مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان بامعنی مذاکرات کے لئے ہمہ وقت تیار ہے – Kashmir Link London

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان بامعنی مذاکرات کے لئے ہمہ وقت تیار ہے

مانچسٹر(محمد فیاض بشیر) آل پارٹی پارلیمنٹرین گروپ کی طرف سے یوم پاکستان کے حوالے سے بذریعہ وڈیو ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارت اور سیاحت بارے بات چیت ہوئی ۔اس موقع پر برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان، برطانوی پارلیمنٹ میں ڈپٹی شیڈو لیڈر محمد افضل خان، بیرونس سیدہ وارثی، ایم پی خالد محمود، ایم پی یاسمین قریشی، لارڈ شیخ احمد لنڈن،قونصل جنرل مانچسٹر طارق وزیر،سری لنکا ھائی کمشنر سروجا سری سینا،جان ڈیوز CEO, CPA,صائمہ اجرم، ایم پی ناز شاہ، برٹش کونسل مارک کورسری،امام رمزی،فہیم کیانی،سید علی رضا، ناصر محمود چغتائی،انیسہ محمود،افتخار مجید،ڈاکٹر محمد عظیم،کونسلرخالد حسین،کونسلر نعیم الحسن،کے علاوہ دیگر افراد نے ویبنار میں شرکت کی۔

اجلاس میں ہائی کمشنر معظم احمد خان نے کہا کہ پوری دنیا کرو نا وائرس سے متاثر ھوئی اس طرح مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیر بہن بھائیوں اور بچوں کو بھول نہیں سکتے،انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح امن کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لئے بامعنی مذاکرات کے لئے بھی ہمہ وقت تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ آج دنیا کومختلف طرزکی دہشتگردی کا سامنا ہے، موجودہ حالات میں پاکستان بھی کئی چیلنجز سے نبرد آزما ہے جس کیلئے ہمہ جہت حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

شیڈو ڈپٹی لیڈر محمد افضل خان نے کہا کہ پوری دنیا وبا کی لیپیٹ میں ھے،اس لیے ضروری ھے کہ ھم انسانی حقوق دلانے کی بات کرتے رہیں اور کشمیر سمیت جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ھو رھی ہیں انہیں بین الاقوامی سطع پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، سیدہ وارثی نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہئے،خالد محمود نےکہا کہ جنگیں برپا کرکے تباہی پھیلانےکے بجائے کیوں نہ بھارت اور پاکستان اپس میں بیٹھ کر مسائل و اختلافات کے حل تلاش کئے جائیں۔ پاکستان کا یہ بھی موقف ہے کہ اختلافی مسائل و معاملات کا حل تب ہی نکالا جاسکتا ہے۔

پاکستان کا قومی ترانہ محمد سرور نے گا کر شرکائے میٹنگ کے لہو کو گرمایا۔ اس موقعہ پر ارکان پارلیمنٹیرینز نے مشترکہ خطاب میں کہا کہ کیوں نہ موجودہ قیادتیں پہل کرکے ماضی کی تلخ روایات کو دفن کریں۔ اور اس خطے میں قیام امن کے لئے اقدامات کا آغاز کریں۔ جس کا جو حق ہے اس کو دے کر تاریخ میں اپنا نام اس طرح لکھوالیں کہ آنے والی نسلیں بھی ان کا نام احترام سے لیا کریں۔ اب وقت آگیا ہے پڑوسی ممالک امن کی طرف بڑھتے ہوئے پاکستان کے ہاتھ میں ہاتھ دیں اور اپنی اپنی قوم کو امن، بہتر معیشت اور خوشحالی کا تحفہ دیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes