امت مسلمہ کا جرم ضعیفی – Kashmir Link London

امت مسلمہ کا جرم ضعیفی

مسئلہ فلسطین کو امت مسلمہ کا جرم ضعیفی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ صرف 50 لاکھ یہودیوں کا مسکن اسرائیل جس کا رقبہ پاکستان کے کسی بڑے ضلعے سے زیادہ نہیں طویل عرصے سے فلسطینیوں پر مظالم ڈھاتے نہیں تھک رہا اور پوری امت مسلمہ اس صورت حال کے سامنے بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔ ماضی میں جب بھی عربوں نے اسرائیل کو لگام ڈالنے کی کوشش کی نیم دلی سے کی جس کا فائدے کی بجائے نقصان ہوا اور اسرائیل ایک سنپولئے سے اژدھا بنتا گیا اور اب یہ اژدھا منہ کھلے کھڑا ہے۔ تازہ ترین اسرائیلی جارحیت سے بیت المقدس اور غزہ میں ڈیڑھ سو سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی جس عمارت میں قائم تھا غزہ میں اسے بھی بنوں کا۔نشانہ بنایا گیا ہے۔مسلمان ملکوں میں احتجاجی مظاہروں اور مسلمان ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کی مذمت میں بیان سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکا۔ اس کے برعکس سلامتی کونسل میں اس معاملے پر جمعے کو شیڈول بحث اسرائیل کے سرپرستوں نے ویٹو کردی۔ جب بھی اسرائیل نے چاہا وہ فلسطینیوں پر چڑھ دوڑا۔ آخر اس کی طاقت کیا ہے اور عربوں کی کمزوری کیا ہے۔
اسرائیل کب اور کیسے بنا۔ اسرائیل فلسطین تنازعہ ہے کیا۔ غرب اردن، یروشلم، غزہ اور دیگر علاقوں میں کون آباد ہے، کس نے اسرائیل کو تخلیق کیا اور کس نے آبیاری کی، اقوام متحدہ کا کیا کردار تھا اور رہا ہے، اعلان بالفور، سائی کس پیکار اور 1967 کا سانحہ کیا ہے۔ ان سوالوں کے جواب معلوم کئے بغیر فلسطین تنازعے کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یروشلم ایک مقدس شہر ہے مگر صرف مسلمانوں کا نہیں۔ یہودی اور عیسائی بھی اسے مقدس اور اپنا گردانتے ہیں۔ یروشلم کو زیادہ سے زیادہ یہودی بنانے کو یہودیوں کی خواہش اتنی شدید ہے کہ انہوں نے جب چاہا مسلمانوں کو تہ تیغ کیا۔ مضبوط اتنے کہ کسی بھی مسلمان ملک پر قابض ہوجائیں، امیر اتنے کہ جس حکومت اور عالمی فورم کو خرید لیں۔ اقوام متحدہ سے من پسند فیصلے لینا ان یہودیوں کو کبھی مشکل نہیں لگا۔ آئیے تاریخ کے جھروکے میں جھانک کر دیکھتے ہیں اور درج بالا سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ہیں۔
اسرائیل کو 1948 میں اقوام متحدہ نے آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا اور اس کے ساتھ فلسطین کو بھی۔ فلسطینیوں نے اس فیصلے کو تسلیم نہ کرکے وہی غلطی کی جو اسی سال پاکستان نے کشمیر میں جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ کا فیصلہ تسلیم کرکے کی۔ نتیجتاً دونوں مسئلے ہنوز حل طلب ہیں۔ فلسطینی اگر اقوام متحدہ کا۔فیصلہ تسلیم کرلیتے تو آج ان کا ملک ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے کا۔حصہ ہوتا۔ ان کی اپنی فوج ہوتی جسے اپنی سرحدوں اور مفادات کا۔پورا پورا حق ہوتا۔ فلسطین کے سفارتکار آج پوری دنیا میں سفارتکاری کرکے زیادہ بہتر انداز سے یہ باور کراتے کہ اسرائیل کو زیادہ رقبہ اور ہمیں کم الاٹ کیا گیا ہے۔ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ فلسطین نہ باقاعدہ ملک ہے اور نہ اس کی فوج۔ اپنے مطالبات اور مفادات کا تحفظ کچھ تنظیموں نے سنبھال رکھا ہے۔ پی ایل او، حماس، الفتح اور جہاد اسلامی ایسی تنظیمیں ہیں جن کے آپس میں بھی اختلافات ڈھکے چھپے نہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ ان کی سرگرمیاں عالمی فورم پر عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے زمرے میں شمار کی جاتی ہیں۔
اسرائیل کی تخلیق اصلاً برطانیہ کی مرہون منت ہے اور اسرائیل کی تعمیر میں یہودیوں کی اَن اتھک جدوجہد کے ساتھ ساتھ امریکی یہودیوں کا پیسہ اور حکومت امریکہ کی مسلسل مادی واخلاقی امداد بھی شامل ہے۔ فی الوقت یہودیوں کی سب سے زیادہ تعداد امریکہ میں بستی ہے جن کی تعداد باون(52)لاکھ ہے۔اس کے بعد اسرائیل کا نمبر آتا ہے جہاں اڑتالیس(48)لاکھ یہودی بستے ہیں۔امریکی یہودی انتہائی بااثر اور مالدار ہیں۔ہراہم ادارے میں ان کے بہت مضبوط لوگ ہیں۔ امریکہ کی دونوں سیاسی پارٹیوں میں اہم ترین عہدوں پر وہ فائز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے قیام کے پہلے دن سے ہی اسے امریکی امداد کی فراہمی شروع ہو گئی۔یہ امداد دوشکلوں میں ہے۔ایک شکل امریکی یہودیوں کی طرف سے اسرائیل کو براہ راست رقم کی فراہمی اور دوسری شکل امریکی حکومت کی طرف سے ریاستی سطح پر امداد۔امریکہ کی طرف سے کسی بھی ملک کو دی جانے والی سب سے زیادہ امداد اسرائیل کو امداد ہے۔
اسرائیل کم آبادی والی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے جس کے پاس سینکڑوں ایٹم بم بھی ہیں۔دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔ٹیکنالوجی اور فی کس آمدنی لحاظ سے وہ دنیا کے سرفہرست ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔اردگرد کے تمام عرب ممالک کی مجموعی معاشی،فوجی اور اسلحی ذخائر سے اُس کے ذخائر کہیں زیادہ ہیں۔کئی اسلامی ممالک نے اسے تسلیم کیاہوا ہے اور ان کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔
موجودہ حالات میں فلسطینیوں اور مسلمانوں کے لئے بہتر اور قابلِ عمل حل کیا ہے۔ اس سوال کے جواب سے پہلے ہمیں بیت المقدس اور یروشلم کی صورت حال کو سمجھنا ہوگا۔یروشلم اس شہر کا نام ہے جہاں یہ مقدس احاطہ ’’بیت المقدس‘‘کے نام سے موسوم ہے جسے ہیکل سلیمانی بھی کہا جاتا ہے یہ ایک احاطے کا نام ہے جس کی لمبائی اندازاً پندرہ سو (1500) فٹ ہے اور چوڑائی اندازاً ایک ہزار(1000)فٹ ہے۔یہ دراصل وہ جگہ ہے جہاں حضرت سلیمانؑ نے ایک بڑا عمارتی کمپلکس بنایا تھا جو ان کا سیکرٹریٹ تھا۔اس کی تعمیر کے ساڑھے تین سو برس بعد بابل(عراق)کے بادشاہ نبو کد نظر نے اس کو تباہ کردیا۔اس کے تقریباً ستر سال بعد ان کو دوبارہ یہ جگہ تعمیر کرنے کی اجازت ملی اس لئے کہ اس وقت وہاں فارس کے بادشاہ کا قبضہ ہوچکا تھا۔اس کے بعد یہ جگہ کئی دفعہ مختلف حملہ آوروں کی طرف سے تباہی کا نشانہ بنتی اور بار بار تعمیر ہوتی رہی۔حتیٰ کہ پہلی بڑی تباہی کے ساڑھے چھ سو برس بعد یعنی 70ء میں رومی حکومت نے اس کو بالکل تباہ کردیا،یہود کا قتل عام کیا اور زندہ بچ جانے والے یہودیوں کو جلاوطن کردیا۔اس تباہی میں ہیکل کی صرف مغربی دیوار کا ایک حصہ محفوظ رہ گیا۔یہی وہ دیوار ہے جسے اب دیوار گریہ (Wailing Wall) کہا جاتا ہے یعنی وہ جگہ جہاں یہودی آکر اپنی عظمت رفتہ کی یاد میں روتے ہیں اور عبادات کرتے ہیں۔ یہ گویا ان کے لئے مقدس ترین جگہ اور ان کا قبلہ ہے۔
اس دوسری تباہی کے پانچ سوستر سال بعد یعنی 638ء میں مسلمانوں نے حضرت عمرؓ کے وقت میں یروشلم فتح کیا۔حضرت عمرؓ نے اس پوری جگہ کو،جہاں کوڑا کرکٹ پڑا ہواتھا،صاف کیا اور اس کے جنوب میں ایک جگہ نماز پڑھنے کے لئے مخصوص کردی۔یہی جگہ اب مسجد اقصیٰ ہے۔موجودہ مسجد اقصیٰ کی لمبائی تقریباًساڑھے چھ سو(650) فٹ اور چوڑائی اندازاًتین سو(300) فٹ ہے۔
درمیان میں اٹھاسی(88)سال کے ایک وقفے کے سوا پچھلے چودہ سوسال سے یہ پوری جگہ مسلمانوں کے قبضے میں رہی۔1967ء میں اسرائیل نے اس پر قبضہ کرلیا۔تاہم حکومتِ اسرائیل نے مسجد پر قبضہ نہیں کیا ،بلکہ اس جگہ کی چابیاں حکومتِ اردن کے حوالے کردیں۔اس وقت سے لے کر اب تک مسجد کا کنٹرول یروشلم کے مسلم و قف کے پاس ہے۔
موجودہ اسرائیل کا رقبہ تقریباً اکیس ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی انسٹھ (59)لاکھ ہے۔اس آبادی میں یہودیوں کی تعداد اڑتالیس(48)لاکھ ہے اور عربوں کی تعداد گیارہ لاکھ ہے۔یعنی بیاسی(82)فیصد یہودی اور اٹھارہ (18)فیصد مسلمان۔ جس علاقے پر اسرائیل نے جون 1967کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور جس کے متعلق فلسطینی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہی مستقبل کی فلسطینی ریاست ہے۔اس میں سے ایک علاقہ دریائے اردن کے مغربی کنارے سے اسرائیل کی سرحد تک ہے۔اس علاقے کا رقبہ چھ ہزار مربع کلو میٹر سے کچھ کم ہے اور اس کی آبادی بیس لاکھ ہے۔اسے عام طور پر غربِ اردن (West Bank)کہا جاتا ہے۔دوسرے علاقے کو غزہ کی پٹی کہتے ہیں۔یہ اسرائیل کی مغربی سرحد،مصر اور بحیرہ روم میں گھری ہوئی ایک چھوٹی سی پٹی ہے۔جس کا رقبہ تین سو سا ٹھ مربع کلو میٹر ہے اور جس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے۔گویا مجوزہ فلسطینی ریاست میں اکتیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ 2500قبل مسیح میں عرب سے لوگ آکر یہاں آباد ہوئے۔جنہوں نے اس کا نام ’’کنعان‘‘ رکھا۔اس کے بعد ایشیائے کوچک (یعنی موجودہ ترکی) کے علاقوں سے بھی لوگ یہاں آکر آباد ہوئے۔انہیں فلسطی کہا جاتا تھا۔چنانچہ اس علاقے کا یہ نام پڑ گیا۔جلد ہی یہ دونوں گروہ آپس میں پوری طرح گھل مل گئے۔
یوں تو یہودیوں میں یہ احساس بھی سترھویں صدی سے ہی پیدا ہوگیا تھا کہ ان کا اصل وطن فلسطین ہے جہاں انہیں واپس جانا چاہئیے۔مگر اس کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل جرمنی کے ایک مشہور دانش ور اور وکیل تھیوڈر ہرزل نے دی،جس نے 1895میں صیہونیت (Zionism)کے نام سے یہ تحریک شروع کی۔1881ء میں فلسطین میں صرف چوبیس ہزار اور 1914میں پچاسی ہزار یہودی آباد تھے۔اُس وقت وہاں فلسطینیوں کی تعداد چھ لاکھ تھی۔ پہلی عالمی جنگ میں حمائت کے انعام میں برطانوی اتحاد نے یہودیوں کو ان کی قومی حکومت قائم کرنے کی ٹھانی۔ نومبر1917میں برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ایک خفیہ خط کے ذریعے اسرائلی ریاست وعدہ کر لیا۔اس خط کو عرف عام میں’’اعلانِ بالفور‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد برطانیہ اور فرانس نے مئی 1916ء میں ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کو سائی کس پائی کاٹ معاہدہ کہا جاتا ہے جس کے مطابق جنگ کے بعد لبنان اور شام فرانس کو ملنا تھا اور عراق،اردن اور فلسطین برطانیہ کو۔ اگلے تیس برس میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی آباد کاری کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈوں سے کام لیا۔تاہم برطانیہ کی اس کوشش میں بہت سے عربوں نے بھی اپنا حصہ یوں ادا کیا کہ شام اور لبنان میں بیٹھے ہوئے تمام غیر حاضر زمینداروں نے منہ مانگی قیمت پر اپنی زمینیں یہودیوں کو فروخت کردیں۔ایک بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے بھی اپنی زمین یہودیوں کو فروخت کردیں۔ جب یہودیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی تب وہاں کے مسلمانوں کو ہوش آیا اور1936ء سے لے کر 1939ء تک فلسطینیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔مگر اس بغاوت کے مقابلے میں برطانوی اور یہودی اکٹھے تھے، چنانچہ بغاوت کچل دی گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران میں جرمنی سے بھاگ کر آنے والوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا، کیونکہ ایک اندازے کے مطابق ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو قتل کر دیا تھا اور باقی جان بچا کر فلسطین بھاگ آئے۔1948ء میں یعنی اسرائیل کے قیام کے وقت وہاں سات لاکھ اٹھاون ہزار یہودی بس گئے تھے۔جب برطانیہ نے دیکھا کہ اب وہاں ایک یہودی وطن بن سکتا ہے تو اس نے اس پورے علاقے کو اقوام متحدہ کے حوالے کردیا۔اس وقت صورت حال یہ بنی کہ امریکہ اور روس سمیت تمام طاقت ور ممالک اسرائیل کے حامی تھے۔چنانچہ نومبر1947ء میں اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔اسرائیل کو کل رقبے کا چھپن(56%)فیصد دیا گیا، حالانکہ یہودیوں کی آبادی اُس وقت کل آبادی کی ایک تہائی تھی اور فلسطینی ریاست کو چوالیس (44%)فیصد دیا گیا، حالانکہ فلسطینیوں کی آبادی دوتہائی تھی۔ یہ صریحاً ایک ناجائز تقسیم تھی۔چنانچہ فلسطینیوں اور ارد گرد کے عرب ممالک نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔
چودہ مئی 1948ء کو آخری برطانوی رجمنٹ کے رخصت ہوتے ہی اسرائیل نے اپنی آزادی کا اعلان کر لیا۔لیکن فلسطین نے اپنی آزادی کا اعلان نہیں کیا۔حالانکہ ہونا یہ چاہئیے تھا کہ فلسطینی اپنی چوالیس فیصد زمین پر آزادی کا اعلان کرتے اور بقیہ زمین حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے۔اس کے بجائے اردگرد کے چار عرب ممالک شام،اردن،مصر اور عراق نے مل کر اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کرلیا۔یہ تمام افواج بہت کمزور،نیم تربیت یافتہ،اورمورال کے لحاظ سے انتہائی پست تھیں۔یہ سب ملک آپس میں ایک دوسرے کے بھی دشمن تھے اور ان کے بہت سے کمانڈر اسرائیلیوں سے ملے ہوئے تھے۔چنانچہ ان کو شکست فاش اٹھانی پڑی۔اسرائیل نے مزید علاقے پر قبضہ کر لیا۔اب اس کے پاس ستتر(77%)فیصد علاقہ تھا۔مغربی کنارے کو اردن نے اور غزہ کی پٹی کو مصر نے اپنے قبضے میں کر لیا۔گویا فلسطینی ریاست نہ بننے کے جرم میں اسرائیل کے ساتھ یہ دونوں ممالک بھی شریک تھے۔ کیونکہ اگر یہ دونوں ممالک اپنے زیر قبضہ علاقوں میں فلسطینی ریاست بنا دیتے تو ساری دنیا اس کو فوراً تسلیم کر لیتی اور اسرائیل سے مزید گفت وشنید نہایت آسان ہوتی۔
اکتوبر1956ء میں اسرائیل نے صحرائے سینا اور غزہ کی پٹی پر حملہ کر کے انہیں دو دن کے اندر فتح کر لیا۔دو دن بعد برطانیہ اور فرانس کی فوجیں،پہلے سے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے تحت،نہر سویز میں اتر گئیں اور اس پر قبضہ کر لیا۔اس مداخلت پر امریکہ نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور صدر روز ویلٹ کے الٹی میٹم پرقابض افواج یہ جگہیں خالی کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جون 1967ء میں ایک اور عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔
اسرائیل نے مصر،شام اور اردن پر بیک وقت حملہ کر دیا۔ایک دن کے اندر اندر اس نے ان تینوں ممالک کے تمام ہوائی جہازوں کو ختم کر دیا اور سب ہوائی اڈے تباہ کر دئے۔چھ دن کے اندر اندر اسرائیل نے مصر سے سار ی غزہ کی پٹی اور صحرائے سینا چھین لئے۔صحرائے سینا کا رقبہ ساٹھ ہزار مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے، یعنی بذاتِ خود اسرائیل کے رقبے سے تین گنا زیادہ۔خود صدر ناصر کے مطابق اس وقت سویز کینال سے لے کر قاہرہ تک مصری فوج کا ایک سپاہی بھی موجود نہ تھا۔اور اگر اسرائیلی فوج چاہتی تو آسانی کے ساتھ قاہرہ پر قابض ہو سکتی تھی۔اس کے ساتھ اسرائیل نے اردن سے دریائے اردن کا سارا مغربی کنارہ بشمول یروشلم اپنے قبضے میں کر لیا اور شام سے گولان کی پہاڑیاں،جن کا رقبہ ایک ہزار ایک سو پچاس مربع کلو میٹر ہے،چھین لیں۔گویا اس جنگ میں اسرائیل نے سارے کے سارے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔
چھ اکتوبر1973ء کو مصر کے صدر انور السادات اور شام نے بیک وقت اسرائیل سے اپنے مقبوضہ علاقے واگزار کرانے کے لئے اس پر حملہ کیا۔1978ء میں سادات نے امریکی ثالثی کے ذریعے کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل سے سمجھوتہ کیا، جس کے تحت اسرائیل نے صحرائے سینا خالی کر دیا۔گویا سادات نے مصر کا علاقہ تو واپس لے لیا مگر فلسطین کا جو پورا علاقہ اس کے پاس تھا یعنی غزہ کی پٹی اور جسے اسرائیل نے 1967ء میں قبضہ کر لیا تھا،اسے اس نے اسرائیل ہی کے قبضے میں رہنے دیا۔ان مذاکرات میں شام اور فلسطین کے لیے خالی کرسیاں رکھی جاتی تھیں، مگر شام اور تنظیم آزادئ فلسطین نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کیا۔ بعد میں ان دونوں کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا۔
19اگست 1993ء کو اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان ’’اوسلوامن معاہدہ‘‘ ہوا۔اس معاہدہ پر گواہوں کی حیثیت سے امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ نے دستخط کئے۔یہ معاہدہ دوسال کے خفیہ مذاکرات کے بعد طے پایا۔اس معاہدے کا فائدہ یہ ہوا کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو نظری اعتبار سے تسلیم کر لیا۔اس معاہدے کا منفی نکتہ یہ ہے کہ اس میں ایک پیچیدہ اور بہت آہستہ رو طریقہ کارکے مطابق فلسطینی اتھارٹی کو اختیارات تفویض کئے جانے تھے۔ آزادی فلسطین کیلئے متحرک دیگر تنظیموں کو پی ایل او کی اجارہ داری بھی قبول نہ تھی اور جب پی ایل او کو کہا گیا کہ وہ حماس وغیرہ کی کارروائیوں کو روکے تو پی ایل او کی بات ماننے کو کوئی تیار نہ تھا۔
اسرائیل پورے بیت المقدس کو اپنا دارالخلافہ مانتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مانتے ہیں۔ امریکہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو اسرائیلی دعوے کو تسلیم کرتا ہے۔گذشتہ 50 سالوں میں اسرائیل نے یہاں آبادیاں بنا لی ہیں جہاں چھ لاکھ یہودی رہتے ہیں۔ آباد کاری میں وسعت اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے عزائم ہی سے یہاں ہمیشہ اسرائیلی جارحیت سامنے آئی اور فلسطینیوں کا خون پانی کی طرح بہا۔
جانے کب ہوں گے کم
اس دنیا کے غم

50% LikesVS
50% Dislikes