پاکستانی سفارتخانہ برائے سویڈن و فن لینڈ اور وزارتِ تجارت پاکستان کی ایمازون کے حوالے سے آن لائن ورکشاپ – Kashmir Link London

پاکستانی سفارتخانہ برائے سویڈن و فن لینڈ اور وزارتِ تجارت پاکستان کی ایمازون کے حوالے سے آن لائن ورکشاپ

سٹاک ہوم (کشمیر لنک نیوز) پاکستانی سفارتخانہ برائے سویڈن و فن لینڈ اور وزارتِ تجارت پاکستان کی جانب سے ایمازون کے حوالے سے آن لائن ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، پاکستان اینیبلرز، جمسا انٹرنیشنل، ڈی ایچ ایل، پاکستان پوسٹ، ای کامرس سویڈن، زاگو سویڈن، کول پریسر سویڈن سمیت متعدد مقامی کمپنیوں نے شرکت کی۔فیڈرل سیکرٹری کامرس محمد صالح احمد فاروقی صاحب نے بطور مہمانِ خصوصی پروگرام میں شرکت کی اور پاکستان میں ای کامرس کے بڑھتے ہوئے رحجان کے حوالے سے شرکاء سے خطاب کیا۔

سفیرِ پاکستان ڈاکٹر ظہور احمد نے پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے شرکاء سے کہا کہ ایمازون چونکہ سویڈن اور پاکستان دونوں ممالک کے لئے ایک نئی مارکیٹ ہے اس حوالے سے ہم نے اس ورکشاپ کا انعقاد ضروری سمجھا تاکہ پاکستانی مقامی تاجر سویڈش مارکیٹ کے حوالے سے مکمل آگاہی حاصل کرسکیں اور پاکستانی مصنوعات کو سویڈن سمیت یورپ کی دیگر منڈیوں تک بآسانی پہنچا سکیں، پاکستان اینیبلرز کے نمائندے نے پاکستانی تاجروں کو ایمازون پر اکاؤنٹ بنانے سے لے کر پورے ورکنگ سائکل کے حوالے سے تفصیلی معلومات مہیا کی، پوسٹ ماسٹر جنرل سینٹر پنجاب پاکستان پوسٹ جناب خواجہ عمران رضا نے ای کامرس کے بڑھتے ہوئے رحجان میں پاکستان پوسٹ کے کردار پر روشنی ڈالی ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی تاجروں کو ہر سطح پر سہولیات دینے کے ہر وقت تیار ہیں یہاں تک کہ ہم دنیا کی دیگر کورئیر سروسز جیسے ڈی ایچل وغیرہ سے پارٹنرشپ کرکے بھی ملک کے تاجروں کو بہتر خدمات دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جمسا انٹرنیشنل کی جانب سے زبیر حسین نے ایمازون کے متبادل پلیٹ فارم سے متعلق لائحہ عمل پر بات کی ان کا کہنا تھا کہ ایمازون سویڈن میں اس طرح کامیابی حاصل نہیں کر پارہا جس طرح یورپ کے دیگر ممالک میں اسے پذیرائی حاصل ہوئی ہے کیونکہ سویڈن میں جب ایمازون لانچ کیا گیا تو اگلے ہی دن اخبارات کی ہیڈ لائن تھی کہ ایمازون سویڈن کی دیگر آن لائن کمپنیوں کا مقابلہ نہیں کر پارہا کیونکہ ایمازون سویڈش کمپنیوں کے مقابلے میں آٹھ فی صد مہنگا ہے۔ زبیر حسین کا کہنا تھا کہ ایمازون کا مقابلہ سویڈن کی ایک بہت بڑی کمپنی بوزٹ سے ہے جو کہ ایمازون کے طرز پر وئیر ہاوسز کی سہولت کے ساتھ ساتھ ایک دن میں ڈیلیوری کی سہولیات مہیا کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تاجروں کے لئے نارڈک مارکیٹ میں سب سے بڑا آپشن کول پریسر کی شکل میں موجود ہے جو کہ ناصرف ایمازون کے مقابلے پاکستانی تاجروں کو سہولیات میں سستا بلکہ معیاری متبادل کے طور پر بھی مدد کرے گا، کول پریسر کے مکمل کتابچہ بہت جلد سفارتخانہ پاکستان برائے سویڈن و فن لینڈ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگا جس کی مدد سے پاکستانی تاجروں کو کافی مدد میسر آسکے گی۔

ورکشاپ کے اختتام پر ٹریڈ کانسلر غلام مصطفی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ کوئی بھی پاکستانی تاجر کسی بھی وقت کاروباری مدد کے حوالے سے سفارتخانے کی ٹیم سے رابطہ کرسکتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes