطاہر بغدادی، سید رشید حسین شاہ، سید نعمان حسین شاہ جماعتی‘ سید کمال حسین شاہ‘ علامہ شہزاد احمد قادری‘ علامہ شفیق احمد جماعتی و کثیر تعداد میں مشائخ عظام‘ سادات و علماءکرام نے شرکت کی‘ اس موقع پر متعدد نوجوان مقررین نے انگلش میں بھی خطابات کئے۔

کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے کہا کہ سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے لاڈلی صاحبزادی تھیں جن کی ساری زندگی دین متین کے اصولوں پر بسر کرتے ہوئے گزری۔ سیدہ فاطمة الزہرہ سلام اللہ علیہا کی ذات استقامت‘ قناعت‘ بردباری‘ ایثار و سخاوت کا منبع تھی‘ سیدہ حلم و حیا، تسلیم و رضا اور ایثار و وفا کا مجسم پیکر تھیں‘ آپ کی حیات مبارکہ کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو تجلی نبوت سے منور نہ ہو۔ سیدہ عالم کی حیات مبارکہ میں فضائل و خصائل کا مہکتا گلستان آنکھوں کے سامنے آ کر قلب و روح کو معطر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا سے اپنی محبت کا اظہار کیا، یہ کسی باپ کا اپنی بیٹی سے روایتی اظہار محبت نہیں تھا بلکہ غیرمعمولی نوعیت کی انسیت اور شفقت و پیار تھا۔ پیر سید عرفان شاہ مشہدی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا اس شخص کے نکاح میں گئیں جن کی پیشانی غیراللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے ناآشنا رہی، جنہیں تاریخ میں ابوتراب، حیدر کرار، باب العلم اور فاتح خبیر جیسے خوبصورت القابات اور خطابات سے نوازا گیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کسی انسان کو نہیں دیکھا جو نشست و برخاست اخلاق اور کلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ مشابہ ہو۔

علامہ برکات احمد چشتی نے سیدہ کائنات کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیدہ نماز ادا فرماتیں تو آنکھوں سے سیل اشک رواں ہوتا، خوف الٰہی سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہتیں۔ آپ کے نزدیک عورتوں کےلئے سب سے بہتر یہ چیز تھی کہ نہ وہ مردوں کو دیکھیں اور نہ مرد انہیں دیکھیں۔ آپ نے اپنی فہم و فراست، خدمت و اطاعت، ہمدردی و خیرخواہی، سلیقہ شعاری، اخلاق و سیرت اور رحمدلی و غریب پروری جیسی صفات عالیہ کے ایسے روشن مینار قائم کئے جن کی نورانی شعاﺅں سے عالم نسوانیت قیامت تک روشنی و رہنمائی حاصل کرتا رہے گا۔ آج کی مسلمان خواتین کو سیدہ کائنات کی زندگی سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ان کی تقلید کر کے اپنی زندگیوں کو منور کرنا چاہئے۔

کانفرنس کے اختتام پر جامعہ قادریہ اسلامک سینٹر اولڈھم کے سرپرست مفتی علامہ فضل قیوم سبحانی نے مشائخ عظام‘ سادات کرام و علماءکرام کا شکریہ ادا کیا، بعدازاں سجادہ نشین حضرت امیر ملت پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے عالم اسلام بالخصوص پاکستان کےلئے دعا کی۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاءمیں لنگر شریف بھی تقسیم کیا گیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes