بلدیاتی اداروں کا مقدر – Kashmir Link London

بلدیاتی اداروں کا مقدر

بلدیاتی ادارے، بے چارے، بحال ہوکر بھی بے حال، ابہام کی گہری دھند ہے۔ یہ ادارے وجود تو رکھتے ہیں مگر حکومت انہیں بے دست و پا بنائے ہوئے ہے۔ ان کو فنڈز دئے جارہے ہیں نہ وسائل صرف کرنے کی اجازت۔ سپریم کورٹ نے 25 مارچ کو جس مختصر حکم میں بلدیاتی اداروں کو بحال کیا اس کا تفصیلی فیصلہ بھی رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں جاری کردیا گیا۔ پنجاب حکومت نے نہ صرف بلدیاتی اداروں کو فعال نہیں کیا بلکہ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں نظر ثانی کی درخواست لئے جا پہنچی۔ ادارے کما حقہ بحال نہ کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کے خلاف ایک رٹ لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔ بحال اداروں کے عہدیدار عجب مخمصے میں ہیں۔ 31 دسمبر کو بلدیاتی اداروں کی آئینی مدت پوری یورپی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے نئے الیکشن 31 دسمبر کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔ اس دوران بحال شدہ ادارے اپنا کام کیسے کریں، نئے الیکشن کس ایکٹ کے تحت ہوں، حکومت نئے تشکیل پانے والے ان اداروں کو دوبارہ معطل تو نہیں کرے گی۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات تلاش کرنے کیلئے سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن نے لاہور کے ایک ہوٹل میں دانش وروں کی بیٹھک لگائی۔ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زاہد اسلام ایک جہاں دیدہ اور متحرک شخص ہیں۔ ان کی ہدایات کی روشنی میں سنگت فاؤنڈیشن کی پروگرام آفیسر افشاں خان نے مختصر نوٹس پر ایسی شخصیات کو ایک ٹیبل پر بٹھادیا جو بلدیاتی نظام کی تاریخ اور اس کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہیں۔ راقم کو بھی پہنچنے کا حکم ملا، لبیک کہنا پڑا۔ پاکستان الیکشن کمشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد، جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ، مبین قاضی ایڈووکیٹ، سلمان عابد، انجم رشید، پنجاب یونیورسٹی سے امجد مگسی، چیئرمین ضلع کونسل قصور اور دیگر شرکاء بلدیاتی اداروں کی صورت حال پر بڑے متفکر نظر آئے۔ اس کے محاسن و مصائب پر خوب مباحثہ ہوا۔ تھوڑے بہت اختلاف کے باوجود شرکائے مجلس اس بات پرمتفق نظر آئے کہ 2022کے اوائل میں بلدیاتی اداروں کے الیکشن ضرور منعقد ہونے چاہئیں اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وابستگی سے بالا تر ہوکر ان اداروں کو جینے دے، فعال کرے اور ان کو پوری خودمختاری دے۔ مبین قاضی نے عدالتی فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی بحالی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس گلزار احمد نے تحریر کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز اور شہری اسد علی خان نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں۔ سپریم کورٹ نے 25 مارچ کو کیس کا مختصر فیصلہ سنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ کا سیکشن 3 آئین کے آرٹیکل 140 اے کی خلاف ورزی اور غیر آئینی ہے، آرٹیکل 140 کے تحت قانون بنایا جاسکتا ہے لیکن اداروں کو ختم نہیں کیا جاسکتا، عوام کو ان کے منتخب نمائندوں سے دور نہیں رکھا جاسکتا، اور صرف صوبائی حکومت کی خواہش پر بلدیاتی ادارے تحلیل نہیں ہوسکتے۔ آرٹیکل 140 کے تحت قانون بنایا جاسکتا ہے لیکن اداروں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ پنجاب میں بلدیاتی نظام کو تحلیل کرنا آئین کے آرٹیکل 17، 140 اے، 7 اور 32 کی خلاف ورزی ہے۔ پنجاب حکومت نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ (پی ایل جی اے) 2019 کے سیکشن 3 کے تحت بلدیاتی اداروں کو تحلیل کردیا تھا حالانکہ انتخابات پی ایل جی اے 2013 کے تحت 2015 اور 2016 میں مرحلہ وار ہوئے تھے۔ صوبائی حکومت نے سیکشن 3 (2) میں ترمیم کے بعد ’پانچ سال‘ کی جگہ ’21 ماہ‘ کے الفاظ اس میں شامل کرتے ہوئے گزشتہ سال 2 جولائی کو بلدیاتی اداروں کو ختم کردیا تھا۔ درخواست گزاروں نے پی ایل جی اے 2019 کی دفعہ 3 کے تحت اس تحلیل کو چیلنج کیا تھا کہ بلدیاتی اداروں کے منتخب ممبران اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے اہل ہیں، جو اس سال 31 دسمبر کو ختم ہونی ہے۔

آئین کے آرٹیکل 140-اے کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا کہ اس دفعہ میں صوبوں کی جانب سے بلدیاتی نظام کے قیام کا تصور دیا گیا ہے۔ فیصلے میں عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبائی مقننہ قانون بنانے کا اہل ہے اور 2019 کا قانون ایک قانون ساز اسمبلی نے بنایا ہے تاہم مسئلہ صرف اس ایکٹ کے سیکشن 3 کے حوالے سے ہے جہاں اس سے پنجاب میں مقامی حکومتیں تحلیل ہو جاتی ہیں اور تمام منتخب نمائندوں کو اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کی اجازت کے بغیر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود بلدیاتی ادارے بحال نہ ہونے کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ میں بلدیاتی نمائندوں کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر لی گئیں ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے بلدیاتی نمائندوں کی درخواستوں پر چیف سیکریٹری پنجاب اور سیکریٹری بلدیات سمیت دیگر سے باز پرس کریں گی کہ بلدیاتی اداروں کا قصور کیا ہے۔ کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے پنجاب میں بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے کے خلاف حکم کے باوجود رواں سال نظام کی مدت پوری ہونے سے قبل اس کی بحالی کا امکان نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن آف پاکستان کا عہدیدار رہا ہوں اور اس بناء پر مجھے یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں لگ رہا کیونکہ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ نے پی ایل جی اے 2019 کو مسترد نہیں کیا، لہٰذا ایکٹ 2013 کے تحت منتخب نمائندے نئے ایکٹ کے تحت اختیارات استعمال نہیں کر سکتے۔ کنور دلشاد کا خیال تھا کہ اس وقت بن بلدیاتی اداروں سے متعلق کسی آئینی ترمیم کی حمائت نہیں کی جانی چاہئے اور سارا فوکس نئے انتخابات کے بلا تاخیر انعقاد پر ہونا چاہئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes