کشمیری رہنمائوں سے اظہار یکجہتی، جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کیطرف سے اہم برطانوی شخصیات کو خطوط – Kashmir Link London

کشمیری رہنمائوں سے اظہار یکجہتی، جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کیطرف سے اہم برطانوی شخصیات کو خطوط

مانچسٹر ( محمد فیاض بشیر ) سینئر حریت کشمیری رہنماء آسیہ اندرابی اور دیگر کے خلاف بھارتی عدالت میں مقدمہ کے خلاف جموں و کشمیر تحریک حق خود اردایت انٹر نیشنل کا برطانوی وزیر اعظم ، وزیر خارجہ ، شیڈو وزیر خارجہ، اپوزیشن لیڈر، پارٹی لیڈران سمیت برٹش ممبران پارلیمنٹ ، یورپین ممبران پارلیمنٹ کو خطوط، برطانوی حکومت ، ممبران پارلیمنٹ ، یورپین ممبران پارلیمنٹ سے آسیہ اندرابی کے خلاف مقدمہ کے خلاف فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ۔

جموں و کشمیر تحریک حق خود اردایت انٹر نیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین کی جانب سے لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھارت کشمیر میں تحریک کو دبانے اور آزادی کے لئے پر امن جدو جہد کرنے والوں کی آواز کو دبانے کے لئے مسلسل ایسے اقدامات اٹھا رہا ہے جس سے نا صرف قوانین کی خلاف وزری ہو رہی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں ہو رہی ہیں ۔ محترمہ آسیہ آندرابی اور دیگر حریت قائدین شبیر احمد شاہ ، یاسین ملک سمیت حریت پسندوں کے خلاف قالے قوانین کے تحت مقدمات بنائے گئے ۔ حرت قائدین میر واعظ عمر فاروق ،سید علی گیلانی ، اشرف وانی کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو محدود کر دیا گیا ہے ۔ بھارتی ایجنسیوں بالخصوص این آئی اے کے ذریعے دہشت گردی کی وارداتیں کی جا رہی ہیں تا کہ کشمیر میں آزادی وحریت کی بات کرنے والوں کی آوازوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کیا جا سکے ۔ بھارت اور اس کی انجنسیاں ، فورسز جہاں ، مرد حضرات کو اپنے تشد د ، غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنا رہی ہے وہیں خواتین کے ساتھ بھی بدترین سلوک اور برتائو کیا جا رہا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ آسیہ اندرابی کا خاندان مسلسل بھارتی ظلم وتشدد کے نشانے پر ہے ۔ گذشتہ تین دہائیوں سے ان کے خاوند بھارتی قید وبند کی اذیتیں برداشت کر رہے ہیں اور پچھلے دو سال سے محترمہ آسیہ اندرابی کوجیل میں قید کر کے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ۔بھارت کی فورسز ، ایجنسیاں کشمیر میں کالے قوانین کے تحت بدترین سلوک جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ بھارتی فورسز کے ظلم و تشدد سے کوئی کشمیر محفوظ نہیں ہے ۔ کالے قوانین کے تحت جعلی مقدمات کو بھارتی عدالتیں بھی مسترد نہیں کر رہیں بلکہ بھارتی فورسز کے غیر قانونی و غیر انسانی اقدامات کا ساتھ دیا جا رہا ہے ۔ ایک منظم منصوبہ کے تحت نوجوانوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ۔

راجہ نجابت حسین کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ، وزیر خارجہ ڈومینک راب ، شیڈو وزیر خارجہ لیزا ناندے ، لیبر پارٹی کے لیڈر ایم پی کیئر سٹارمر، ڈپٹی لیڈر انجیلا رینئر ، چیئرپرسن کشمیر پارلیمنٹری گروپ ایم پی ڈیبی ابراھم، چیئرپرسن پارلیمنٹری پاکستان گروپ بیرسٹر یاسمین قریشی ، لیبر فرینڈز آف کشمیر کے چیئرمین ایم پی اینڈریو گوون،کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے شریک چیئرمین ایم پی جیمز ڈیلی ، کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے شریک چیئرمین ایم پی پال بریسٹو ، سابق ممبران یورپین پارلیمنٹ فلپ بینئن ، الیسن تھیولیس ، چیئرپرسن یورپین فرینڈز آف کشمیر انتھیا میکنٹائرسمیت سینکڑوں ممبران پارلیمنٹ کو کھلا خط لکھا گیا ہے جس میں برٹش پارلیمنٹ اور ہائوس آف لارڈ کے ممبران ، یورپین پارلیمنٹ کے ممبران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فی الفور نوٹس لیں اور اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے بھارت میں اس عدالتی اور ریاستی جبر اور ایک خاتون کے ساتھ ہونے والے ظلم و اذیت کو روکنے کے لئے کردار ادا کریں ۔ کسی کشمیری کو بھارت کی فورسز ، ایجنسیوں اور بھارتی عدالتوں میں عدالتی جبر سے آزادی نہیں ہے ۔ کشمیریوں کے ساتھ امتیازی سلوک تسلسل کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ برطانوی حکومت بالخصوص برٹش ممبران پارلیمنٹ کو آگے بڑھ کر کشمیر کے ظلم و جبر کو روکنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes