کشمیریوں کی قربانیاں – Kashmir Link London

کشمیریوں کی قربانیاں

قسط اول

مسلمان کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستانیں بہت درد ناک ہیں۔غلام محمد لون کے مطابق ظلم کے چار واقعات نے کشمیریوں کو آواز اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
اول واقعہ میں ادھم پور کے ایک کاروباری شخص نے اسلام قبول کر لیا۔اس کے خاندان و پنچائت نے اس کی جائیداد دوسرے بھائی کو دے دی۔اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا مگر عدالت نے یہ قرار دیکر مقدمہ خارج کر دیا کہ جب تک یہ دوبارہ ہندو مذہب قبول نہیں کرتا جائیداد کا حقدار نہیں ہے۔اس نے قرار دیا کہ ڈوگرہ حکومت اکتیس دسمبر1882کو ایک ڈگری جاری کر چکی ہے کہ ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے والے اپنی جائیداد سے محروم ہو جائے گا۔
دوسرا واقعہ29دسمبر1931کو پیش آیا جب ڈوگرہ حکومت نے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت شروع کی اور خطبہ دینے سے روک دیا جس پر مسلمانوں نے حکومتی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔
تیسرا واقعہ4جون کو سنٹرل جیل جموں میں پیش آیا جب ایک مسلمان سپاہی فضل داد سے ایک سب انسپکٹر نے پانچ سورہ زبردستی چھین کر پھینک دیا اور چوتھا واقعہ20جون1931کو قرآن کریم کے اوراق کو عوامی لیٹرین میں پھینکا گیا۔
عبدالقدیر نامی مسلمان نے21جون1931کو احتجاج کرنے والے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’یہی وقت ہے کہ ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کرنے کا۔قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف کھڑا ہونے کا۔ظالم حکومت سے ظلم کے خاتمے کا۔اس نے کہا ہمارے پاس مشین گن نہیں مگر پتھر ہی سہی‘‘۔
25 جون1931کواسے گرفتار کر لیا گیا۔4جولائی کوسیشن جج کی عدالت میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔4،6،7،9، جولائی کو بڑی تعداد میں مسلمان عدالت کے احاطے میں مقدمے کی کارروائی سننے کے لئے جمع ہو گئے۔حکومت نے مقدمہ سری نگر سنٹرل جیل میں منتقل کر دیا۔
13جولائی1931کا واقعہ ہے سری نگر پانچ ہزار کشمیری جیل کے باہر مقدمے کی کارروائی سننے کے لئے موجود تھے۔مقدمے کی کارروائی پہلے پہل کھلی عدالت میں کی جا رہی تھی۔لوگوں کو اعتراض تھا کہ مقدمہ کھلی عدالت میں یا لوگوں کے سامنے چلایا جائے تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔مگر غاصب ڈوگرہ سرکار اپنی مرضی تھوپنے پر اتر آئی تھی۔لوگوں نے سماعت ختم ہونے تک جیل کے باہر موجود رہنے کا تہہ کر رکھل تھا۔آذان کا وقت آیا۔ایک شخص جیل کی دیوار پر چڑھ گیا۔اس نے آذان شروع کی ابھی وہ اللہ اکبر ہی کہہ پایا تھا کہ ڈوگرہ سپاہیوں میں سے ایک نے اسے گولی مار دی،وہ موذن نیچے گر پڑا۔ایک دوسرا دیوار کے اوپر چڑھ گیا اس نے دوسرا جملہ ادا کیا وہ اللہ اکبر کہہ ہی پایا تھا کہ اسے بھی گولی مار دی گئی۔اس کا گرنا تھا کہ ایک تیسرا جاں بازدیوار پر چڑھ گیا۔اس نے منہ سے آذان کے الفاظ نکالے اسے بھی گولی مار دی گئی۔پھر چوتھا دیوار پر چڑھا اسے بھی آذان مکمل کرنا تھی۔مگر ڈوگرہ سپاہیوں نے اسے بھی شہید کر دیا۔ایک کے بعد ایک کشمیری جوان دیوار پر چڑھتے رہے۔آذان مکمل کرنے کی کوشش میں22کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا۔
اسلام سے محبت کی یہ داستان آج سے90برس قبل کشمیریوں نے اپنے خون سے لکھی۔کشمیریوں کی مشکلات کا یہ تقریباً صدی پرانا واقعہ ہے۔مگر اسلام کے ان متوالوں نے اس صدائے مسلم کے اس علم کو جھکنے نہیں دیا۔کشمیریوں کا اسلام سے والہانہ محبت کا یہ انداز انکی زندگی کا خاصہ ہے۔ڈوگرہ سرکار ہو یا ہندوستان کی ظالم فوج مقبوضہ کشمیر کے باسی مسلمان اپنی آزادی کی جدوجہد اور اس حق سے دستبردار ہونے کو قطعی تیار نہیں۔
(جاری ہے)

50% LikesVS
50% Dislikes