آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ کا وزیر تعلیم کی مخالفت کے باوجود ملکہ برطانیہ کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ – Kashmir Link London

آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ کا وزیر تعلیم کی مخالفت کے باوجود ملکہ برطانیہ کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ

آکسفورڈ (اکرم عابد) دنیا کی قدیم اور عظیم درسگاہ کہلانے والی آکسفورڈ یونیورسٹی میں طلبہ کی ایک تحریک پر کامن روم سے ملکہ برطانیہ کا پورٹریٹ ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے میگڈالن کالج میں گریجویشن کے طلبا کے کامن روم کی دیوار پر لگی ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم کی جوانی کی تصویر ہٹانے کے معاملے پر ووٹنگ ہوئی جس میں طلبا کی اکثریت نے اسے ہٹانے کے حق میں ووٹ دے دیا۔

تصویر ہٹانے کے حامی طلبا کا موقف ہےکہ ملکہ کی تصویر نوآبادیاتی دور کی یادگارہے جو کہ یہاں پڑھنے والے کئی طلبا کے لیے ناپسندیدہ ہوسکتی ہے جبکہ اسکی مخالفت کرنے والے طلبہ کا کہنا تھا کہ ملکہ کی تصویر برطانیہ کی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے جس کا سب کو احترام کرنا چاہیے۔

طلبا کی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ملکہ کی تصویر کی جگہ کوئی شاہکار تصویریا کسی متاثر کن شخصیت کی تصویر لگائی جائے گی جب کہ آئندہ سے کسی شاہی خاندان کے فرد کی تصویر لگانے سے قبل ووٹنگ کی جائے گی۔

دوسری جانب عوامی حلقوں سمیت ممبران پارلیمنٹ نے بھی اسے غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا ہے، برطانوی وزیر تعلیم گیون ولیم سن ایم پی اپنا فوری ردعمل دیتے ہوئے اس فیصلے کو بدلنے کا کہا تھا تاہم آکسفورڈ یونین کی صدر نے اپنا طلبہ کے اکثریتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ملکہ کی تصویر ہٹانے کا شارہ دیدیا ہے، واضع رہے آئیندہ سال ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کی پلاٹینم جوبلی منائی جارہی ہے جسکی تیاریاں حکومتی سطح پر شروع ہوچکی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes