برطانیہ میں اعضا عطیہ کرنے والے ڈونرز کی تعداد میں خاطر خواہ کمی، نسلی اقلیتیں شدید مشکل کا شکار – Kashmir Link London

برطانیہ میں اعضا عطیہ کرنے والے ڈونرز کی تعداد میں خاطر خواہ کمی، نسلی اقلیتیں شدید مشکل کا شکار

لندن (کشمیر لنک نیوز) برطانوی محکمہ صحت میں اعضا کی پیوند کاری کے ذمہ دار ادارے نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سیاہ فام سمیت تمام نسلی اقلیتیں زندہ انسانوں کے عطیات سے محروم ہوتی جارہی ہیں۔ این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران تعداد میں کمی کے بعد سیاہ فام ایشیائی مخلوط النسل اور نسلی اقلیتوں کے پس منظر کے حامل اعضا کے زندہ عطیہ دہندگان کی تعداد میں اضافے کے لئے مزید اقدامات کئے جانے کی اشد ضرورت ہے۔

کوویڈ 19 سے ہیلتھ سسٹم پر رکاوٹوں کے باوجود گزشتہ سال مجموعی طور پر 444 مریض ایک زندہ عطیہ دہندہ سے عطیہ وصول کرنے کے قابل ہوسکے تاہم پچھلے سال کے مقابلے میں یہ 58 فیصد کمی ہے۔ گزشتہ 5 سال کے دوران سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے زندہ عطیہ دہندگان کی تعداد تقریباً 160 رہی تاہم وبا کے بعد 2020-21ء میں 62 تک گر گئی جو 61 فیصد کمی ہے۔

دریں اثناء سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی اقلیتوں کے پس منظر کے حامل متوفی عطیہ دہندگان کی تعداد گزشتہ سال 25 فیصد گر گئی جو 2019-2020ء میں 112اور 2020-21ء میں 84 تھی۔ 31 مارچ کو ان کمیونٹیز کے 1237 افراد منتقلی اعضا کی ویٹنگ لسٹ میں تھے تمام لوگوں میں ساڑھے 29 فیصد افراد منتقلی اعضا کے لئے انتظار کر رہے تھے۔

وبا کے باعث بہت سارے مریضوں کو ویٹنگ لسٹ سے معطل کر دیا گیا کیونکہ عطیہ دہندگان اور منتقلی کم تھی۔ انتہائی نگہداشت کے یونٹوں پر دبائو کا مطلب یہ تھا کہ جان بچانے یا زندگی تبدیل کرنے والی منتقلی اعضا کے آپریشن ملتوی کرنے کی ضرورت ہے۔ یارکشائر سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ سندھو کو دن رات ڈائلسز سے گزرنا پڑ رہا ہے اس کے خاندان کو ایک زندہ عطیہ دہندہ کی تلاش کے لئے اپیل کرنا پڑی۔ بالی سنگھ سندھو گردے کی منتقلی کے لئے 3 سال سے انتظار کر رہا ہے جب کہ 10 سال قبل اسے بتایا گیا تھا کہ اس کے گردے فیل ہوگئے ہیں۔

بیم ٹرانسپلانٹ الائنس کے صدر کرٹ موڈی نے کہا ہے کہ وبا کا اعضا کی منتقلی کا انتظار کرنے والے سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں پر بڑا اثر پڑا ہے اور پہلے سے زیادہ ضروری ہے کہ اپنے عزیزوں سے اعضا کے عطیے کے بارے میں بات چیت کی جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes