پاکستان حالیہ ریویو میں ریڈ لسٹ سے کیوں نہ نکل سکا، برطانوی وزیر صحت کی وضاحت – Kashmir Link London

پاکستان حالیہ ریویو میں ریڈ لسٹ سے کیوں نہ نکل سکا، برطانوی وزیر صحت کی وضاحت

لندن (عمران راجہ) پاکستان برطانوی ریڈ لسٹ سے کیوں نہیں نکلا، یہ ایک ایسا سوال ہے جو برطانیہ میں مقیم پندرہ لاکھ پاکستانیوں کے علاوہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگون کے ذہنوں میں ہے، بہترین اقدامات اور ڈیٹا کی بروقت فراہمی کے بعد بھی ایسا ہونا اوورسیز پاکستانیوں کیلئے شاک سے کم نہ تھا تاہم اب حقائق برطانوی وزیر صحت نے رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی کے سامنے رکھ دئے ہیں۔

لارڈ جیمز نکولس نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوروناوائرس کا پھیلاؤ رپورٹ کیسز سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے، پاکستان ٹیسٹنگ اور جینومک سیکیوئنسنگ میں بہت پیچھے ہے۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیسٹنگ، سیکوینسنگ کم ہے، انفیکشن کی اصل شرح سامنے نہیں آرہی۔

لارڈ بیتھل نے یاسمین قریشی کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ٹیسٹنگ کی شرح مختلف ہے، پاکستان میں ڈیلٹا ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وبا کےخلاف پاکستان کی کاوشیں سراہتے ہیں، مل کر کام کرتے رہیں گے، پاکستان کو جینومک اسکریننگ کی صلاحیت بڑھانے میں تعاون کریں گے۔ لارڈ بیتھل نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ٹیسٹنگ اوسط شرح سے کم ہے۔

برطانوی وزیر صحت نے کہا کہ جوائنٹ بائیو سیکیورٹی سینٹر صحت عامہ کو درپیش خطرات کا تعین کرتا ہے، ٹریول لسٹ سے متعلق فیصلہ جوائنٹ بائیو سیکیورٹی سینٹر کرتا ہے، جبکہ برطانوی حکومت جوائنٹ سیکیورٹی سینٹر کی تجاویز کے مطابق لسٹ کا فیصلہ کرتی ہے۔ لارڈ بیتھل نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات کی ہے، پاکستان اور برطانیہ کے ہیلتھ آفیشلز کے درمیان رابطوں کے لیے ورکنگ گروپ بنایا۔

50% LikesVS
50% Dislikes