بہتر مستقبل کیلئے پولینڈ پہنچنے والے دو افغان مہاجر زہریلی کھمبیاں کھانے سے ہلاک، تحقیقات کا آغاز – Kashmir Link London

بہتر مستقبل کیلئے پولینڈ پہنچنے والے دو افغان مہاجر زہریلی کھمبیاں کھانے سے ہلاک، تحقیقات کا آغاز

وارسا (کشمیر لنک نیوز) پولینڈ میں زہریلی کُھمبی (مشروم) کھانے سے 2 افغان مہاجربچے جاں بحق ہوگئے تفصیلات کے مطابق حال ہی میں افغانستان سے انخلا کرنے والے ایک خاندان کا ایک اور 6 سالہ بچہ جنگلی کھمبی کھانے سے جاں بحق ہوگیا۔ ایک روز قبل ہی اس بچے کا 5 سالہ بھائی بھی زہریلی کھمبی کھانے سے چل بسا تھا۔۔ مہاجرکیمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ واقعے کے بعد کیمپ میں موجود تمام افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنگلی کھمبی کسی صورت میں نہ کھائیں۔

متاثرہ خاندان پولینڈکے دارالحکومت وارسا کے قریب واقع ایک مہاجرکیمپ میں رہائش پذیر ہے۔رپورٹ کے مطابق دونوں بھائیوں کو زہریلی کھمبی کھانے کے 2 روز بعد 26 اگست کو جگر کی خرابی کے باعث تشویش ناک حالت میں بچوں کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ متاثرہ خاندان وارسا کے قریب جس مہاجر کیمپ میں رہائش پذیر ہے وہ ایک جنگل کے قریب واقع ہے اور وہیں سے بچوں کو زہریلی کھمبی ملی تھی۔حال ہی میں جان کی بازی ہارنے والے 6 سالہ بچے کے جگر کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) بھی کی گئی تھی اور آپریشن کو کامیاب قرار دیا جارہا تھا تاہم گذشتہ 48 گھنٹوں میں اس کی حالت بگڑتی جارہی تھی۔

دوسری جانب ڈاکٹروں کے مطابق5 سالہ چھوٹے بھائی کا دماغ بری طرح متاثر ہوا تھا جس کے باعث اس کا ٹرانسپلانٹ کرنا ممکن نہیں تھا، وہ گذشتہ روز ہی انتقال کرگیا تھا۔اسی خاندان کی ایک 17 سالہ لڑکی بھی زہریلی کھمبی کھانے سے متاثر ہوئی تھی تاہم اس کی حالت سنبھل گئی اور اسے علاج کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔ خیال رہے کہ پولش آرمی نے حال ہی میں افغانستان میں نیٹو کے ساتھ کام کرنے والے ایک ہزار24 افراد کو پولینڈ منتقل کیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں مختلف رپورٹس آرہی ہیں جن کے مطابق متاثرہ فیملی اس لیے کھمبی کھانے پر مجبور ہوئی کیونکہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا جب کہ مہاجر کیمپ کی انتظامیہ نے اس کی تردید کرتے ہوئےکہا ہےکہ تمام مہاجر خاندانوں کو 3 وقت کا مکمل کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ پولش پولیس نے زہر خورانی کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔رپورٹ کے مطابق پولینڈ میں 12 ہزار سے زائد انواع کی کھمبیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے 250 کے قریب زہریلی ہیں اور بعض جان لیوا بھی ہوتی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes