امریکی انتظامیہ کے پاکستانی نگینے – Kashmir Link London

امریکی انتظامیہ کے پاکستانی نگینے

سپر پاور امریکہ کا صدر ہونا دنیا کا چودھری ہونے کے مترادف ہے اور امریکہ صدر کی انتظامیہ میں شریک افراد اس چودھراہٹ میں حصہ دار ہوتے ہیں۔ اقوام عالم سے نبٹنے والے وائٹ ہاؤس کے یہ عہدیدار اپنی اپنی فیلڈ کے ماہر ترین افراد سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی صدر کی انتظامیہ میں شامل افراد پر دنیا بھر کی نظر ہوتی ہے اور یہ افراد براہ راست اور بالواسطہ طور پر دنیا پر اثر انداز بھی ہورہے ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات اور معاملات کے زاویے سے دیکھیں تو سب سے بڑا کام ان افراد کے ذریعے امریکہ صدر تک اپنی آواز پہنچانا سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ امریکہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں چند پاکستان بھی شامل ہیں جو نہ صرف اعلیٰ قیادت کی ذہن سازی کرسکتے ہیں بلکہ داخلہ اور خارجی مسائل میں الجھے پاکستان کیلئے غیر علانیہ لانچنگ ایجنٹ کا کردار بھی ادا کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے پاکستانی امریکیوں دلاور سعید، سلمان احمد اور علی زیدی کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا ہے، پروفیسر لینا خان کو ٹریڈ کمشنر نامزد کررکھا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے طاہر جاوید برسر اقتدار پارٹی کے اہم رہنما سمجھے جاتے ہیں اور صدر جوبائیڈن دعائیں لینے کیلئے طاہر جاوید کی والدہ کے پاس جا پہنچتے ہیں۔


پاکستانی عوام کو خدائے بزرگ و برتر نے بے پناہی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ اپنی ذہانت، جفاکشی اور بصیرت سے پاکستانیوں نے چار دانگ عالم میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ یوں تو امریکہ میں لاکھوں پاکستانی آباد ہیں اور ہر شعبے میں اپنی خدمات کی دھاک بٹھائے ہوئے ہیں، امریکی سیاست میں بھی ان کا عمل دخل مؤثر ہے۔ امریکہ کا انتخابی نظام اپنی ہئیت کے اعتبار سے مہنگا ترین سمجھا جاتا ہے۔ امریکی صدر کے انتخاب کی تو بات ہی نہ کریں، کانگریس کے الیکشن کا خرچ ارب ڈالر میں ہوتا ہے۔ اس انداز سیاست میں اپنی شناخت قائم کرنا کمال ہے اور پاکستانی یہ کمال بھی کررہے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے دلاور سید جو سمال بزنس ایڈمنسریشن(SBA) کا ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کیا ہے اور انہیں یہ ہذمداری سونپی ہے کہ کیسے درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروبار کو امریکہ عوام میں مقبول بنایا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے ایم بی اے کی ڈگری لینے والے دلاور سید اپنی فرم لیوماٹا کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں جو امریکہ میں ہیلتھ کئیر پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے فریش ورکس کے نام سے بھی فرم کی سربراہی کی جو سمال بزنس سے متعلق سوفٹ وئیر پراڈکٹس بناتی ہے۔ دلاور سید سابق صدر اوبامہ کیلئے بھی کام کر کے ہیں۔

امریکی صدر کی انتظامیہ میں شامل ایک اور باصلاحیت پاکستانی امریکی سلمان احمد ہیں جو نیشنل سیکورٹی اینڈ فارن پالیسی ایڈوائزر ہیں اور اب جو بائیڈن انتظامیہ میں پالیسی پلاننگ کے ڈائریکٹر ہیں۔جوبائیڈن کی ٹیم کا حصہ بننے سے قبل سلمان احمدچیف آف سٹاف آف امریکہ مشن برائے اقوام متحدہ کے طور پر اپنی صلاحیتیں منوا چکے ہیں۔ سلمان احمد اقوام متحدہ میں مستقل امریکی مندوب کے سینئر ایڈوائزر بھی رہ چکے ہیں۔ اس مہارت کے پیش نظر موجودہ امریکی صدر نے ان کی خدمات کو اپنے لئے حاصل کرنا مناسب جانا۔
علی زیدی ایک نوعمر پاکستانی امریکی ہیں جنہوں نے ماحولیات کے شعبے میں متاثرکن کام کیا ہے۔ ذرا نم ہو تو مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کے مصداق، علی زیدی نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی مہارت کو ماحولیاتی ارتقاء کی جانب موڑ دیا اور امریکی صدر کی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ صدر جو بائیڈن نے انہیں وائٹ ہاؤس میں کلائی میٹ ڈپٹی ایڈوائزر مقرر کیا ہے۔ علی زیدی برسر اقتدار پارٹی کے رہنما جان کیری کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں اور موجودہ انتظامیہ میں ایک بار ٹیکنوکریٹ سمجھے جاتے ہیں۔
اب تذکرہ کرتے ہیں ایک کامیاب امریکی بزنس مین طاہر جاوید کا جو 28 امریکی کمپنیوں کے سربراہ ہیں، برسر اقتدار ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رہنما اور صدر جو بائیڈن کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ طاہر جاوید امریکی انتظامیہ میں باثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ وہ اپنا اثر ورسوخ پاکستان کے حق میں استعمال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہے۔ وہ پاکستانی ہونے کے ناطے پاکستان کا قرض اتارنے کیلئے کوشاں ہیں اور پاکستانی حکومت نے ان کی ان مخلصانہ کوششوں کا اعتراف ان کو تمغہ امتیاز عطا کرکے کیا ہے۔ طاہر جاوید ڈیموکریٹک رہنما کے طور پر امریکہ میں پاکستان کے غیر علانیہ سفیر ہیں اور بڑی مہارت سے پاکستان کے حق میں لابنگ کررہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کو طاہر جاوید نے اجاگر کرنے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنارکھا ہے۔ طاہر جاوید کی کوششوں سے متعدد امریکی سینیٹرز مقبوضہ کشمیر پہنچے اور انہوں نے عالمی ذرائع ابلاغ پر اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم عمران خان کے فوری امریکہ کے دوران یہ طاہر جاوید ہی تھے جنہوں نے امریکہ کے طول وعرض سے 70 سے زائد سینیٹرز اور کانگریس ارکان کو کیپیٹل ہل میں اکٹھا کردیا جس سے نہ صرف وزیراعظم عمران خان کے دورے کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی بلکہ وہ ایشو بھی امریکی حکومت اور امریکی عوام کے سامنے لانے میں مدد ملی جن کو اجاگر کرنا پاکستان ضروری سمجھتا تھا۔ ان کے مقابلے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جلسے میں پہنچنے والے ارکان کانگریس اور سینیٹرز کی تعداد صرف سات تھی۔ طاہر جاوید کا کہنا ہے کہ عمران خان کیلئے کانگریس ارکان اور سینیٹرز اکھٹے کرنے کیلئے انہوں نے سائنسی بنیادوں پر کئی ہفتے کام کیا اور اپنی کمپنیوں کی افرادی قوت کو سینیٹرز اور ارکان کانگریس پر مامور کردیا جو مسلسل ان سے رابطے میں رہے انہیں کیپیٹل ہل پہنچنے کیلئے قائل کرتے رہے۔ طاہر جاوید کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت رکھ لی لیکن اس کامیابی میں عمران خان کی اپنی کرشماتی شخصیت کا بھی بڑا عمل دخل تھا جو ایسی ہستی ہیں جن کے بارے میں امریکی پہلے سے بہت کچھ جانتے ہیں۔ طاہر جاوید نے اپنی کوششوں سے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر بھارت کو ناکوں چنے چبوائے اور ایک مراسلہ جاری کرانے میں کامیاب ہوئے جس پر 40 سینیٹرز کے دستخط تھے۔ میڈیا پر بیان دینے والی 30 کے قریب سیاسی شخصیات اس کے علاوہ تھیں۔ اس طری کل 70 کے قریب سینیٹرز اور کانگریس مین نے مقبوضہ کشمیر پر آواز بلند کی جس سے بھارت دفاعی پوزیشن پر چلاگیا۔طاہر جاوید پر امید ہیں کہ مستقبل میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نکھار آئے گا۔ انہوں نے کہا۔کہ اس وقت جب چینی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد ہے پاکستان کیلئے امریکہ کو برآمدات بڑھانے کا سنہری موقع ہے اور میں اس معاملے پر اپنی حیثیت کو بروئے کار لاؤں گا۔
آخر میں ذکر کولمبیا یونیورسٹی کی پاکستانی نژاد قانون کی پروفیسر لینا خان کا جنہیں امریکی صدر نے امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کے کمشنر کے عہدے کے لیے نامزد کیاہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صدر بائیڈن لینا خان کو اس عہدے پر تعینات کر کے اینٹی ٹرسٹ قوانین کو موثر اور طاقتور بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ دیو ہیکل ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجاراداری پر قابو پایا جا سکے۔

امریکی سینیٹ کی توثیق ہوگئی تو 32 سالہ لینا خان فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی تاریخ کی سب سے کم عمر کمشنر بن جائیں گی۔ لینا خان پاکستانی خاندان مسے تعلق رکھتی ہیں۔ جب لینا11 برس کی ہوئیں تو ان کا خاندان امریکہ ہجرت کر گیا۔ امریکہ میں ہی ان کی تعلمیم مکمل ہوئی اور کچھ عرصہ قبل انھوں نے ٹیکساس کے ایک کارڈیالوجسٹ شاہ علی سے شادی کی۔ وہ ولیمز کالج اور ییل لا سکول سے فارغ التحصیل ہیں۔ لینا خان نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے شعبہِ قانون میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، جہاں وہ اجارہ داریوں کو کنٹرول کرنے کے قوانین (اینٹی ٹرسٹ لا)، صنعتوں کے بنیادی ڈھانچے کے قانون، اور اجارہ داریوں کی روک تھام کی روایات کے بارے میں پڑھاتی ہیں اور تحقیقی مقالے لکھتی ہیں۔ ان کے اینٹی ٹرسٹ قوانین پر تحقیقاتی مقالے کو معتبر حلقوں میں بہت زیادہ سراہا گیا ہے اور اُن پر انھیں کئی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ اور یہ تحقیقاتی مقالے ییل لاء جرنل، ہارورڈ لاء ریویو، کولمبیا لاء ریویو اور شکاگو یونیورسٹی لاء ریویو میں شائع ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ جب لینا خان کے تحقیقی مقالے نے اجارہ داری کو ڈیجیٹل مارکیٹ اور انٹرنیٹ صارفین کے لیے خطرہ قرار دیا تو لوگوں نے اینٹی ٹرسٹ قوانین کے بارے میں نئے زاویے سے سوچنا شروع کیا۔ انٹرنیٹ کے دور میں اجارہ داری کے قوانین کے بارے میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل لینا خان امریکی کانگریس کی ہاؤس جوڈیشل کمیٹی کی ذیلی کمیٹی برائے اینٹی ٹرسٹ قوانین، کمرشل اور انتظامی قانون کے وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔ پروفیسر لینا خان فیڈرل ٹریڈ کمیشن میں کمشنر روہت چوپڑا کے دفتر میں قانونی مشیر اور اوپن مارکیٹس انسٹی ٹیوٹ میں قانونی ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔ لینا خان کو امریکی میگزین ٹائم کی 100 متاثر کن رہنماؤں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes