بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے وراثتی سرٹیفیکیٹ کے حصول کیلئے حکومت کا انقلابی اقدام – Kashmir Link London

بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے وراثتی سرٹیفیکیٹ کے حصول کیلئے حکومت کا انقلابی اقدام

لندن (عمران راجہ) پاکستان کی موجودہ حکومت عوام کیلئے کچھ کرے نا کرے لیکن عالمی سظح پر ایسے کچھ اقدامات ضرور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جسے آنے والے وقتوں میں مثال کیلئے پیش کیا جاسکے گا۔
ایسے ہی ایک اقدام کے تحت حکومت پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وراثتی سرٹیفیکیٹس کے اجرا کی سہولت فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اب مختلف ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے 26 سینٹرز میں وراثت کی منتقلی کے نظام سے استفادہ کر سکیں گے۔
اس حوالے سے وزارت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد کی جائیداد منتقلی کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے وراثتی سرٹیفیکیٹس جاری کرنے کا قانون نافذ تھا اور 10 سہولت سینٹرز میں اسلام آباد کی جائیداد کی منتقلی کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی۔ تاہم دیگر صوبوں کی جانب سے بھی قانون کی منظوری کے بعد اب پورے ملک میں یہ منصوبہ نافذ العمل ہوگا۔

مختلف ممالک کے قونصل خانوں اور سفارت خانوں میں وراثت کی منتقلی کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیے جائیں گے جن میں کویت، مسقط، کوالالمپور، انقرہ، ٹورنٹو، پیرس اور روم شامل ہیں جبکہ برطانیہ سمیت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں پہلے سے ہی یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
واضع رہے وراثتی سرٹیفیکیٹس بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے 15 روز کے اندر ورثا کو فراہم کر دیا جائے گا۔

اوورسیز کے مسائل کو سمجھنے والے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے اس حوالے سے ٹویٹ میں کہا کہ یہ وراثتی تنازعات ختم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ آج کابینہ کے اجلاس میں اس بات کی منظوری دی گئی کہ وراثتی سرٹیفکیٹ بذریعہ نادار آسانی کے ساتھ آن لائن بنوایا جا سکے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes