پاکستان یونین ناروے کےزیراہتمام جشن آزادی تقریب،سیاسی وسماجی رہنماؤں سمیت کمیونٹی شخصیات کی شرکت – Kashmir Link London

پاکستان یونین ناروے کےزیراہتمام جشن آزادی تقریب،سیاسی وسماجی رہنماؤں سمیت کمیونٹی شخصیات کی شرکت

اوسلو(کشمیر لنک نیوز) پاکستان یونین ناروے کےزیر اہتمام جشن آزادی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سیاسی، سماجی و مذہبی رہنماؤں سمیت کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سینئر ڈائریکٹر پروڈیوسر شہزاد غفور بٹ نے سر انجام دیئے جبکہ تقریب کا آغاز زاکر حسین نےتلاوت قرآن پاک سے کیاتقریب سے پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمر اقبال فروڈےیاکوبسن (اے پی اوسلوکے صدر)ارنسٹ موڈیسٹ ہارڈیکر ہاف (وی اورڈ لورنسکوگ)پھیرسینڈ برگ (لبرل لسٹینے پارٹی)گیئر لیپسٹاڈ (سینٹروم پارٹی)سینئر سیاستدان سید یوسف گیلانی نے خطاب کیا ۔

نارویجن سیاستدانوں نے اپنی پارٹی کا منشور پیش کیا اور پاکستانی کمیونٹی کو جشن آزادی کی مبارک باد دی پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمر اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور نارویجن مہمانوں کا شکریہ بھی ادا کیاجوہمارے قومی دن جشن آزادی کے پروگرام میں شامل ہو کر اس قومی دن کو ہمارے ساتھ منا رہے ہیں چوہدری قمر اقبال نے اپنی کمیونٹی کو بھی خوش آمدید کہا اور انکو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 75واں یوم آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ میں پاکستانی بھائیوں کو پاکستان کا تاریخی پس منظر مختصر بیان کروں گا لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی خان کو بچھڑے ستر برس بیت گئےچوہدری رحمت علی خان کو نہ صرف محب وطن سیاسی رہنما بلکہ پہلا پاکستانی کہلانے کا اعزاز بھی حاصل ہے چودھری رحمت علی خان 16نومبر1897کو مشرقی پنجاب کےضلع ہوشیار پور کےگائوں مو ہراں میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم انہوں نےایک مکتب سےحاصل کی جو ایک عالم دین چلا رہےتھے۔میٹرک اینگلو سنسکرت ہائی اسکول جالندھر سےکیا۔

1914میں مزید تعلیم کےلئےلاہور تشریف لائےانہوں نےاسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا میں اسلامیہ کالج میں بزم شبلی کی بنیاد رکھی کیونکہ وہ مولانا شبلی سےبہت متاثر تھےاور پھر اس کےپلیٹ فارم سے1915میں تقسیم ہند کا نظریہ پیش کیا۔ 1918میں بی اےکرنےکےبعد جناب محمد دین فوق کےاخبار کشمیر گزٹ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سےاپنےکیئریر کا آغاز کیا1928میں ایچی سن کالج میں اتالیق مقرر ہوئےکچھ عرصہ بعد انگلستان تشریف لےگئےجہاں کیمبرج اور ڈبلن یونورسٹیوں سےقانون اور سیاست میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں اس طرح 1933میں انہوں نےبرصغیر کےطلباءپر مشتمل ایک تنظیم پاکستان نیشنل لبریشن موومنٹ کےنام سےقائم کی اسی سال چودھری رحمت علی نےدوسری گول میز کانفرنس کےموقع پر اپنا مشہور کتابچہ Now or Never۔۔اب یا کبھی نہیں۔۔۔شائع کیا جس میں پہلی مرتبہ لفظ پاکستان استعمال کیا گیا۔اسی طرح انہوں نے پاکستان، بنگلستان اور عثمانستان کے نام سے تین ممالک کا نقشہ پیش کیا۔پاکستان میں کشمیر، پنجاب دہلی سمیت، سرحد، بلوچستان اور سندھ شامل تھے۔ جبکہ بنگلستان میں بنگال، بہار اور آسام کے علاقے تھے اس کے علاوہ ریاست دکن کو عثمانستان کا نام دیا۔

1935میں انہوں نےکیمبرج سےایک ہفت روزہ اخبار نکالا جس کا نام بھی پاکستان تھاچودھری رحمت علی خان 23مارچ کو آل انڈیا مسلم لیگ کےچونتیسویں سالانہ اجلاس میں لاہور تشریف لانا چاہتےتھےلیکن چند روز قبل خاکساروں کی فائرنگ کی وجہ سےاس وقت کےوزیر اعلیٰ پنجاب جناب سکندر حیات نےچوہدری رحمت علی خان کےپنجاب میں داخلےپر پابندی عائد کر دی ۔وہ 1947ء میں اقوام متحدہ گئے اور کشمیر پر اپنا موقف بیان کیا۔6 اپریل 1948ء میں واپس پاکستان آئے اور پاکستانی بیورہکریسی نے ان کو پاکستان سے واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ 29جنوری1951 کو وہ نمونیہ میں مبتلا ہو کر شدید بیماری کی حالت میں انگلستان کےایک مقامی نرسنگ ہوم میں داخل ہو گئےلیکن صحت یاب نہ ہو سکے اور 3فروری1951کو اپنےخالق حقیقی سےجا ملی۔ چودھری رحمت علی خان کا جسد خاکی انگلستان کےشہر کیمبرج کےقبرستان میں امانتاً دفن ہےاور ان کے جسد خاکی کو پاکستان کی کسی بھی حکومت نےواپس لانے کی کوشش نہیں کی اور اگر کی ہے تو عام لوگوں نے ہم نے 2020 میں وزیراعظم عمران خان کو لیٹر بھیج کر اپیل کی کہ لفظ پاکستان کے خالق کے جسد خاکی کو پاکستان اسلام آباد منتقل کیا جائے۔

چوہدری قمر اقبال نے کہا کہ میں اب اپنے قائد جناح صاحب کی منفرد باتیں کروں گا جناح صاحب کا پورا نام محمد علی جناح بھائی تھا آپ نے سیاسی زندگی کا آغاز کانگریس انڈین پارٹی سے کیا اور پھر بعد میں آل مسلم لیگ میں شامل ہوگئے پھر آل مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے مابین کردار ادا کیا پھرایک وقت آیا کہ وہ واپس برطانیہ چلے گئے اورعلامہ اقبال صاحب نے جناح صاحب کو واپس پاکستان لانے پر آمادہ کیا کہ آپ آل مسلم لیگ کی تشکیل نوکرنے میں اپنا کردار ادا کریں پھر انہوں نے آل مسلم لیگ کی تشکیل نو کی اور پھر اس طرح یہ مسلمانوں کی ایک مقبول ترین جماعت بن گئی ان کی جدوجہد جاری رہی قائداعظم جناح صاحب نے اور ان کے ساتھیوں نے انتھک محنت اور جدوجہد کی اور ہمارے لاکھوں کی تعداد میں پیاروں نے جن میں بزرگ مردعورتیں اوربچوں نے اپنی زندگی کا نذرانہ دیا ان کی قربانی دینے کے بعد تب جا کر یہ پیارا وطن پاکستان ہمیں حاصل ہوا میں آج اس قومی دن کے موقع پر اپنے تمام قومی ہیروز اور اپنے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اورآخر میں یوم آزادی منانا کیوں ضروری ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل اپنی ثقافت کلچر اور پاکستان میں اپنے رشتوں سے جڑیں رہے اور اس کے ساتھ ناروےاور پاکستان کے مابین ایک مضبوط تعلق اور یورپ میں پاکستان کا امیج بہتر کرنے میں مدد مل سکے ۔

چوہدری قمر اقبال نےاپنے ان بزرگوں اور بھائیوں کو جنہوں نے 70 کی دہائی میں ناروے کی ترقی میں ایک اہم رول ادا کیا تھا کہا کے میں ان بزرگوں اور بھائیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ میں اپنی پاکستان یونین ناروے کی پوری ٹیم مخلص ساتھیوں اور اپنی پوری پاکستانی کمیونٹی کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں آخر میں چوہدری قمر اقبال نے کہا کے ہمارے عزیز دوست اور بھائی پروفیسر ڈاکٹر سید سبطین شاہ اس بار پاکستان یونین ناروے کے پروگرام میں شریک نہیں ہوسکے وہ آج کل پاکستان میں ایک یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ ہیں اور میری ٹائم پر تحقیق کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر ہیں ہم ان کی مزید کامیابیوں کے لئے دعا گو ہیں چوہدری قمر اقبال نےکہا کہ ڈاکٹر سید سبطین شاہ نے جشن آزادی کے موقع پر تمام شرکاءکومبارکباد دی ہیں اورنیک خواہشات کا اظہار کیا ہے تقریب میں چوہدری قمر اقبال نے سینئر صحافی قذافی زمان، سینئر سیاستدان سید یوسف گیلانی ،ملک ابرار (سینٹروم پارٹی )اور نواز خان (لیبر پارٹی)کو پھول پیش کیے جب کہ انسانیت کی خدمت کا ایوارڈ امداد ریلیف کی ٹیم محمد عامر شاکر،قیوم ملک ،زعیم شوکت ،راشد گلزار، زاہد یاسین اور ڈاکٹر نوخیز امن کو دیا اس تقریب میں سفیر پاکستان ظہیر پرویز خان کو بھی ایوارڈ دیا جاتا تھا لیکن وہ اپنے کام کی مصروفیت کی وجہ سے اس تقریب میں شامل نہیں ہو پائے ان کو یہ ایوارڈ پاکستانی کیمونٹی کے لیے اچھی خدمات اور کشمیر ایشو پر آواز اٹھانے اور اپنے تین سالہ کارکردگی کو بہتر طریقے سے پرفارم کرنے پر دیے جانا تھا لیکن اب یہ ایوارڈ سفیر پاکستان کو انکے آفس میں دیا جائے گاتقریب میں پاکستان میں ٹوارزم کےاحوالے سے مبین الرحمن ہیری ٹیج ورثہ گجرات کا ویڈیو پیغام بھی دکھایا گیا۔تقریب میں سید زکی شاہ،شہزاد غفور بٹ،ملک پرویز چوہدری ،اصغر ڈھکرچوہدری، اکرم سیکریالی، حاجی اشرف سرفراز، گوندل میاں بشیر، غلام سرور میر، ناصر عمران خان، شیخ طارق محمود آف لالہ موسی، شیخ فواد انور چوہدری اظہر اقبال رندھیر منشا خان اور دیگر کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes