جموں کشمیراس وقت تین نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان بارود کے ڈھیرپر بیٹھا ہوا ہے؛ سید فخر امام – Kashmir Link London

جموں کشمیراس وقت تین نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان بارود کے ڈھیرپر بیٹھا ہوا ہے؛ سید فخر امام

مانچسٹر(محمد فیاض بشیر)بھارت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے نمائندوں کو مقبوضہ جموں وکشمیرکے تفصیلی دورے کی اجازت دے، نام نہاد نمائندوں اور سفارت کاروں کو دورے کرا کر عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی، مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل کے ایجنڈے کے مطابق حل ہو گا جس کے لئے دنیا بھر میں کشمیری اور ان کے دوست ممبران پارلیمنٹ جدو جہد کر رہے ہیں اور کشمیریوں کو تمام بنیادی حقوق ملنے تک یہ جدو جہد جاری رہے گی۔ مسئلہ کشمیر کے تین بنیادی فریق کشمیر ی عوام، بھارت اور پاکستان ہیں جس کے حل کے لئے اقوام متحدہ، دولت مشترکہ، اسلامی کانفرنس اور یورپی یونین کے علاوہ برطانیہ خصوصی کردارادا کر سکتے ہیں۔ کشمیر اس وقت بارود کے ڈھیرپر کھڑ اہے اور تین نیوکلر پاورز پاکستان، انڈیا اور چائینہ، کے درمیان گرا ہوا ہے برطانوی، یورپی، پاکستانی ممبران پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرائے۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے زیراہتمام انسٹیٹیوٹ آف سٹریجٹکٹ سٹڈیزاسلام آباد میں پارلیمانی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کی صدارت تحریک حق خوارادیت کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کی جبکہ مہمان خصوصی وفاقی وزیرسید فخرامام تھے۔کانفرنس سے سینیٹر لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، چئیرپرسن کامن ویلتھ وومینز گروپ شناندانہ گلزار، کنوینیرکشمیر پارلیمنٹری گروپ ان پاکستان پارلیمنٹ نورین فاروق ابراہیم، ممبر اسمبلی آزاد کشمیر سحرش قمر، افشاں تحسین باجوہ، محترمہ تقدیس گیلانی، حریت رہنما عبدالحمید لون، سید منظورشاہ، جبکہ زون لنک پربرطانوی ممبران پارلیمنٹ چئیرمین لیبرفرینڈز آف کشمیرایم پی اینڈریوگوون،شریک چئیرمین کنزرویٹیو فرینڈز آف کشمیر ایم پی پال بریسٹو، سابق برطانوی وزیر ایم پی ہیلری بین، برطانوی شیڈو وزیر داخلہ ایم پی خالد محمود، سکاٹش نیشنل پارٹی کی ایم پی ایلیسن تھیلس،شریک چئیرپرسن کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی جیمزڈیلی، کنوینئرلیبر فرینڈز آف کشمیر لارڈ واجد خان، یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈزآف کشمیر کی سابق چئیرپرسن انیتھا میکنٹائز، لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سابق ایم ای پی فلپ بینین، سابق ایم ای پی جولی وارڈ، لیڈز برطانیہ کے نامزد لارڈ مئیرکونسلراصغر خان اور یوتھ ونگ تحریک حق خودارادیت برطانیہ کے چئیرمین ذیشان عارف نے بھی خطاب کیا۔

وفاقی وزیر سید فخر امام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی 1949کی قرادادیں کشمیری عوام کو اس بات کا حق دیتی ہیں کہ وہ اپنے مسقبل کا فیصلہ خود رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادانہ مرضی سے کریں، کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت کے وعدوں سے تمام ہندوستانی حکومتیں منحرف ہوتی ری ہیں۔73 سالوں سے کشمیری عوام اپنے بنیادی حق کے لئے قربانیاں دیتے آ رہے ہیں۔بھارت اپنی تمام تر فوجی طاقت استعمال کرنے کے باوجود کشمیری عوام کے جذبہ کو توڑ نہیں سکا، کشمیر اس وقت بارود کے ڈھیرپر بیٹھا ہوا ہے، کشمیر اس وقت تین نیوکلر پاورز پاکستان، انڈیا اور چائینہ، کے درمیان گرا ہوا ہے۔۔سید فخر امام نے تحریک حق خوارادیت انٹرنیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین اور اُن کی ٹیم کا کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ راجہ نجابت حسین کشمیریوں کی آواز کو برطانیہ اور یورپ میں اجاگر کرنے کے لئے جس منظم انداز میں کام کر رہے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔

برطانوی اور یورپی ممبران پارلیمنٹ نے ویبنارزون پر اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر انہیں سخت تشویش ہے، کشمیری عوام کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہے، ممبران پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چئیرمین اور کشمیر کانفرنس کے میزبان راجہ نجابت حسین نے اپنے خطاب میں کانفرنس کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کشمیری عوام تاریخ کے سنگین دور سے گزر رہے ہیں، ہندوستان اپنے ظلم و جبر کے تمام حربے آزما چکا ہے لیکن کشمیریوں کی جدو جہد آزادی میں کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کو اپنی خاموشی توڑنا ہو گی اور کشمیریوں کا ان کا بنیادی حق دلانے کے لئے اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہو گا۔ راجہ نجابت حسین نے کہا کہ تحریک حق خوداردیت کی ٹیم برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں ہر فورم پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی آواز بلند کرتی رہے گی۔ راجہ نجابت نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کو سفارت سطح پر پوری قوت سے ہندوستان کے مقابلے میں کام کرنے کے لئے ٹھوس اور واضح حکمت عملی بنانی چاہئے۔

کشمیر کانفرنس میں خواتین، یوتھ، این جی اوز، سایسی و سماجی کی تنظیموں کے عہدے داران کے علاوہ محترمہ خولہ خان، محترمہ شمائلہ حیدر، ڈاکٹر سعدیہ، بیگم کرنل نسیم خان، وجاہت الیاس، ڈکٹر شگفتہ عباسی، کنول حیات، ریحانہ یاسمین، آسیہ چوہدری، نینا علی،یوتھ پارلیمنٹ کے ولید خان، شکیل الرحمان،محمد ابراہیم، پرویز اختر محمد سلیمان نے شرکت کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes