یارکشائیر میں گستاخانہ خاکوں کے ایشو پر کشیدگی کم کرنے کیلئے مذہبی اور سیاسی رہنما سرگرم – Kashmir Link London

یارکشائیر میں گستاخانہ خاکوں کے ایشو پر کشیدگی کم کرنے کیلئے مذہبی اور سیاسی رہنما سرگرم

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) یارکشائیر کے علاقے باٹلے میں نبی کریم ً کے خاکوں کے حوالے سے پیدا شدہ ماحول کی کشیدگی کم کرنے کیلئے مسلم کمیونٹی سے مذہبی و سیاسی رہنما سامنے آنے لگے ہیں۔ اپنے مختلف پیغامات میں انکا مسلمانوں سے کہنا ہے کہ مسئلے کو جذباتیت کے بجائے دانشمندی سے سلجھانے کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی سینیئر رکن پارلیمان بیرونس سعیدہ وارثی کا کہنا ہے کہ سکول میں پیغمبر اسلام کا خاکہ دکھائے جانے کے واقعے کو دونوں جانب کے انتہاپسند لوگ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیغمبر اسلام کے تصویری خاکے پر شروع ہونے والی بحث کو ایک تہذیبی جنگ کو ہوا دینے کے لیے استعال کیا جا رہا ہے اور اس کی قیمت بچوں اور ان کی تعلیم کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔

اس تنازعہ کا آغاز پیر 22 مارچ کو اس وقت ہوا جب مذکورہ سکول میں ایک سبق کے دوران پیغمبر اسلام کا خاکہ دکھایا گیا۔ چالیس فیصد مسلمان آبادی کے اس علاقے میں کئی بچوں کے والدین اور دیگر مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد سکول کے ہیڈ ٹیچر نے مذکورہ استاد کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ وزارت تعلیم کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو ڈرانا دھمکانا کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
سکول کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین کا مطالبہ تھا مذکورہ ٹیچر کو ملازمت سے برخواست کیا جائے، تاہم کچھ والدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مظاہرین کے مطالبے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان والدین کے مطابق مظاہرین کا رویہ جارحانہ ہے۔

مظاہرین کے ایک نمائندے نے سکول کے باہر کھڑے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم یہ تسلیم نہیں کرتی کہ سکول نے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث اساتذہ میں سے ایک ٹیچرکو محض معطل کرنے میں بھی سکول نے چار دن لے لیئے۔
کمیونیٹیز کے برطانوی وزیر رابرٹ جینرک کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر احتجاج درست نہیں تھا اور ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے تھا جس سے اساتذہ خود کو خوفزدہ محسوس کریں۔
سکول کے باہر ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں ویسٹ یارکشائر کی پولیس کا کہنا تھا کہ ان کا عملہ سکول کے باہر موجود ہے اور ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes