میئر اینڈی برنم کا گریٹر مانچسٹر بس سروس کو نجی ملکیت میں دینے کا تاریخی فیصلہ – Kashmir Link London

میئر اینڈی برنم کا گریٹر مانچسٹر بس سروس کو نجی ملکیت میں دینے کا تاریخی فیصلہ

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر)گریٹر مانچسٹر کے مئیر اینڈی برنم نے گریٹر مانچسٹر بس سروس کو نجی مالکیت میں دینے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے انہوں نے کونسل کمیٹی کی سفارشات پر ایسا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ہزاروں صارفین کی زندگی بدل جائے گی اور 1980 کی دہائی کے بعد گریٹرمانچسٹر لندن کے بعد پہلا علاقہ ہو گا جس نے یہ اقدام اٹھایا میئر نے کونسل کے نو رہنماؤں کی سفارش کی منظوری کے بعد یہ خطہ اپنے بس نیٹ ورک کو اس اقدام پر اپنا کنٹرول سنبھال لے گا جو ہزاروں صارفین کی زندگی کو بدل دے گا۔مقامی روٹس  پر بسیں اب بھی نجی کمپنیاں چلائیں گی لیکن گریٹر مانچسٹر کمبائنڈ اتھارٹی (جی ایم سی اے) کرایوں ، اوقات کار  اور بس سروس کی گزرگاہوں اور بسوں ، ٹرینوں اور ٹراموں میں ٹکٹ سروس کے نظام کو مضبوط کرے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری بس سروسز  پچھلے 30 سالوں  سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، بسوں کے کرایے مہنگائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح سے بڑھ رہے ہیں۔” جب آپریٹرز نے نیٹ ورک بند کردیئے جس سے  لوگ بے روزگار ہوئے اور اسکے برعکس لندن کی سڑکوں پر بس سروس میں جدت آئی۔


ان کے اعلی ٹکٹوں کے اعلی نظام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: “اور ہم نے لندن میں ملنے والی ہر چیز پر نگاہ ڈالی ہے  اس لئے نہیں کہ ہم اسے ان سے دور کرنا چاہتے ہیں – لیکن پوچھتے ہیں کہ ہمارے یہاں گریٹر مانچسٹر میں کیوں نہیں ہوسکتا ہے؟آسان کرایے اور ٹکٹنگ ، قیمت پر روزانہ کیپ اور کنٹیکٹ لیس ادائیگی والے ‘ٹیپ ان’ سسٹم ہوں گے۔ پہلی فرنچائزائزڈ بسیں بولٹن اور ویگن میں چلائی گئیں۔2025 تک ، تمام بسوں کو حق رائے دہی بنادیا جائے گا اور اس کے بعد ریل خدمات کو ‘دہائی کے آخر تک نیٹ ورک وژن کو مکمل کرنے’ کے لئے لایا جائے گا۔گریٹر مانچسٹر میں بس کے ایک ہی کرایہ پر £ 4 سے زیادہ لاگت آسکتی ہے – اور اگر کوئی مسافر کسی بھی دن ایک سے زیادہ بسوں پر سفر کرناچاہتا ہے تو لاگت بڑھ جاتی ہے ان سب عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم جدید ٹیکنالوجی سے بس سروس کے نظام کو دور حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیں گے جس سے عوام مستفید ہو سکے اور بس کرایوں کا معیار ایسا ہو کے ہر کسی کی دسترس میں ہو۔

50% LikesVS
50% Dislikes