امیگریشن قوانین میں مجوزہ تبدیلیاں، بیرسٹر امجد ملک نے برطانوی ہوم سیکرٹری کو آئینہ دکھا دیا – Kashmir Link London

امیگریشن قوانین میں مجوزہ تبدیلیاں، بیرسٹر امجد ملک نے برطانوی ہوم سیکرٹری کو آئینہ دکھا دیا

مانچسٹر(فیاض بشیر)برطانیہ کے امیگریشن قوانین میں اسائلم اور ریفیو جیز کے بارے میں مجوزہ تبدیلیوں پر برطانوی ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل تنقید کی زد میں ہیں ۔‎

برطانیہ میں پریکٹس کرنے والے امیگریشن کے ماہر قانون دان بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ ہوم سیکرٹری ملک میں موجود ہزاروں افراد کے کیسز کا فیصلہ کریں اور آگے بڑھ کر پرانے قانون کے جائزے اور عام معافی کا اعلان کریں ، قانون پر قانون فاسٹر فرمر کی بجانے نا انصافیوں کو جنم دیتا ہے، ‎تیز اپیل کا نظام اور ثبوت کی فراہمی پہلے ہی ایک مجوزہ طریقہ کار سے جاری ہے، جب تک پرانے قانون کی افادیت پر رائے مقرر نہیں کی جاتی، نئے قانون صرف کتابوں میں صفحوں کا اضافہ کریں گے۔

‎انہوں نے کہا کہ جہاں انٹرنیشنل جرائم میں ملوث ہونے والے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی کو دستیاب ملکی قانون کے مطابق قرار دیا ہے،وہیں قوانین میں تبدیلیوں کو بادی النظر میں سخت اور پناہ کے حقدار افراد کو سزا دینے کے مترادف قرار دیا ہے، پناہ گزینوں کو دوسرے جزیروں پر رکھنا اور انکے داخلے کے طریقہ کار کی وجہ سے انہیں سزا کا حقدار قرار دینا عدالتوں کے ذریعے غیر انسانی قرار دیا جاسکتا ہے۔

‎ بیرسٹر امجد ملک نےکہاکہ ایسےپناہ کےخواہشمند جنکی جان کو خطرہ ہو ان کو پناہ سےحیلےبہانوں سےانکاربرطانیہ کو انٹرنیشنل ریفیوجی کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب گردانا جاسکتا ہے، وزارت داخلہ مظلوم کو سزا دینے کی بجائے ظالم کی حوصلہ شکنی کریں اور اس طرف توجہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات برطانوی امیگریشن قوانین سے متصادم ہیں جو دادرسی میں غیر منصفانہ رکاوٹیں پیدا کریں،جب تک کوئی کمیشن پچھلے قانون کے بارے میں ایک سٹڈی نہ کرے نئے قانون بار بار نہیں بنائے جانے چاہئیں جو پرانے قانون کو غیر موثر کردیں ، امیگریشن کا قانون سیاست اور سیاستدانوں کے ہاتھوں ایک شٹل کاک بن چکا ہے، ہر ارسطو اس پر طبع آزمائی اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔

بیرسٹر امجد ملک نے کہا وقت آگیا ہے کہ بورس جانسن معاملے کا نوٹس لیں اور مئیر لندن کے طور پر اپنے کئے ہوئے مطالبے اور وعدے پر عمل درآمد کرواتے ہوئے نظام میں گم تارکین وطن کے لئے عام معافی اور کام کے ویزوں کا اعلان کریں اور1971ءسے اب تک ہونے والی قانون سازی پر ایک جامع سٹڈی کا بندوبست کروائیں تاکہ برطانوی معاشرہ ایک بامعنی بامقصد اور واقعتاً “فٹ فار پرپز” قانون سازی دیکھ سکیں،وگرنہ ہم سب ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے والے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes