مغربی ممالک آکربسنے والےتارکین وطن کی بچوں پربےجا پابندیاں منفی اثرڈالتی ہیں؛ نورا فاتحی – Kashmir Link London

مغربی ممالک آکربسنے والےتارکین وطن کی بچوں پربےجا پابندیاں منفی اثرڈالتی ہیں؛ نورا فاتحی

لندن (مونا بیگ) عربی النسل تہذیب، امریکی طرز معاشرت اور بھارتی فلموں میں کام کا شوق جب کسی خوبصورت لڑکی کے حصے آتا ہے تو یقینی طور پر اسے بے پناہ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

بھارتی فلموں میں آئیٹم گرل کے طور پر جانی جانے والی نورا فاتحی کا کہنا ہے کہ زندگی اتنی بھی آسان نہیں جتنی نظر آتی ہے، جن حالات سے وہ گزری ہیں ان کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید وہ حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی۔

نورا نے ان خیالات کا اظہار ایک یوٹیوب چینل پر اپنے انٹرویو میں کیا، اپنے کریئر اور جدو جہد کی بات کرتے ہوئے وہ اتنی جذباتی ہوئیں کہ خود کو نہ سنبھال پائیں اور رونے لگیں۔

کینیڈا میں پیدائش اور پرورش پانے والی نورا کے والدین کا تعلق مراکش سے ہے اور ماڈلِنگ کے ساتھ ساتھ انھوں نے 2014 میں بالی وڈ میں قدم رکھا۔ لیکن انھیں پہچان ’دلبر‘، ’اوساقی‘ اور ‘ایک تو کم زندگانی’ جیسے گانوں سے ہی ملی اور نورا آئٹم نمبر کوئن کہلانے لگیں۔ اس کے علاوہ اپنے کرئیر کے آغاز میں نورا نے بگ باس نائن میں بھی شرکت کی تھی۔

انٹرویو میں نورا کا کہنا تھا کہ وہ پختہ یقین رکھتی ہیں کہ اگر ابتدا سے ہی آپ میں ‘امید اور اعتماد‘ قائم ہے تو آپ ہر طرح کے چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا مغربی ملکوں میں آکر بسنے والے والدین اکثر بچوں پر پابندیاں لگاتے ہیں کہ وہ کیا پہنیں اور کیا نہ پہنیں، یہ نہ کریں وہ نہ کریں کہاں جائیں اور کہاں نہ جائیں اس سے بچوں میں اعتماد کا فقدان پیدا ہوتا ہے اور وہ آنے والے حالات کے لیے تیار نہیں ہو پاتے۔

اداکارہ نے دنیا بھر کے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو دنیا کا سامنا کرنے کی ترغیب دیں اور ان پر پابندی عائد کرنے کے بجائے بالغ زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ کریں اور ان کے ساتھ بات چیت کریں کیونکہ اگر والدین بچوں کو اعتماد میں لیتے ہیں تو بچے آگے چل کر زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes