تحریک حق خودارادیت یاسین ملک کی رہائی کیلئے چوہدری سرور کی مہم میں شانہ بشانہ ہوگی؛ راجہ نجابت – Kashmir Link London

تحریک حق خودارادیت یاسین ملک کی رہائی کیلئے چوہدری سرور کی مہم میں شانہ بشانہ ہوگی؛ راجہ نجابت

مانچسٹر(محمد فیاض بشیر)جموں کشمیرتحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین راجہ نجابت حسین کی قیادت میں مانچسٹر میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کے مہمان خصوصی سابق مشیر حکومت آزادجموں وکشمیر راجہ شوکت خالق ایڈووکیٹ تھے۔ راجہ نجابت حسین اور ان کی ٹیم نے ساتھ ساتھ کمیونٹی آرگنائزیشن آف گریٹر مانچسٹر کے سر براہ سید اظہر حسین شاہ کے ساتھ خصوصی ملاقات کی اور تحریکی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کرنے پر اتفا ق کیا۔ دونوں راہنماؤں نے مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں اور استحکام پاکستان کے سلسلہ میں مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اس اجلاس میں امجد حسین مغل، روبینہ خان، پامیلا اشرف ملک، نورین شہزاد، رضوان شاہ و دیگر شامل تھے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورکی جانب سے یاسین ملک کی رہائی مہم کی بھرپور حمایت کی جائے گی اور یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کے وفد کو برطانیہ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔

راجہ نجابت حسین نے اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے اپنی تحریک کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں ہماری اعلی سطح کی لابی مہم 24 جون تا 20 جولائی جاری رہے گی اور ہم مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں برطانوی پارلیمنٹ میں مضبوط لابی مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس عرصہ کے دوران ہماری تحریک کے عہدیداران لابی مہم کو تیز کرتے ہوئے مقامی کمیونٹی راہنماؤں، کونسلرز، میئرز، لارڈ میئرز، برطانوی ممبران پارلیمنٹ اور لارڈز کے ساتھ خصوصی ملاقاتیں کریں گے اور مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں تفصیلی بریفنگ دیں گے اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کریں گے وہ مسئلہ کشمیر کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اور وہاں کی نازک ترین انسانی حقوق کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آواز بلند کرے اور عالمی برادری کو اپنے ساتھ ملا کر مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ قراردادوں کے مطابق اورکشمیریوں کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے اور مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر پائیدار بنیادوں پر حل کروا یا جائے اور اس خطے میں امن و امان کے فروغ کے سلسلہ میں اہم کردار ادا کیا جائے۔

راجہ نجابت حسین نے کہا کہ ہماری تحریک کے عہدیداران برطانیہ بھر میں دیگر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ اور ان کے باہمی تعاون کے ساتھ سوشل اینڈ کلچرل سرگرمیوں کا آغاز بھی کریں گے۔ہماری تحریک کے عہدیداران کشمیری راہنما یاسین ملک کی رہائی کے سلسلہ میں جاری مہم کو مذید تیز کریں گے اور پوری عالمی برادری تک کشمیریوں کی آواز پہنچائیں گے تا کہ نہ صرف کشمیری راہنما یاسین ملک کو بھارتی قید سے رہائی مل سکے بلکہ تمام کشمیری سیاسی راہنماؤں کی بھارتی جیلوں سے رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔راجہ نجابت حسین نے کہا کہ چوہدری محمد سرور بھی یاسین ملک کی رہائی مہم کے سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز کر رہے ہیں اُن کے ساتھ بھی بھرپور تعاون کیا جائے گا اور تمام ہم خیال کشمیری تنظیم کے ساتھ مل کر برطانیہ کے تمام شہروں میں مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ہماری تحریک اگست، ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں برطانیہ بھر میں تمام کشمیری جماعتوں کو منظم کرنے کے لئے مختلف سرگرمیوں کا آغاز کرے گی اور اس سلسلہ میں برطانیہ بھر میں مقامی کمیونٹی راہنماؤں، کونسلرز، میئرز، لارڈ میئرز، برطانوی ممبران پارلیمنٹ اور لارڈز کے ساتھ خصوصی ملاقاتیں کی جائیں گی اور تحریک آزادی کشمیر کے سلسلہ میں اپنی جاری مہم کو مذید تقویت دینے کے لئے تقاریب کا انعقاد کیاجائے گا۔

لیبر پارٹی کانفرنس، کنزرویٹو پارٹی کانفرنس کے دوران مسئلہ کشمیر کو ان کی پالیسی کا حصہ بنانے کے لئے مضبوط لابی مہم کی جائے گی۔ برطانیہ کی سیاسی جماعتوں کے کشمیر دوست راہنماؤں کو تحریری مواد بھی دیا جائے گا تا کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں کے اندر مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں عملی طور پر لابی مہم کو تیز کر سکیں اور مسئلہ کشمیر کو اپنی اپنی جماعتوں میں پالیسی کا واضح حصہ بنا سکیں۔ راجہ نجابت حسین نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں گیارہ سے زائد کشمیری نوجوانوں کی شہاد ت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اور اس سلسلہ میں برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو خطوط بھی تحریر کئے جائیں گے۔ آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ کے تعاون سے دو روزہ شہدائے کشمیر کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔ ہم اپنی تحریک کی جانب سے برطانیہ میں بسنے والے تمام کشمیریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے تمام مقامی ممبران برطانوی پارلیمنٹ کو مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں خطوط تحریر کریں ای میل کریں اور انہیں مسئلہ کشمیر کی سنگینی کے سلسلہ میں آگاہ کرتے رہیں تا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں برطانوی پارلیمنٹ مین سوالات بھی اُٹھائیں اور مضبوط لابی مہم بھی چلائیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes