شدت پسند اسلام آج بھی پوری دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، ٹونی بلیئر کا نائن الیون کے حوالے سے خطاب – Kashmir Link London

شدت پسند اسلام آج بھی پوری دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، ٹونی بلیئر کا نائن الیون کے حوالے سے خطاب

لندن (مبین چوہدری) سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیرز نے خبر دار کیا ہے کہ دو دہائیوں تک مسلم انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے باوجود آج بھی پرامن دنیا کیلئے یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نائن الیون کی بیسویں برسی کے سلسلے میں ہونے والی ایک تقریب میں کیا جسکا اہتمام برطانوی تھنک ٹینک روسی نے کیا تھا۔

ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ جہادی گروپوں کی جانب سے درپیش خطرہ بدتر ہوتا جارہا ہے۔ دو دہائیوں تک بنیاد پرست اسلام سے پوری دنیا کے برسرپیکار رہنے کے باوجود اب بھی یہ دنیا کے لیے پہلے درجے کا خطرہ ہے۔ انکا مزید کہنا تھا اسلام ازم، نظریہ اور تشدد دونوں پہلے درجے کا سکیورٹی خطرہ ہے اور اگر اس کا نوٹس نہیں لیا گیا تو یہ ہم تک پہنچ جائے گی اگرچہ اس کا مرکز ہم سے دور ہی کیوں نہ ہوں جیسا کہ نائن الیون میں ہوا۔

ٹونی بلیئر کا کہنا تھا دنیا کی بڑی طاقتوں کو متحد ہو کر ایک لائحہ عمل پر متفق ہونا پڑے گا۔ ان کے مطابق روس اور چین کا بشمول مشرق وسطیٰ اور دوسرے خطے کے کئی مسلمان ممالک کی اس کو روکنے میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے شیعہ ایران اور اخوان سے لے کر القاعدہ اور داعش جیسی سنی گروپوں کی جانب سے درپیش بنیاد پرستی کے خطرے کو اجاگر کیا۔

واضع رہے رہے 20 سال قبل جب طالبان نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو بلیئر نے برطانیہ کو امریکہ کے ساتھ افغان جنگ میں لے گیا تھا۔بلیئر نے اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے وعدہ کیا تھا کہ برطانیہ ان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور 2003 کے عراق جنگ میں شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ اب پھر انہوں نے انہوں نے اپنی اس دیرینہ رائے کا اعادہ کیا کہ جہادی خطرے کو ’نرم اور سخت طاقت‘ کے مجموعے کے ذریعے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔

ٹونی بلیئر نے دلیل دی کہ ایسے کئی واقعات ہیں جہاں آپ کو زمین پر فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر وقت مقامی فورسز پر انحصار ممکن نہیں ہوتا۔امریکی صدر بائیڈن کی افغان پالیسی پر اپنی تنقید کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سابق برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ جو بائیڈن کا بڑا احترام کرتے ہیں تاہم یہ ہمیشہ کی جنگ کے خاتمے کا عزم پالیسی بنانے کا صیحح طریقہ نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes