تگڑا اور مصروف گورنر پنجاب – Kashmir Link London

تگڑا اور مصروف گورنر پنجاب

گورنر تگڑا ہو تو گورنر ہاؤس میں چہل پہل رہتی ہے ورنہ وزیر اعلیٰ ہاؤس مرجع خلائق ہوتا ہے۔ وفاق میں صدر اور صوبے میں گورنر کے بارے میں عام قیاس ہے کہ دستخط کیلئے فائلوں پر محض قلم چلایا، ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے رہے یا گولف کھیل لی۔ تاہم اگر سیاسی پختگی کے حامل، تجربہ کار اور زیرک شخص کو اس عہدے پر بٹھادیا جائے تو وہ بظاہر اس غیر فعال عہدے کو متحرک بناکر اس کی اہمیت کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ چودھری محمد سرور بھی ایسی ہی شخصیت ہیں جن کے بارے میں ان کے مخالفین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سیاست کے سارے کھیل جانتے ہیں۔  وزیر اعلیٰ کے بارے میں کہوں تو میرے پر  جلتے ہیں تاہم جوڑ توڑ، داؤ پیچ ان کے آگے دست بستہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ چودھری سرور پارٹی میں اس قدر ہیوی ویٹ ہیں کہ گورنر بنا کر انہیں” مصروف” کردیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اب بھی انہیں کنکھیوں سے دیکھتے ہیں۔ گورنر کا عہدہ ان کو اتنا راس ہے کہ دوسری مرتبہ براجمان ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے اٹھے اور ولائت جا بسے، مٹی کو بھی ہاتھ لگایا تو سونا بنایا، کاروبار میں نام کمایا، برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے سردار بنے. رکن پارلیمنٹ بن کر پاکستان اور پاکستانیوں کا نام روشن کیا۔ پھر یوں ہوا کہ وطن کی محبت غالب آ ئی۔ برطانوی شہریت ملکہ برطانیہ کو شکریے کے ساتھ واپس کی اور سیدھا لاہور آکر سانس لیا۔ گزشتہ حکومت اور موجودہ حکومت دونوں نے ان کی شخصیت پر اعتماد کا اظہار کیا اور گورنری ان کی جھولی میں ڈال دی۔ اس گورنری کو وہ خوب نبھا رہے ہیں۔ گورنر غیر سیاسی بھی چل جاتا ہے لیکن اگر سیاسی ہو تو عربی گھوڑے کی سرعت سے آگے بڑھتا ہے۔ چودھری محمد سرور بھی کئی محاذوں پہ وفاق کے میمنہ اور میسرہ بنے رہتے ہیں۔ سیاسی ورکرز، ارکان پارلیمنٹ، غیر ملکی وفود، بزنس کمیونٹی اور ٹیکنوکریٹس سے طریقے سلیقے سے ملنا اور سرخرو ہونا کوئی ان سے سیکھے۔ لیکن گورنری کا ایک اہم ترین پہلو اور ذمہ داری صوبے میں موجود سو کے قریب نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں کا چانسلر ہونا بھی ہے۔ ایک یونیورسٹی کے معاملات اتنے پیچیدہ اور گھمبیر ہوتے ہیں کہ وائس چانسلر ان کو نبٹاتے اپنے اعصاب شل کرلیتا ہے لیکن 100 یونیورسٹیوں کو سپروائز کرتے ہوئے چودھری محمد سرور نہ کبھی تھکے، نہ بیزار یوئے۔ ڈی ایس یونیورسٹیز محمود الحسن کا کہنا ہے کہ چانسلر صاحب نے اپنی ٹیم کو بھی سبک خرام کر رکھا ہے کہ یونیورسٹی کی کوئی فائل  گورنر ہاؤس میں نہ رکے اور فوری نبٹادی جائے۔ گورنر کی افسر تعلقات عامہ لالہ رخ بڑی پروفیشنل اپروچ رکھنے والی خاتون ہیں۔ ایجوکیشن پہ لکھتے ہوئے ان کی معاونت رہتی ہے۔ ان سے ایک دن تذکرہ ہوا کہ کیوں نہ بطور چانسلر گورنر پنجاب کی ملاقات ایجوکیشن پر لکھنے والے اخبار نویسوں سے رکھی جائے تاکہ چودھری محمد سرور کا تعلیم فہمی بھی دنیا دیکھے۔ انہوں نے جھٹ ملاقات ارینج کرادی۔ گورنر کے آفس پہنچے تو وہ گویا خوب تیاری کئے بیٹھے تھے۔ ضخیم اعدادوشمار ان کو از بر تھے۔ الف سے ی تک ساری پیش رفت لمحوں میں سنادی کہ ان کے دور میں کیسے یونیورسٹیوں کو ترقی دی گئی۔ 

 چوہدری محمد سرور نے بتایا کہ احتساب اور شفافیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ صوبے میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے احتساب کا کوئی مکینزم ناگزیر ہے۔ احتساب کا مطلب احتساب ہونا چاہئیے، ہراساں کرنا نہیں۔ وائس چانسلرز کو ہم نے عزت دینی ہے اور انہیں محض مفروضے کی بنا پر تفتیشیوں کے سپرد نہیں کرنا۔ چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ صوبے میں کسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف کوئی ٹھوس شکائت سامنے آئی تو بطور چانسلر میں خود اس کے خلاف تحقیق اور کارروائی کروں گا۔انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسمنٹ سنگین مسئلہ ہے جس پر ہرگز کوئی معافی نہیں دی جائے گی۔ میں نے تمام وائس چانسلرز کو اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کردی ہیں کہ ہراسگی میں ملوث کسی بھی فرد کو اس کی حیثیت سے متاثر ہوئے بغیر کٹہرے میں کیا جائے اور اس معاملے میں ہماری زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بیوروکریسی سے کہا ہے کہ یونیورسٹیوں کے معاملات کو بلا تاخیر نبٹائیں۔ اگر کوئی فائل مہینوں اور برسوں دفاتر میں پڑی رہے گی تو سائلین پھر اس کا متبادل حل تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال نجی یونیورسٹی کی ہے جس نے ایک ماہ میں ازبکستان سے خود کو چارٹر کرا لیا۔ انہوں نے کہ  ہڑپہ میں یونیورسٹی آف آرکیا لوجی کا قیام بڑا مفید ہوگا اور میں یہ آئیڈیا پنجاب کی جامعات کے سامنے رکھوں گا۔ ہڑپہ اور ٹیکسلا میں ہزاروں برس قدیم تہذیبوں کے آثار ہیں۔ دنیا بھر کے سیاحوں اور سکالرز کی توجہ حاصل کرنے کیلئے یہ انقلابی اقدام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی بڑی یونیورسٹیاں کم از کم ہڑپہ میں اس موضوع پر اپنا ڈیپارٹمنٹ یا انسٹیٹیوٹ قائم کرسکتی ہیں۔ آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ہڑپہ ایسے نادر آثار قدیمہ کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے سے ہم سیاحت سے کروڑوں ڈالر سالانہ کماسکتے ہیں۔ گورنر پنجاب نے اس بات پر اطمینان اور فخر کا اظہار کیا کہ  پاکستان کا شمار دنیا کے ان پانچ ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے کرونا کے خلاف بہترین حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستانی یونیورسٹیوں نے کرونا میں درس وتدریس کے متبادل ذرائع اختیار کرکے تعلیم کا حرج نہیں ہونے دیا۔ آن لائن تعلیم، ویبی نار اور ورچوئل لرننگ کی تکنیک سے ہم اس وبا کے تعلیم پر وار کو بڑی حد تک روک پائے ہیں۔ چودھری محمد سرور نے کہا کہ بطور چانسلر میں نے یونیورسٹیوں سے ایڈہاک ازم ختم کرنے اور میرٹ پر تعیناتیوں کو یقینی بنایا۔ جب میں نے چانسلر کا عہدہ سنبھالا تو 12 سرکاری یونیورسٹیوں میں عارضی وائس چانسلر تعینات تھے۔ میں نے ہر یونیورسٹی میں میرٹ پر مستقل  وائس چانسلر مقرر کیا۔ اس کے علاؤہ رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، ٹریژرر اور ڈین کی پوسٹیں بھی عارضی سے مستقل کیں اور اس سارے عمل میں میرٹ کو مدنظر رکھا۔ انہوں نے کہا پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں کے ملازمین کو ڈسپیرٹی الاؤنس دیاجانا چاہئے اور جامعات کے سرکاری فنڈز میں بھی اضافہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے فنڈز میں اضافہ کیا ہے تو اس کے ثمرات ملک کی سب جامعات تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری یونیورسٹیوں کو اپنی تعلیم  بین الاقوامی معیار کی بنانی چاہئے اور آئسولیشن سے نکلنا چاہئے۔ آئسولیشن سے نکل کر جب دنیا بھر کی یونیورسٹیوں سے رابطہ بڑھے گا تو ہمارے اداروں کا وژن بھی وسیع ہوگا اور اشتراک کے مواقع بڑھیں گے۔ میں نے یونیورسٹیوں سے کہا ہے کہ وہ زرعی گریجوایٹس کی انٹرنشپ یعنی عملی تربیت یقینی بنائیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان اور دیگر یونیورسٹیاں اس وقت تک اپنے طلبا کو ڈگری جاری نہ کریں جب تک وہ کسی فارم ہاؤس یا بڑے زمیندار کے ساتھ ایک سال کام نہ کرلیں۔ میں نے باہمی اشتراک کو عمل جامہ پہنانے کے لیے کچھ امریکی یونیورسٹیوں سے بھی بات چیت کی ہے اور ماضی قریب میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے درمیان معاہدہ طے پایا جس میں دونوں یونیورسٹیز کے درمیان معاہدے پر بطور چانسلر میرے اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ڈاکٹر جوانا نے دستخط ہوئے۔ اس حوالے سے میں نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب پنجاب کی یونیورسٹیز کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں ہو گا۔  

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے خلاف طلبا کو اگر کوئی شکائت ہو وہ گورنر ہاؤس سے رابطہ کریں ان کی شکائت کا جائزہ لیا۔جائے گا۔ پرائیویٹ ممبرز بل کے ذریعے نجی یونیورسٹیوں کے قیام کے بارے میں ایک سوال پر گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی قائم کرنے کے معیار ہوتے ہیں۔ اگر ان معیارات کو پورا کرلیا جائے تو نئے ادارے بننے چاہئیں۔ لیکن میں بطور چانسلر یقین دلاتا ہوں کہ کسی نئی یونیورسٹی کو اس وقت تک داخلے شروع کرنے کی اجازت نہیں دوں گا جب تک وہ تمام تقاضے پورے نہ کرلے۔ ایک اور سلگتا مسئلہ جس پر گورنر پنجاب بڑے متفکر نظر آئے وہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا بڑھتا استعمال ہے۔ چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں کو ہیپاٹائیٹس اور ڈرگز سے پاک کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ چوہدری محمد سرور نے کہاکہ انہیں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے بتایا کہ وہ تین بار قرآن پاک پڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم قرآن پاک سے استفادہ کر سکتے ہیں تو بطور مسلمان ہمیں بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے قرآن پاک کی یونیورسٹیوں میں ترجمہ کے ساتھ تدریس شروع کردی ہے۔وائس چانسلرز کا کردار قابل ستائش ہے جو تعلیم کے ہر شعبہ میں بڑھ چڑھ کر رہنمائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو منشیات کے استعمال کی روک تھام کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔طلبا کو چاہئے کہ وہ منشیات کے استعمال کو پھیلنے سے روکنے کیلئے آگاہی پیدا کرنے میں اپنے سوشل میڈیا ٹائم کا دس فیصد مختص کریں۔

چودھری محمد سرور کا گفتگو کے اختتام پر یہ کہنا راقم کیلئے بھی اسائنمنٹ ہے کہ ایجوکیشن سیکٹر پر عقابی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ گورنر پنجاب کا یہ فرمانا کہ اس موضوع ہے مزید نشست رکھیں گے ان کی تعلیم دوستی اور صحافت سے دوست کا ثبوت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes