برطانیہ سے پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کیلئےغیر قانونی اقدامات کیے جانے کا انکشاف – Kashmir Link London

برطانیہ سے پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کیلئےغیر قانونی اقدامات کیے جانے کا انکشاف

لندن (کشمیر لنک نیوز) برطانیہ سے پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کیلئے جلدبازی میں غیر قانونی اقدامات کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندر ی راستے سے انگلینڈ پہنچنے والے سینکڑوں افراد کو فوری طور پر امیگریشن مراکز سے ہٹانے کا سلسلہ شروع کر دیاگیا ہے جس سے ان کے سیاسی پناہ کے دعوئوں پر مناسب غور وفکر کیے جانے یا فیصلہ ہونے کے بغیر ہوم آفس کی خفیہ پالیسی کے تحت ملک بدر کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

زیر حراست افراد میں ویتنام ، افغانستان اور عراق سمیت دیگر ممالک سے واضح طور پر اسمگلنگ اور تشدد کا نشانہ بننے والے افراد شامل ہیں جنہیں عام طور پر کمیونٹی میں پناہ کی رہائش کی اجازت ہوتی ہے جبکہ ان کے دعوؤں پر کارروائی کی جاتی ہے لیکن اس کے بجائے انہیں مؤثر طریقے سے قید کردیا جاتا ہے بچے بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو چینل کو عبور کر چکے ہیں اور انہیں براہ راست امیگریشن مراکز سے ہٹاکر مراکز بھیج دیا گیا ہے وکیلوں کے ذریعے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہوم آفس نے کم عمری کی حیثیت سے بالغ افراد کی حیثیت سے ان کا ذاتی طور پر جائزہ نہیں لیا۔

کچھ پناہ گزینوں کو مئی کے شروع میں اترنے اور فوری طور پر ہٹانے کے ایک مرکز میں حراست میں لینے کے بعد وکیل تک رسائی سے انکار کیا گیا ہے مہم چلانے والوں نے کہا کہ یہ عمل ایک مہذب اور ہمدرد قوم کا کام نہیں ہے سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل کی قومیت اور سرحدوں کا بل سامنے آیا ہے جس میں سیاسی پناہ کے نظام میں اصلاح کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن اقوام متحدہ کی طرف سے یہ بیان دیا گیا ہے کہ وہ برطانیہ کو تارکین وطن کے لئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے محروم کرنے کی اجازت دینے میں قریب قریب نظریاتی نقطہ نظر رکھتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes