کیا کرپٹو کرنسی کا دور آنے والا ہے؟ چینی بزنس مین امریکہ کا رخ کیوں کرنے لگے

لندن (کشمیر لنک نیوز) ویسے تو عالمی منڈیوں کے حالات وقت کیساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں تاہم کورونا وبا کے دوران جس طرح کی غیر یقینی صورتحال رہی اس نے انسان کو ڈرا سا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے حساس لوگ کسی بھی وقت کسی انہونی کے ڈر کا شکار رہنے لگے ہیں۔ کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے منسلک لوگ اس سلسلے میں کچھ زیادہ متحرک ہیں۔

ال سلواڈور میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں کیونکہ ملک سات ستمبر کو بٹ کوائن کو قانونی ٹینڈر کے طور پر تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بننے کی تیاری کر رہا ہے۔حکومت نے اس اقدام کو معاشی ترقی اور روزگار کے فروغ کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایک حالیہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ال سلواڈور کے لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں اور عالمی بینک نے اسے اپنانے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

قانون لاگو ہوتے ہی ملک کے کاروباری ادارے اسے قبول کرنے کے پابند ہوں گے کہ بطور ادائیگی یا تو وہ یہ قبول کریں یا امریکی ڈالر جو کہ ملک کی دوسری سرکاری کرنسی ہے۔ال سلواڈور میں 200 سے زائد نئی کیش مشینیں نصب کی جا رہی ہیں تاکہ ڈالر کو بٹ کوائن میں تبدیل کیا جا سکے۔

دوسری جانب دنیا کی ذہین ترین چینی قوم کے وہ باشندے جو اس کاروبار سے منسلک ہیں دھڑا دھڑ امریکہ کا رخ کررہے ہیں۔ دراصل چین میں کرپٹو کرنسی کی مائننگ پر پابندی نے بٹ کوائن کے کاروباریوں کو بیرون ملک کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ ٹیکسس جا رہے ہیں جو تیزی سے مستقبل کا عالمی کرپٹو کرنسی کیپیٹل بن رہا ہے۔

جب چین نے مئی میں بٹ کوائن مائننگ اور ٹریڈنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تو چینی کرپٹو کرنسی مائننگ کمپنی “پول ان“ کے سی ای او کیون پین اگلے دن ہی ملک سے باہر جانے والی فلائٹ پر سوار ہو گئے۔ انکا کہنا تھا ہم نے ہمیشہ کے لیے باہر جانے کا فیصلہ کرلیا۔ہم پھر کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ پول ان کے نائب صدر الیجینڈرو ڈی لا ٹوریس نے کہاہمیں بٹ کوائن مائننگ مشینوں کے لیے ایک نئے گھر کی تلاش ہے۔ کیونکہ ہر منٹ جب مشین آن نہیں ہے تو وہ پیسہ نہیں کما رہی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بہت سی چینی بٹ کوائن کمپنیوں نے استحکام اور مواقع کے لیے ٹیکساس کی طرف دیکھنا شروع کیا ہے۔ شینزین میں قائم بی آئی ٹی مائننگ کمپنی نے ریاست میں ڈیٹا سینٹر بنانے کے لیے 26 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ بیجنگ میں قائم بٹ مین ٹیکسس کے راک ڈیل میں اپنی سہولیات میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ چھوٹا سا قصبہ جس میں تقریبا 5،600 باشندے رہتے ہیں وہاں کبھی دنیا کے سب سے بڑے ایلومینیم پلانٹس میں سے ایک ہوا کرتا تھا اور اب یہ بٹ کوائن مائنرز کے اگلے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں