دنیا میں نفرت انگیزی کا آغاز یکدم نہیں ہوا، اس کام میں یورپی ریاستیں شامل رہی ہیں: یورپی پارلیمنٹ – Kashmir Link London

دنیا میں نفرت انگیزی کا آغاز یکدم نہیں ہوا، اس کام میں یورپی ریاستیں شامل رہی ہیں: یورپی پارلیمنٹ

لندن (کشمیر لنک نیوز) یورپی پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کے حوالے سے قائم سب کمیٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ واضع کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اقلیتیں نفرت انگیز مواد کی وجہ سے زیر عتاب ہیں۔ اس امر کو یورپی پارلیمنٹ میں خاص طور پر پاکستان ، نائجیریا اور لبنان میں تعینات یورپین سفیروں نے اعتقاد یا مذہب کی بنیاد پر اقلیتوں پر ظلم و ستم کے عنوان سے اپنی رپورٹس میں پیش کیا۔

یورپین پارلیمنٹ کی سب کمیٹی برائے انسانی حقوق میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کی صدارت چئیر پرسن ماریا ارینا نے کی۔
اجلاس میں سب سے پہلے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ممبر یورپین پارلیمنٹ کارول کراسکی نے اظہار خیال کیا اور کہا کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ظلم مسیحیوں، پھر مسلمانوں، یہودیوں اور پھر بدھ مت کے ماننے والوں پر ہورہا ہے جبکہ اس میں مزید اقلیتیں بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر برائے اقلیتی امور فرنند دی ویرینیس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا بھر کو ایک اہم مسئلے یعنی نفرت انگیز گفتگو کی سونامی کا سامنا ہے۔ انکا کنا تھا کہ میں دکھ کے ساتھ یہ بات قبول کر رہا ہوں کہ اس میں یورپ کی اپنی کچھ ریاستیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہولوکاسٹ سیدھا گیس چیمبر سے شروع نہیں ہوا تھا بلکہ یہ نفرت پر مبنی تقریروں اور خیالات سے شروع ہوا تھا، آج کی دنیا میں بھی ہم اس طرح کے واقعات دیکھ سکتے ہیں، جیسے کہ میانمار میں ہوا ۔

پاکستان میں موجود یورپین یونین کی سفیر اندرولا کامینارا نے اپنی گفتگو میں اقلیتوں کو درپیش مسائل کے علاوہ اس کے سیاسی ، مذہبی اور سماجی معاملات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ بانئ پاکستان محمد علی جناح نے ریاست کے قیام کے فوری بعد جو کہا تھا ، اس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ اب سب ایک ریاست کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان سائوتھ ایشیا میں مسلمانوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن دوسرے مذاہب کو بھی اس کے آئین کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا جس کا اظہار اس کے قومی پرچم کی ترتیب سے ہوتا ہے ۔ اس پرچم کا سبز حصہ مسلمانوں جبکہ سفید حصہ دیگر اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes